سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
تسبیح و تحمید اور تہلیل و تکبیر سے گناہ جھڑتے ہیں
ترقیم الباني: 3168 ترقیم فقہی: -- 2997
- (إنَّ سبحان اللهِ، والحمدُ للهِ، ولا إله إلا اللهُ، واللهُ أكبرُ تنفضُ الخطايا كما تنفضُ الشجرةُ ورقَها) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹہنی کو پکڑ کر ہلایا، لیکن سارے پتے نہ گرے، پھر ہلایا لیکن سارے پتے نہ گرے، پھر ہلایا تو سارے پتے گر گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک) «سبحان الله»، «الحمد لله»، «لا اله الا الله» اور «الله اكبر» گناہوں کو اس طرح زا ئل کر دیتے ہیں جس طرح کہ اس درخت (کی شاخ) نے پتوں کو زائل کر دیا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2997]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3168
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امتیوں کے درود کا کیسے علم ہوتا ہے؟
ترقیم الباني: 1530 ترقیم فقہی: -- 2998
-" أكثروا الصلاة علي، فإن الله وكل بي ملكا عند قبري، فإذا صل علي رجل من أمتي قال لي ذلك الملك: يا محمد إن فلان بن فلان صلى عليك الساعة".
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میری قبر کے پاس ایک فرشتہ مقرر کیا ہے، جب میرا امتی مجھ پر درود بھیجتا ہے تو وہ فرشتہ مجھے کہتا ہے: اے محمد! فلاں بن فلاں نے آپ پر ابھی درود بھیجا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2998]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1530
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے درود و سلام کا جواب
ترقیم الباني: 2266 ترقیم فقہی: -- 2999
-" ما من أحد يسلم علي، إلا رد الله علي روحي حتى أرد عليه السلام".
سیدنا! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ہے کوئی آدمی جو میرے لیے سلامتی کی دعا کرتا ہو، مگر اللہ تعالیٰ میری روح مجھ پر لوٹاتے ہیں اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2999]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2266
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کی فضیلت
ترقیم الباني: 829 ترقیم فقہی: -- 3000
-" إنه أتاني ملك، فقال: يا محمد أما يرضيك أن ربك عز وجل يقول: إنه لا يصلي عليك أحد من أمتك إلا صليت عليه عشرا ولا يسلم عليك أحد من أمتك إلا سلمت عليه عشرا؟ قال: بلى".
عبداللہ بن ابوطلحہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر فرحت و مسرت کے آثار نمایاں تھے۔ صحابہ نے کہا: ہم آپ کے چہرے کو پرمسرت محسوس کر رہے ہیں، (کیا وجہ ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس فرشتہ آیا اور کہا: اے محمد! کیا یہ بات آپ کو راضی کر دے گی کہ آپ کے رب نے کہا: آپ کی امت کا جو فرد آپ پر ایک دفعہ درود بھیجے گا میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا اور اپ کی امت کا جو فرد آپ کے لیے سلامتی کی دعا کرے گا میں اس پر دس سلامتیاں نازل کروں گا؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں (یعنی میں راضی ہوں)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3000]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 829
ترقیم الباني: 3268 ترقیم فقہی: -- 3001
- (صلُّوا عليَّ؛ فإنَّ صلاتكم عليَّ زكاةٌ لكُم، وسلُوا الله لي الوسيلة) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لیے باعث برکت ہے اور میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ کا بھی سوال کیا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3001]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3268
ترقیم الباني: 3359 ترقیم فقہی: -- 3002
- (من صلى علي مرة واحدة؛ كتب الله له بها عشر حسنات) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3002]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3359
ترقیم الباني: 3360 ترقیم فقہی: -- 3003
- (من صلى علي من أمتي صلاة مخلصاً من قلبه؛ صلى الله عليه بها عشر صلوات، ورفعه بها عشر درجات، وكتب له بها عشر حسنات، ومحا عنه عشر سيئات) .
سعید بن عمیر انصاری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا جو امتی خلوص نیت سے مجھ پر ایک دفعہ دردد بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس دس رحمتیں نازل کرتا ہے، اس کے دس درجے بلند کرتا ہے، اس کے لیے دس نیکیاں لکھتا ہے اور اس کی دس برائیاں مٹا دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3003]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3360
جمعہ کے روز بکثرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا حکم۔ کیا انبیا و رسل کے اجسام قبروں میں سالم ہیں؟
ترقیم الباني: 1407 ترقیم فقہی: -- 3004
-" أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة وليلة الجمعة، فمن صلى علي صلاة صلى الله عليه عشرا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمہ کے دن اور رات کو کثرت سے مجھ پر درود پڑھا کرو، پس جو آدمی مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3004]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1407
ترقیم الباني: 1527 ترقیم فقہی: -- 3005
-" أكثروا علي من الصلاة يوم الجمعة، فإن صلاتكم معروضة علي. قالو: كيف تعرض عليك وقد أرمت؟ قال: إن الله تعالى حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء".
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے روز مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔“ صحابہ نے پوچھا: آپ پر یہ چیز کیسے پیش کی جائے گی، آپ تو ( مٹی میں) فنا ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام قرار دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3005]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1527
تذکرہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سن کر درود نہ پڑھنے والا راہ جنت سے بھٹک گیا
ترقیم الباني: 2337 ترقیم فقہی: -- 3006
-" من ذكرت عنده، فنسي الصلاة علي، خطئ به طريق الجنة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آدمی جنت کا راستہ بھٹک گیا جس کے سامنے میرا تذکرہ کیا گیا اور وہ مجھ پر درود بھیجنا بھول گیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 3006]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2337