سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
شراب برائیوں کی جڑ ہے، شراب کی نہوست
ترقیم الباني: 2039 ترقیم فقہی: -- 1213
-" كل مخمر خمر، وكل مسكر حرام، ومن شرب مسكرا بخست صلاته أربعين صباحا، فإن تاب تاب الله عليه، فإن عاد الرابعة كان حقا على الله أن يسقيه من طينة الخبال، قيل: وما طينة الخبال؟ قال: صديد أهل النار، ومن سقاه صغيرا لا يعرف حلاله من حرامه، كان حقا على الله أن يسقيه من طينة الخبال".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز ”خمر“ ہے اور نشہ آور چیز حرام ہے، جس نے نشہ آور مشروب پیا تو چالیس روز اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا۔ اگر اس نے چوتھی دفعہ شراب پی لی تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے، وہ اسے «طينة الخبال» سے پلائے۔“ کہا: گیا کہ «طينة الخبال» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کی خون ملی پیپ۔ جس آدمی نے کسی ایسے بچے کو شراب پلائی جو حلال و حرام بھی نہیں جانتا تھا تو اللہ پر حق ہے کہ اسے «طينة الخبال» سے پلائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1213]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2039
ترقیم الباني: 1854 ترقیم فقہی: -- 1214
-" الخمر أم الخبائث ومن شربها لم يقبل الله منه صلاة أربعين يوما، فإن مات وهي في بطنه مات ميتة جاهلية".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراب، خباثتوں کی جڑ ہے، جس نے شراب پی، چالیس روز اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، وہ آدمی جاہلیت کی موت مرے گا، جس کے پیٹ میں مرتے وقت شراب ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1214]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1854
ترقیم الباني: 1853 ترقیم فقہی: -- 1215
-" الخمر أم الفواحش وأكبر الكبائر، من شربها وقع على أمه وخالته وعمته".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراب بے حیائیوں کی جڑ ہے اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے، جو اس کو پئے گا وہ اپنی ماں، خالہ اور پھوپھی سے زنا کر بیٹھے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1215]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1853
ترقیم الباني: 2634 ترقیم فقہی: -- 1216
-" من شرب الخمر في الدنيا ولم يتب لم يشربها في الآخرة وإن أدخل الجنة".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ نہ کی تو وہ آخرت میں ( یہ مشروب) نہیں پی سکے گا، اگرچہ جنت میں داخل بھی ہو جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1216]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2634
حد والے گناہ سے توبہ کی اہمیت، ٹیکس وصول کرنا بڑا گناہ ہے
ترقیم الباني: 3238 ترقیم فقہی: -- 1217
- (لقد تاب توبةً، لو تابها صاحب مُكسٍ؛ لقُبِلت منه) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی (عظیم) توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس وصول کنندہ ایسی توبہ کر لے تو اس سے بھی قبول کر لی جائے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1217]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3238
اختلاف کی صورت میں راستے کی چوڑائی سات ہاتھ رکھی جائے
ترقیم الباني: 3960 ترقیم فقہی: -- 1218
- (إذا اختلفتم في الطريق؛ جُعلَ عَرضهُ سبعَ أذرعٍ) .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم راستے (کی چوڑائی کے بارے) اختلاف میں پڑ جاؤ تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ رکھی جائے گی۔“ یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا انس بن مالک اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1218]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3960
اللہ تعالیٰ اور آقا دونوں کے حقوق ادا کرنے والے غلام کی فضیلت
ترقیم الباني: 728 ترقیم فقہی: -- 1219
-" إذا أدى العبد حق الله وحق مواليه كان له أجران".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی غلام، اللہ تعالیٰ اور اپنے آقا، دونوں کے حقوق ادا کرتا ہے تو اسے دو اجر ملتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1219]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 728
وہ قسم ممنوع ہے، جس سے اہل و عیال کو تکلیف ہوتی ہے
ترقیم الباني: 1229 ترقیم فقہی: -- 1220
-" إذا استلج أحدكم باليمين في أهله فإنه آثم له عند الله من الكفارة التي أمره بها".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے اہل کے معاملے میں کوئی قسم اٹھائے اور (بزعم خود) سچا بنتا پھرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت گنہگار ہو گا، اس کفارہ سے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1220]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1229
ایک سے زائد فریقوں میں فیصلہ کیسے کیا جائے؟
ترقیم الباني: 1300 ترقیم فقہی: -- 1221
-" إذا جلس إليك الخصمان فلا تقض بينهما حتى تسمع من الآخر كما سمعت من الأول، فإنك إذا فعلت ذلك تبين لك القضاء".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تیرے پاس دو مخالف (فریق جھگڑا لے کر) آئیں تو (ایک کی بات سن کر) فیصلہ نہ کر یہاں تک کہ دوسرے کی بات سن لے، اگر تو نے ایسا کیا تو تیرے لیے فیصلہ کرنا واضح ہو جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1221]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1300
فیصلہ کرتے وقت انصاف کرنا
ترقیم الباني: 469 ترقیم فقہی: -- 1222
-" إذا حكمتم فاعدلوا وإذا قتلتم فأحسنوا، فإن الله محسن يحب المحسنين".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم فیصلہ کرو تو انصاف کرو اور جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والا ہے اور احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1222]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 469