🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
فقاہت فی الدین اور حسن اخلاق کن لوگوں کی صفات ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 278 ترقیم فقہی: -- 2347
-" خصلتان لا تجتمعان في منافق: حسن سمت، ولا فقه في الدين".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو خوبیاں منافق میں جمع نہیں ہو سکتیں: حسن اخلاق اور دین میں فقاہت۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2347]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 278

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
فقاہت فی الاسلام کی برتری
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3996 ترقیم فقہی: -- 2348
- (أكرم الناس: أتقاهم لله) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔“ صحابہ نے کہا: ہم نے اس کے بارے میں سوال نہیں کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر لوگوں میں سے سب سے زیادہ عزت والے، اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام ہیں، جن کے باپ بھی نبی ہیں، دادا بھی نبی ہیں اور پڑدادا خلیل اللہ ہیں۔“ صحابہ نے کہا: ہمارا سوال اس کے متعلق بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تم عرب کی کانوں (‏‏‏‏ یعنی مختلف لوگوں) کے متعلق سوال کر رہے ہو؟ لوگ تو کانیں ہیں، ان میں سے زمانہ جاہلیت کے بہتر لوگ، اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ انہیں دین کی سمجھ ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2348]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3996

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
صحابہ کے مابین رشتہ اخوت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3166 ترقیم فقہی: -- 2349
- (آخى - صلى الله عليه وسلم - بَين الزُّبَيرِ وبينَ عبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعود) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2349]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3166

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
راستوں میں بیٹھنے کے حقوق
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2501 ترقیم فقہی: -- 2350
-" إياكم والجلوس في الصعدات (وفي رواية: الطرق) فإن كنتم لابد فاعلين، فأعطوا الطريق حقه. قيل: وما حقه؟ قال: غض البصر ورد السلام وإرشاد الضال".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستوں میں بیٹھنے سے بچو، اگر ایسا ضروری طور پر کرنا ہی پڑ جائے تو راستے کو اس کا حق دیا کرو۔“ پوچھا گیا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نگاہ جھکا کر رکھنا، سلام کا جواب دینا اور ناواقف کی رہنمائی کرنا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2350]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2501

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کو کنیت سے پکارنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 44 ترقیم فقہی: -- 2351
-" خياركم من أطعم الطعام".
حمزہ بن صہیب، اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: تو بڑا اچھا آدمی ہے، کاش تجھ میں تین (‏‏‏‏نامناسب) صفات نہ ہوتیں۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کون سی ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے کنیت رکھی ہوئی ہے، حالانکہ تیری اولاد نہیں ہے، تو عرب کی طرف منسوب ہوتا ہے، حالانکہ تو رومی ہے اور تو لوگوں کو کھلانے میں اسراف سے کام لیتا ہے۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کا (‏‏‏‏یہ اعتراض کہ) کہ میں نے کنیت رکھی ہوئی ہے، حالانکہ میرا کوئی لڑکا نہیں ہے (تو اس کا جواب یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود میری کنیت ابویحیٰی رکھی تھی۔ آپ کا (دوسرا اعتراض کہ) میں نے اپنے آپ کو عربوں کی طرف منسوب کر رکھا ہے، حالانکہ میں ان میں سے نہیں ہوں، بلکہ رومی ہوں (‏‏‏‏تو اس کا جواب یہ ہے کہ) میں قبیلہ نمر بن قاسط سے ہوں، رومیوں نے مجھے موصل سے قید کر لیا، میں اس وقت نوجوان تھا اور اپنا نسب پہچانتا تھا اور آپ (‏‏‏‏کا یہ اعتراض کہ) میں کھانا کھلانے میں اسراف کرتا ہوں تو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”تم میں سے بہترین شخص وہ ہے، جو کھانا کھلائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2351]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 44

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شرم و حیا کے فقدان کا انجام
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 684 ترقیم فقہی: -- 2352
-" آخر ما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى، إذا لم تستح فاصنع ما شئت".
سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏پہلی نبوت کے کلام سے لوگوں کو آخری بات یہ ملی ہے کہ جب تو حیاء نہ کرے تو جو چاہے کرتا پھرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2352]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 684

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شرم و حیا کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 940 ترقیم فقہی: -- 2353
-" إن لكل دين خلقا وخلق الإسلام الحياء".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ہر دین کا ایک مزاج ہوتا ہے اور اسلام کا مزاج حیاء ہے۔“ یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2353]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 940

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 495 ترقیم فقہی: -- 2354
-" الحياء من الإيمان والإيمان في الجنة والبذاء من الجفاء والجفاء في النار".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں (‏‏‏‏لے جانے والا) ہے اور بدکلامی و بدزبانی، اکھڑ مزاجی (‏‏‏‏بدخلقی) سے ہے اور اکھڑ مزاجی آگ میں (‏‏‏‏لے جانے والی) ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2354]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 495

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3377 ترقیم فقہی: -- 2355
- (استحيُوا, فإن الله لا يستحي من الحق، لا تأتوا النساء في أدبارهن) .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ تم شرم کرو، بیشک اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا، عورتوں کو پشت سے استعمال مت کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2355]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3377

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اللہ تعالیٰ سے کیسے شرمایا جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 741 ترقیم فقہی: -- 2356
-" أوصيك أن تستحي من الله عز وجل كما تستحي رجلا من صالحي قومك".
سیدنا سعید بن زید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے الله کے رسول! مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو الله تعالیٰ سے اس طرح شرم کر جس طرح تو اپنی قوم کے نیکوکار شخص سے شرماتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2356]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 741

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں