🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابٌ في الرَّهْنِ فِي الْحَضَرِ:
باب: آدمی اپنی بستی میں ہو اور گروی رکھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2508
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ سورة البقرة آية 283.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا «وإن كنتم على سفر ولم تجدوا كاتبا فرهان مقبوضة‏» اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے تو رہن قبضہ میں رکھ لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: Q2508]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2508
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَهُ بِشَعِيرٍ، وَمَشَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: مَا أَصْبَحَ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا صَاعٌ، وَلَا أَمْسَى، وَإِنَّهُمْ لَتِسْعَةُ أَبْيَاتٍ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ جَو کے بدلے گروی رکھی تھی۔ ایک دن میں خود آپ کے پاس جَو کی روٹی اور باسی چربی لے کر حاضر ہوا تھا۔ میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ آل محمد پر کوئی صبح اور کوئی شام ایسی نہیں آئی کہ ایک صاع سے زیادہ کچھ اور موجود رہا ہو، حالانکہ آپ کے نو گھر تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2508]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کے عوض اپنی زرہ گروی رکھی، اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو کی روٹی اور باسی چربی لے کر حاضر ہوا تھا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر کوئی صبح یا شام ایسی نہیں گزری کہ ان کے پاس ایک صاع سے زیادہ رہا ہو، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نو گھر ہوتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2508]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَنْ رَهَنَ دِرْعَهُ:
باب: زرہ کو گروی رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2509
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ وَالْقَبِيلَ فِي السَّلَفِ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ ہم نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے یہاں قرض میں رہن اور ضامن کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم سے اسود نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا ایک مقررہ مدت کے قرض پر اور اپنی زرہ اس کے ہاں گروی رکھی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2509]
حضرت اعمش سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ابراہیم نخعی کے پاس بیع سلم میں گروی رکھنے اور ضمانت لینے کے متعلق گفتگو کر رہے تھے تو انہوں نے حضرت اسود کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے ایک معین مدت کی ادائیگی تک اناج خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2509]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ رَهْنِ السِّلاَحِ:
باب: ہتھیار گروی رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2510
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ، فَقَالَ: ارْهَنُونِي نِسَاءَكُمْ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا وَأَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ؟ قَالَ: فَارْهَنُونِي أَبْنَاءَكُمْ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْهَنُ أَبْنَاءَنَا فَيُسَبُّ أَحَدُهُمْ؟ فَيُقَالُ: رُهِنَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ هَذَا عَارٌ عَلَيْنَا، وَلَكِنَّا نَرْهَنُكَ الَّأْمَةَ". قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي السِّلَاحَ، فَوَعَدَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعب بن اشرف (یہودی اسلام کا پکا دشمن) کا کام کون تمام کرے گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت تکلیف دے رکھی ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں (یہ خدمت انجام دوں گا) چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ ایک یا دو وسق غلہ قرض لینے کے ارادے سے آیا ہوں۔ کعب نے کہا لیکن تمہیں اپنی بیویوں کو میرے یہاں گروی رکھنا ہو گا۔ محمد بن مسلمہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم اپنی بیویوں کو تمہارے پاس کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں جب کہ تم سارے عرب میں خوبصورت ہو۔ اس نے کہا کہ پھر اپنی اولاد گروی رکھ دو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی اولاد کس طرح رہن رکھ سکتے ہیں اسی پر انہیں گالی دی جایا کرے گی کہ ایک دو وسق غلے کے لیے رہن رکھ دیے گئے تھے تو ہمارے لیے بڑی شرم کی بات ہو گی۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے یہاں رہن رکھ سکتے ہیں۔ سفیان نے کہا کہ لفظ «لأمة» سے مراد ہتھیار ہیں۔ پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے (چلے آئے اور رات کو اس کے یہاں پہنچ کر) اسے قتل کر دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2510]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے کون اٹھتا ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائی ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے میں قتل کروں گا، چنانچہ وہ اس کے پاس گئے اور کہا کہ ہم ایک یا دو «وَسْقٍ» وسق غلہ قرض لینا چاہتے ہیں۔ کعب بن اشرف نے کہا: تم اپنی بیویاں میرے پاس گروی رکھ دو۔ انہوں نے جواب دیا: ہم اپنی بیویاں تیرے پاس گروی کیسے رکھ سکتے ہیں جبکہ تو عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟ اس نے کہا: اپنے بیٹوں کو رہن رکھ دو۔ انہوں نے کہا: ہم اپنے بیٹے کس طرح گروی رکھ سکتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے لوگ انہیں طعنہ دیں گے کہ انہیں ایک یا دو «وَسْقٍ» وسق اناج کے بدلے گروی رکھا گیا تھا؟ اور یہ ہمارے لیے باعث شرمندگی ہے، البتہ ہم تیرے پاس ہتھیار گروی رکھ دیتے ہیں، چنانچہ اس سے یہ وعدہ کر لیا کہ وہ اس کے پاس ہتھیار لے کر آئیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے قتل کر دیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس کے قتل کی خبر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2510]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ:
باب: گروی جانور پر سواری کرنا اس کا دودھ پینا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2511
وَقَالَ مُغِيرَةُ: عَنْ إِبْرَاهِيمَ تُرْكَبُ الضَّالَّةُ بِقَدْرِ عَلَفِهَا وَتُحْلَبُ بِقَدْرِ عَلَفِهَا، وَالرَّهْنُ مِثْلُهُ.
اور مغیرہ نے بیان کیا اور ان سے ابراہیم نخعی نے کہ گم ہونے والے جانور پر (اگر وہ کسی کو مل جائے تو) اس پر چارہ دینے کے بدلے سواری کی جائے (اگر وہ سواری کا جانور ہے) اور (چارے کے مطابق) اس کا دودھ بھی دوہا جائے (اگر وہ دودھ دینے کے قابل ہے) ایسے ہی گروی جانور پر بھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: Q2511]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2511
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:"الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گروی جانور پر اس کا خرچ نکالنے کے لیے سواری کی جائے، دودھ والا جانور گروی ہو تو اس کا دودھ پیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2511]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گروی شدہ جانور پر بقدرِ خرچ سواری کی جا سکتی ہے اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ بھی پیا جا سکتا ہے جبکہ وہ گروی شدہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2511]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2512
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ النَّفَقَةُ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں زکریا نے خبر دی، انہیں شعبی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گروی جانور پر اس کے خرچ کے بدل سواری کی جائے۔ اسی طرح دودھ والے جانور کا جب وہ گروی ہو تو خرچ کے بدل اس کا دودھ پیا جائے اور جو کوئی سواری کرے یا دودھ پئے وہی اس کا خرچ اٹھائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2512]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سواری کا جانور اگر گروی ہے تو بقدرِ خرچ اس پر سواری کی جا سکتی ہے اور اگر دودھ والا جانور گروی ہے تو خرچ کے عوض اس کا دودھ پیا جا سکتا ہے۔ سوار ہونے اور دودھ پینے والے کے ذمے اس کا خرچ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2512]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ الرَّهْنِ عِنْدَ الْيَهُودِ وَغَيْرِهِمْ:
باب: یہود وغیرہ کے پاس کوئی چیز گروی رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2513
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا، وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مدت ٹھہرا کر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2513]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھ دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2513]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ إِذَا اخْتَلَفَ الرَّاهِنُ وَالْمُرْتَهِنُ وَنَحْوُهُ فَالْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ:
باب: راہن اور مرتہن میں اگر کسی بات پر اختلاف ہو جائے یا ان کی طرح دوسرے لوگوں میں تو گواہی پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے، ورنہ (منکر) مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2514
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ،" فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں (دو عورتوں کے مقدمہ میں) لکھا تو اس کے جواب میں انہوں نے تحریر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تھا کہ (اگر مدعی گواہ نہ پیش کر سکے) تو مدعیٰ علیہ سے قسم لی جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2514]
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کوئی معاملہ دریافت کرنے کے لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا تو انہوں نے مجھے بایں الفاظ جواب تحریر کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ ہے کہ قسم اٹھانا مدعی علیہ کے ذمے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2514]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2515
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا فَقَرَأَ إِلَى عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: فَحَدَّثْنَاهُ، قَالَ: فَقَالَ: صَدَقَ لَفِيَّ، وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ؟ قُلْتُ: إِنَّهُ إِذًا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ، ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا إِلَى وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة آل عمران آية 77".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص جان بوجھ کر اس نیت سے جھوٹی قسم کھائے کہ اس طرح دوسرے کے مال پر اپنی ملکیت جمائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔ اس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے (سورۃ آل عمران میں) یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ دنیا کی تھوڑی پونجی خریدتے ہیں آخر آیت تک انہوں نے تلاوت کی۔ ابووائل نے کہا اس کے بعد اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہمارے گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن (ابومسعود رضی اللہ عنہ) نے تم سے کون سی حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے حدیث بالا ان کے سامنے پیش کر دی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ بیان کیا ہے۔ میرا ایک (یہودی) شخص سے کنویں کے معاملے میں جھگڑا ہوا تھا۔ ہم اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ دوسرے فریق سے قسم لی جائے گی۔ میں نے عرض کیا پھر یہ تو قسم کھا لے گا اور (جھوٹ بولنے پر) اسے کچھ پرواہ نہ ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جان بوجھ کر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر نہایت غضبناک ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی۔ اس کے بعد انہوں نے وہی آیت پڑھی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا‏» جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی پونجی خریدتے ہیں۔ آیت «ولهم عذاب أليم» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2515]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جس نے کوئی ایسی قسم اٹھائی جس کے ذریعے سے وہ کسی مال کا مستحق ٹھہرا، حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق نازل فرمائی ہے، پھر انہوں نے درج ذیل آیت تلاوت کی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 77] یقیناً جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالیں۔۔۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ (راوی حدیث ابو وائل کہتے ہیں کہ) اس کے بعد حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور انہوں نے پوچھا کہ ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ تم سے کیا حدیث بیان کر رہے تھے؟ ہم نے ان سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: ٹھیک بات ہے، البتہ یہ آیت میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔ میرے اور ایک شخص کے درمیان کنویں کے متعلق جھگڑا تھا تو ہم نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گواہ پیش کرو یا وہ قسم اٹھا لے۔ میں نے عرض کیا: وہ تو بے پروا قسم کا انسان ہے، اس بات پر قسم اٹھا لے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کسی کا مال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم اٹھائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق نازل فرمائی۔ بعد ازاں انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 77] جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی جھوٹی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں۔۔۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرهن/حدیث: 2515]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»