سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
غلام سے پردہ ضروری نہیں
ترقیم الباني: 2868 ترقیم فقہی: -- 2506
-" إنه ليس عليك بأس إنما هو أبوك وغلامك".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام، لے کر آئے جو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایک کپڑا تھا، جب وہ اس کے ساتھ اپنا سر ڈھانپتیں تو پاؤں تک نہیں پہنچتا تھا اور جب پاؤں پر ڈالتیں تو وہ سر تک نہیں پہنچتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پریشانی دیکھی تو فرمایا: ”(اگر پردہ مکمل نہ ہو تو) کوئی حرج نہیں، کیونکہ (یہاں) صرف تیرا باپ اور تیرا غلام ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2506]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2868
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصلحت پسندی
ترقیم الباني: 3589 ترقیم فقہی: -- 2507
- (إنّهم خيروني (بين) أن يسألوني بالفُحشِ، أويُبخّلوني؛ فلستُ بباخِلٍ) .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(درحقیقت) ان لوگوں نے مجھے (دو امور کا) اختیار دیا: یا تو مجھ سے بدتمیزی سے مانگتے یا پھر مجھے بخیل کہتے اور میں بخیل نہیں ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2507]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3589
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رضا مندی یا ناراضگی کی علامت
ترقیم الباني: 3302 ترقیم فقہی: -- 2508
- (إنّي لأعرف غضبكِ ورضاكِ؛، قال: إنّك إذا كنت راضية، قلت: بلى، وربِّ محمد! وإذا كنت ساخطة؛ قلت: لا، وربِّ إبراهيم!) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیری ناراضگی اور رضا مندی کو پہچان لیتا ہوں۔“ وہ کہتی ہیں: میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کیسے پہچان لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم راضی ہوتی ہو تو ”رب محمد کی قسم!“ کہتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو تو ”رب ابراہیم کی قسم! کہتی ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، (لیکن) میں صرف آپ کا نام لینا ہی چھوڑتی ہوں (دل میں کوئی ناراضگی نہیں ہوتی)۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2508]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3302
عوام الناس کی تعریف یا مذمت کی اہمیت
ترقیم الباني: 1740 ترقیم فقہی: -- 2509
-" أهل الجنة من ملأ الله أذنيه من ثناء الناس خيرا، وهو يسمع، وأهل النار من ملأ أذنيه من ثناء الناس شرا، وهو يسمع".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی شخص وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے کانوں کو لوگوں کی طرف سے اچھی تعریف سناتا ہے اور وہ سن رہا ہوتا ہے اور جہنمی وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے کانوں میں لوگوں کی طرف سے شر ڈالتا ہے اور وہ سن رہا ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2509]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1740
چھ مجرم
ترقیم الباني: 542 ترقیم فقہی: -- 2510
-" ثلاثة لا تسأل عنهم: رجل فارق الجماعة وعصى إمامه ومات عاصيا، وأمة أو عبد أبق فمات، وامرأة غاب عنها زوجها قد كفاها مؤنة الدنيا فتبرجت بعده، فلا تسأل عنهم. وثلاثة لا تسأل عنهم: رجل نازع الله عز وجل رداءه، فإن رداءه الكبرياء وإزاره العزة، ورجل شك في أمر الله والقنوط من رحمة الله".
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تین آدمیوں کے (عذاب کے) بارے میں سوال نہ کر (١) ایسا آدمی جو جماعت سے علیحدہ ہو گیا ہو اور امام کی نافرمانی کی ہو اور اسی حالت میں مر گیا ہو (٢) ایسی لونڈی یا غلام جو (اپنے مالک سے) بھاگ گیا ہو اور اسی حالت میں مر گیا ہو اور (٣) ایسی عورت کہ اس کا شوہر اس کے دنیوی اخراجات پورے کر کے غائب ہوا ہو اور وہ (اس کی عدم موجودگی میں) بن سنور کر باہر نکلی ہو۔ ان کے بارے میں تو مت پوچھ۔ اسی طرح تین آدمی ہیں (ان کے عذاب کے بارے میں بھی) مت دریافت کر ( ١) ایسا آدمی جس نے اللہ سے اس کی چادر چھیننے (کی کوشش کی ہو) اور اللہ کی چادر کبریائی ہے اور اس کا ازار عزت (و طاقت) ہے (٢) ایسا آدمی جس نے اللہ کے حکم میں شک کیا ہو اور (٣) ایسا شخص جو اللہ کی رحمت سے ناامید ہو گیا ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2510]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 542
بدکلامی کا نتیجہ
ترقیم الباني: 495 ترقیم فقہی: -- 2511
-" الحياء من الإيمان والإيمان في الجنة والبذاء من الجفاء والجفاء في النار".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء، ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں (لے جانے والا) ہے اور بدکلامی و بدزبانی، اکھڑ مزاجی (اور بدخلقی) سے ہے اور اکھڑ مزاجی آگ میں (لے جانے والی) ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2511]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 495
میدان حشر میں حقوق العباد میں کی گئی کم و کاست کا تصفیہ
ترقیم الباني: 3265 ترقیم فقہی: -- 2512
- (رحِمَ اللهُ عبداً كانت لأخيهِ عندَه مظلمَةٌ في عِرضٍ أو مالٍ، فجاءه فاستحلَّه قبل أن يُؤخذَ، وليس ثمَّ دينارٌ ولا درهمٌ، فإن كانت له حسناتٌ؛ أُخذ من حسناتهِ، وإن لم يكن له حسناتٌ؛ حمَلُوا عليه من سيئاتهم) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس آدمی پر رحم کرے، جس نے اپنے بھائی کی عزت یا مال (کے معاملے میں) ناانصافی کی ہو اور پھر اس کے پاس جا کر معذرت کر لی ہو، قبل اس کے کہ (وہ دن آ جائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو یوں معاملہ حل کیا جائے گا کہ) اگر اس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (مظلوم) لوگ اپنی برائیاں اس پر ڈال دیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2512]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3265
سخت دل لوگ خسارے میں
ترقیم الباني: 456 ترقیم فقہی: -- 2513
-" خاب عبد وخسر لم يجعل الله تعالى في قلبه رحمة للبشر".
عمرو بن حبیب نے سعید بن خالد بن عمرو بن عثمان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا بندہ ناکام و نامراد ہوا جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے نرمی نہیں رکھی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2513]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 456
دنیا میں ہی مظلوم سے معذرت کر نا
ترقیم الباني: 3265 ترقیم فقہی: -- 2514
- (رحِمَ اللهُ عبداً كانت لأخيهِ عندَه مظلمَةٌ في عِرضٍ أو مالٍ، فجاءه فاستحلَّه قبل أن يُؤخذَ، وليس ثمَّ دينارٌ ولا درهمٌ، فإن كانت له حسناتٌ؛ أُخذ من حسناتهِ، وإن لم يكن له حسناتٌ؛ حمَلُوا عليه من سيئاتهم) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے کہ جس نے اپنے بھائی کی عزت یا مال (کے معاملے میں) ناانصافی کی ہو اور پھر اس کے پاس جا کر معذرت کر لی ہو، قبل اس کے کہ (وہ دن آ جائے جس میں) اس کا مؤاخذہ کیا جائے اور جہاں دینار ہو گا نہ درہم۔ (وہاں تو معاملہ یوں حل کیا جائے گا کہ) اگر اس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوئیں تو اس سے نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں، تو (مظلوم) لوگ اپنی برائیاں اس پر ڈال دیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2514]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3265
متقی، ہدایت یافتہ، حاکم، عالم، معزز، غنی اور حقیر لوگوں کی علامات
ترقیم الباني: 3350 ترقیم فقہی: -- 2515
- (سأل موسى ربَّه عن ستِّ خصال؛ كان يظن أنَّها له خالصة، والسابعة لمْ يكن موسى يحبُّها: 1 - قال: يا ربِّ! أي عبادك أتقى؟ قال: الذي يذكر ولا ينسى. 2- قال: فأيُّ عبادك أهدى؟ قال: الذي يتبع الهدى. 3- قال: فأيُّ عبادك أحكم؛ قال: الذي يحكم للناس كما يحكم لنفسه. 4- قال: فأيُّ عبادك أعلم؟ قال: الذي لا يشْبعُ من العلم؛ يجمع علم الناس إلى علمه. 5- قال: فأيُّ عبادك أعزُّ؟ قال: الذي إذا قدر غفر. 6- قال: فأيُّ عبادك أغنى؟ قال: الذي يرضَى بما يُؤتى. 7- قال: فأيُّ عبادك أفقر؟ قال: صاحبٌ منقوصٌ (¬1) . قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ليس الغنى عن ظهر؛ إنّما الغنى غنى النفس، وإذا أراد الله بعبد خيْراً؛ جعل غناه في نفسه، وتقاه في قلبه، وإذا أراد الله بعبد شرّاً جعل فقره بين عينيه)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے چھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا اور ان کا خیال یہ تھا کہ یہ ان کے لیے خاص ہیں اور ساتویں چیز کو موسیٰ علیہ السلام ناپسند کرتے تھے۔ (۱) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! تیرا کون سا بندہ بہت زیادہ متقی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو مجھے یاد رکھتا ہے اور بھولتا نہیں۔“ (۲) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تیرا کون سا بندہ بہت زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو ( میری) ہدایت کی پیروی کرتا ہے۔“ ( ۳) موسیٰ نے کہا: تیرا کون سا بندہ سب سے زیادہ منصف ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو لوگوں کے لیے اسی طرح فیصلہ کرتا ہو، جس طرح اپنی ذات کے لیے فیصلہ کرتا ہے۔“ (٤) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تیرا کون سا بندہ زیادہ علم والا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو علم سے سیر نہیں ہوتا اور لوگوں کے علم کو اپنے علم کی طرف جمع کرتا ہے۔“ (٥) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تیرا کون سا بندہ زیادہ معزز ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو (مقابل پر) قدرت پانے کے بعد معاف کر دے۔“ (۶) موسیٰ نے کہا: تیرا کون سا بندہ بہت زیادہ مالدار ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جسے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) جو کچھ دیا جائے وہ اس پر راضی ہو جائے۔“ (٧) موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تیرا کون سا بندہ سب سے زیادہ فقیر ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جو صاحب (یعنی مالدار اپنے مال کو) کم سمجھنے والا (اور مزید طلب کرنے والا ہو)“۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالداری (اور بے نیازی کو) کو غنی نہیں کہتے، غنی تو دل کا ہوتا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے حق میں خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے نفس میں غنی اور دل میں تقویٰ پیدا کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے حق میں شر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی فقیری کو اس کی پیشانی پر رکھ دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2515]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3350