🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ہر کوئی اپنے جرم کا ذمہ دار خود ہو گا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 988 ترقیم فقہی: -- 1243
-" لا تجني نفس على أخرى".
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی کے حق میں برا نہیں کر سکتا (‏‏‏‏یعنی ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1243]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 988

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسلمان کی بےعزتی کرنا سب سے بڑی زیادتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3950 ترقیم فقہی: -- 1244
- (إن أربى الربِّا: استطالةُ المرءِ في عرضِ أخيهِ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی عزت پر دست درازی کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1244]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3950

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
قرض دار کو اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1000 ترقیم فقہی: -- 1245
-" إن الله مع الدائن (أي المديون) حتى يقضي دينه ما لم يكن فيما يكره الله".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ قرض لینے والے کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ قرض ادا کر دے، الا یہ کہ اس قر ضے کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ چیزوں سے ہو۔“ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اپنے خزانچی کو کہتے تھے: تو جا اور کہیں سے میرے لیے قرضہ لے آ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سننے کے بعد میں نہیں چاہتا کہ رات گزاروں مگر اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1245]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1000

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
میدان حشر میں قرضوں کے معاملات کا تصفیہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 437 ترقیم فقہی: -- 1246
-" من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فقد ضاد الله في أمره، ومن مات وعليه دين فليس ثم دينار ولا درهم ولكنها الحسنات والسيئات، ومن خاصم في باطل وهو يعلم لم يزل في سخط الله حتى ينزع، ومن قال في مؤمن ما ليس فيه حبس في ردغة الخبال حتى يأتي بالمخرج مما قال".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی سفارش، اللہ تعالیٰ کی کسی حد کے لیے رکاوٹ بن گئی، اس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی۔ جو آدمی مقروض ہو کر مرا، تو (‏‏‏‏ وہ یاد رکھے کہ) روز قیامت درہم و دینار کی ریل پیل نہیں ہو گی، وہاں تو نیکیوں اور برائیوں کا تبادلہ ہو گا۔ جس نے دیدۂ دانستہ باطل کے حق میں جھگڑا کیا وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب میں رہے گا جب تک باز نہیں آتا۔ جس نے مومن پر ایسے جرم کا الزام لگایا جو اس میں نہیں پایا جاتا اسے «ردغة الخبال» (‏‏‏‏جہنمیوں کے پیپ) میں روک لیا جائے گا، حتیٰ کہ ایسی نیکی کرے جو اسے وہاں سے نکال سکے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1246]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 437

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اگر قرض خواہ قرضے چکانے کا عزم رکھتا ہو تو . . .
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3017 ترقیم فقہی: -- 1247
- (مَنْ حَمَلَ مِنْ أُمَّتي دَيْناً؛ ثُمَّ جَهَدَ في قضائِهِ فماتَ ولم يَقْضِهِ فأنا وَلِيَّهُ) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے جس فرد نے قرضہ لیا اور پھر اس کی ادائیگی کے لیے کوشش کی، لیکن چکانے سے پہلے مر گیا تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1247]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3017

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2822 ترقیم فقہی: -- 1248
-" من كان عليه دين ينوي أداءه كان معه من الله عون وسبب الله له رزقا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس آدمی پر قرضہ ہو اور وہ قرضہ چکانے کا ارادہ بھی رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے ساتھ ایک مددگار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لیے رزق کے اسباب پیدا کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1248]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2822

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آگ کے ساتھ عذاب دینا منع ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 487 ترقیم فقہی: -- 1249
-" إنه لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار".
عبدالرحمٰن بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے (چڑیا کی طرح کا) ایک سرخ پرندہ دیکھا، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا۔ سو وہ پرندہ ان کے گرد منڈلانے لگا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور پوچھا: ”اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے رنج پہنچایا ہے؟ اسے اس کے بچے لوٹا دو“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ بستی کس نے جلائی ہے؟“ ہم نے جواب دیا: ہم نے (‏‏‏‏جلائی ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کا عذاب دینا تو آگ کے رب کو ہی سزاوار ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1249]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 487

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1565 ترقیم فقہی: -- 1250
-" إن أنتم قدرتم عليه فاقتلوه ولا تحرقوه بالنار، فإنما يعذب بالنار رب النار".
سیدنا حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم (‏‏‏‏عذرہ قبیلے کے فلاں) آدمی پر قادر آ جاؤ تو اسے قتل کر دینا، آگ کے ساتھ نہیں جلانا، کیونکہ آگ کو پیدا کرنے والا ہی آگ کے ساتھ عذاب دے سکتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1250]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1565

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
پرندوں کو تکلیف دینا بھی منع ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 487 ترقیم فقہی: -- 1251
-" إنه لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار".
عبدالرحمٰن بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے (‏‏‏‏چڑیا کی طرح کا) ایک سرخ پرندہ دیکھا، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، ہم نے یہ بچے پکڑ لیے۔ تو وہ پرندہ ان کے گرد منڈلانے لگا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور پوچھا: ”اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے رنج پہنچایا ہے؟ اسے اس کے بچے لوٹا دو“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ بستی کس نے جلائی ہے؟“ ہم نے جواب دیا: ہم نے (جلائی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کا عذاب دینا تو آگ کے رب کو ہی سزاوار ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1251]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 487

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مشرکوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ پورا کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2191 ترقیم فقہی: -- 1252
-" فوا لهم، ونستعين الله عليهم".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مشرکوں نے مجھے اور میرے باپ کو پکڑ لیا اور ہم سے ایک معاہدہ لیا کہ بدر والے دن ہمارے مقابلے میں لڑائی کے لیے نہیں آنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کا عہد پورا کرو اور ہم ان پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1252]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2191

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں