سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث نبوی حجت ہے
ترقیم الباني: 821 ترقیم فقہی: -- 317
-" أتاني جبريل عليه الصلاة والسلام، فأخبرني أن أمتي ستقتل ابني هذا (يعني الحسين) ، فقلت: هذا؟ فقال: نعم، وأتاني بتربة من تربته حمراء".
سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے رات کو قبیح خواب دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: وہ بہت سخت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آخر وہ ہے کیا؟“ اس نے کہا: مجھے ایسے لگا کہ آپ کے جسم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں پھینگا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے عمدہ خواب دیکھا ہے، (اس کی تعبیر یہ ہے کہ ان شاء اللہ میری بیٹی) فاطمہ کا بچہ پیدا ہو گا۔“ واقعی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بچہ حسین پیدا ہوا جو میری گود میں تھا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور حسین کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے . میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کیا ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے بتلایا کہ میری امت میرے اس بیٹے کو قتل کرے گی۔“ میں نے کہا: یہ بیٹا (حسین)؟ انہوں نے کہا: ”ہاں، وہ میرے پاس اس علاقے کی سرخ مٹی بھی لائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 317]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 821
اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں
ترقیم الباني: 181 ترقیم فقہی: -- 318
-" لا طاعة" لبشر" في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک آدمی کو امیر مقرر کیا۔ اس امیر نے آگ جلائی اور کہا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ کچھ لوگوں نے (امیر کی اطاعت کرتے ہوئے) واقعی داخل ہونے کا ارادہ کر لیا، دوسروں نے کہا: ہم نے (اسلام قبول کر کے تو) آگ سے دور بھاگنے کی کوشش کی ہے (اور اب . . . .)۔ جب یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا، جو داخل ہونا چاہتے تھے: ”اگر تم آگ میں داخل ہو جاتے تو روز قیامت تک وہیں ٹھہرنا پڑتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کی تعریف کی اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی بشر کی اطاعت نہیں کی جاتی، اطاعت تو نیکی کے کاموں میں ہوتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 318]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 181
دلائل کو دیکھا جائے، نہ کہ انداز خطابت کو
ترقیم الباني: 1013 ترقیم فقہی: -- 319
-" إن أخوف ما أخاف على أمتي كل منافق عليم اللسان".
ابوعثمان نہدی کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر اس منافق کا ہے جو زبان آور ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 319]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1013
کتاب اللہ اور اہل بیت معیار حق ہیں
ترقیم الباني: 1761 ترقیم فقہی: -- 320
-" يا أيها الناس! إني قد تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا، كتاب الله وعترتي أهل بيتي".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران حج عرفہ والے دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی ”قصوا“ پر سوار ہو خطاب کر رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”لوگو! میں تم میں ایسی (دو) چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم نے ان کو تھامے رکھا تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے: ?? اللہ کی کتاب اور ② اپنی نسل یعنی اہل بیت۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 320]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1761
دنیوی معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کی حیثیت
ترقیم الباني: 3977 ترقیم فقہی: -- 321
- (إذا كانَ شيءٌ من أمرِ دُنياكم؛ فأنتُم أعلمُ به، فإذا كانَ من أمر دينكم؛ فإليَّ) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں اور پوچھا: ”یہ (آوازیں) کیسی ہیں؟“ انہوں نے کہا: لوگ کھجوروں کی تلقیح کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اس کو ترک کر دیں اور تلقیح نہ کریں تو اچھا ہو گا۔“ پس انہوں نے اس عمل کو چھوڑ دیا اور تلقیح نہ کی، (جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ردی اور ناکارہ کھجوریں پیدا ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟“ انہوں نے کہا: صحابہ نے آپ کے کہنے پر یہ عمل نہیں کیا تھا (جس کی وجہ سے یہ نقصان ہو گیا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارا کوئی دنیوی معاملہ ہو تو تم خود اس کے بارے میں زیادہ (بہتر) جانتے ہو، ہاں اگر دین کا معاملہ ہو تو میری طرف لایا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 321]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3977
خلیفہ راشد کی اطاعت کا حکم
ترقیم الباني: 937 ترقیم فقہی: -- 322
-" قد تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدي إلا هالك ومن يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بما عرفتم من سنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ وعليكم بالطاعة وإن عبدا حبشيا، فإنما المؤمن كالجمل الأنف حيثما قيد انقاد".
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ کیا کہ آنکھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے، پس آپ ہمیں کیا وصیت فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو سفید (اور روشن شریعت) پر چھوڑا ہے، جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اب وہی گمراہ ہو گا جو ہلاک ہونے والا ہے، تم میں سے جو بھی زندہ رہا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، پس اپنی معرفت کے مطابق میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا اور اس کو مضبوطی سے تھام لینا، اور (خلیفہ کی) اطاعت تم پر لازم ہو گی، اگرچہ وہ کوئی حبشی غلام ہو، بیشک مومن نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہے، جس (کی نکیل یا لگام یا رسی) پکڑ کر اس کو جدھر چلایا جاتا ہے، وہ چل پڑتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 322]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 937
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اختلاف و افتراق کی پیش گوئی
ترقیم الباني: 3256 ترقیم فقہی: -- 323
- (قدِ اختلفتُم وأنا بين أظهُركم، وأنتُم بعدِي أشدُ اختلافاً) .
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لئے لفظ ”دخان“ چھپایا، پھر اس سے اس کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے لفظ ”دخ“ کہہ کر جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذلیل ہو جا، تو ہرگز اپنے درجے (اور حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔“ جب وہ چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس نے کیا جواب دیا تھا؟“ بعض نے کہا: اس نے لفظ ”دخ“ کہا، جبکہ بعض نے کہا: کہ اس نے لفظ ”زخ“ کہا:۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری موجودگی میں اختلاف میں پڑ گئے ہو اور میرے بعد بہت زیادہ اختلاف کرنے والے ہو گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 323]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3256
صحابہ کا کہنا کہ فلاں عمل ”سنت“ ہے
ترقیم الباني: 2622 ترقیم فقہی: -- 324
-" أصبت السنة، قاله عمر لعقبة وقد مسح من الجمعة إلى الجمعة على خفيه وهو مسافر".
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انہوں نے پوچھا: کیا ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 324]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2622
صحابہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے خواب بیان کرنا، ایک خواب اور اس کی تعبیر... کون سی تعبیر نہ کی جائے؟
ترقیم الباني: 121 ترقیم فقہی: -- 325
-" أصبت بعضا وأخطأت بعضا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک خواب دیکھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائباں ہے، اس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ اس سے چلو بھر رہے ہیں، کوئی زیادہ لے رہا ہے اور کوئی کم۔ ادھر ایک رسی ہے، جو زمین سے آسمان تک پہنچ رہی ہے۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے، پھر ایک دوسرے آدمی نے اس کو پکڑا اور وہ بھی چڑھ گیا، پھر ایک تیسرے آدمی نے پکڑا، اور وہ بھی اوپر چڑھ گیا، پھر ایک آدمی نے اس کو پکڑا لیکن وہ رسی ٹوٹ گئی، پھر اس کو جوڑا گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی تعبیر بیان کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ٹھیک ہے) تم اس کی تعبیر بیان کرو۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: سائبان اسلام ہے اور اس سے ٹپکنے والے شہد اور گھی سے مراد قرآن اور اس کی مٹھاس ہے۔ پس کوئی قرآن کا زیادہ حصہ سیکھنے والا ہے اور کوئی کم اور جو آسمان سے زمین تک پہنچنے والی رسی ہے، وہ حق ہے، جس پر آپ قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے ذریعے سربلند فرمائے گا. پھر اس کو ایک آدمی پکڑے گا، وہ بھی اس کے ساتھ بلندی پر فائز ہو گا، پھر اس کو ایک دوسرا آدمی پکڑے گا وہ اس کے ساتھ بلند ہو گا، پھر اس کو تیسرا آدمی پکڑے گا، پس وہ ٹوٹ جائے گا۔ پھر اس کو جوڑا جائے گا، پھر وہ اس کے ساتھ بلند ہو گا۔ اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بتلائیے میری یہ بیان کردہ تعبیر صحیح ہے یا غلط؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض حصہ درست بیان کیا اور بعض میں غلطی کی۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ضرور میری غلطی کو بیان کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! قسم نہ اٹھاؤ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 325]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 121
قراء کی مذمت
ترقیم الباني: 750 ترقیم فقہی: -- 326
-" أكثر منافقي أمتي قراؤها".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اکثر منافق قراء ہوں گے۔“ یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمرو، سیدنا عقبہ بن عامر سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عصمہ بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 326]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 750