سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ایک ہی سورت کافی تھی
ترقیم الباني: 2172 ترقیم فقہی: -- 2897
-" لو كانت سورة واحدة لكفت الناس".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صفوان بن معطل کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں نماز پڑھتی ہوں تو میرا خاوند صفوان مجھے مارتا ہے اور جب روزہ رکھتی ہوں تو افطار کروا دیتا ہے اور وہ نماز فجر بھی طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہے۔ خود صفوان وہاں موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کی بیوی کی شکایات کے متعلق دریافت کیا تو اس نے کہا: یہ جو کہہ رہی ہے کہ میں اسے نماز پڑھنے پر مارتا ہوں، دراصل بات یہ ہے کہ یہ دو سورتوں کی تلاوت کرتی ہے اور میں نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اگر ایک ہی سورت ہوتی تو وہ بھی تمام لوگ کو کفایت کر جاتی۔ ” خاوند نے کہا رہا مسئلہ افطاری کرانے کا حقیقت حال یہ ہے کہ میں نوجوان آدمی ہوں اور میں (ازدواجی تعلق سے) صبر نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آئندہ کوئی عورت، اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔“ خاوند نے کہا: اس نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ میں نماز فجر طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہوں، تو ہمارے خاندان کے بارے میں یہ چیز معروف ہے، ہم طلوع آفتاب سے قبل اٹھ ہی نہیں سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو جاگے تو نماز پڑھ لیا کر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2897]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2172
”چمڑے کے اندر قرآن مجید کو آگ نہیں جلاتی“ کا مفہوم
ترقیم الباني: 3562 ترقیم فقہی: -- 2898
- (لو جعل القرآن في إهاب، ثم ألقي في النار؛ ما احترق) .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر قرآن کو کسی چمڑے میں رکھ کر آگ میں پھینک دیا جائے تو وہ جلے گا نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2898]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3562
قرآن مجید ہمارا قائد ہے
ترقیم الباني: 2019 ترقیم فقہی: -- 2899
-" القرآن شافع مشفع وماحل مصدق من جعله أمامه قاده إلى الجنة ومن جعله خلف ظهره ساقه إلى النار".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید سفارش کرے گا اور اس کی سفارش مانی جائے گی، یہ ( اپنے پڑھنے والوں کے حق میں) بحث کرے گا اور اس کی تصدیق کی جائے گی، جس نے اس کو اپنے سامنے رکھا تو یہ جنت کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا اور جس نے اس کو اپنی پیٹھ پیچھے رکھا تو یہ اسے ہانک کر جہنم میں لے جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2899]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2019
آسمانی کتابوں کے نزوال کی تاریخیں
ترقیم الباني: 1575 ترقیم فقہی: -- 2900
-" أنزلت صحف إبراهيم أول ليلة من رمضان، وأنزلت التوراة لست مضين من رمضان، وأنزل الإنجيل لثلاث عشرة ليلة خلت من رمضان، وأنزل الزبور لثمان عشرة خلت من رمضان، وأنزل القرآن لأربع وعشرين خلت من رمضان".
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات کو، تورات چھ رمضان کو، انجیل رمضان کے تیرہ دن گزرنے کے بعد ( یعنی چودھویں تاریخ) کو، زبور انتیس رمضان کو اور قرآن مجید چوبیس دن گزرنے کے بعد ( یعنی پچیس) رمضان کو نازل ہوا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2900]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1575
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کے ساتھ ہر سال قرآن مجید کا دور
ترقیم الباني: 3524 ترقیم فقہی: -- 2901
- (إنّ جبريل كان يعارضني القرآن كل سنة مرةً، وإنّه عارضني العام مرتين، ولا أراه إلا حضر أجلي، وإنك أول أهل بيتي لحاقاً بي، [فاتقي الله، واصبري؛ فإني نعم السلف أنا لك] ) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام مجھ سے ہر سال قرآن مجید کا ایک دفعہ دور کرتے تھے اور اس سال دو دفعہ کیا، یہی لگتا ہے کہ میری وفات کا وقت آ چکا ہے اور تو (فاطمہ) میرے اہل بیت کا پہلا فرد ہے جو سب سے پہلے مجھے ملے گی، لہٰذا اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور صبر کرنا، میں تیرے لیے بہترین میر سامان ہوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2901]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3524
قرآن مجید کی وجہ سے عزتیں اور ذلتیں
ترقیم الباني: 2239 ترقیم فقہی: -- 2902
-" إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين".
عامر بن واثلہ کہتے ہیں کہ نافع بن عبدالحارث، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو عسفان مقام پر ملے، آپ نے اسے مکہ پر عامل مقرر کیا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا: آپ نے اہل وادی پر کسی کو عامل مقرر کیا ہے؟ آپ نے کہا: ابن ابزی کو۔ اس نے پوچھا: ابن ابزی کون ہے؟ آپ نے کہا: ہمارا ایک غلام ہے۔ اس نے کہا: آپ نے غلام کو ان کا خلیفہ بنا دیا ہے؟ آپ نے کہا: وہ قرآن مجید کا قاری ہے اور فرائض کو جاننے والا ہے۔ آگاہ ہو جا! تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کچھ قوموں کو بلند کرتے ہیں اور بعض کو ذلیل کر دیتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2902]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2239
بہترین قاری قرآن کا انداز
ترقیم الباني: 1583 ترقیم فقہی: -- 2903
-" إن أحسن الناس قراءة الذي إذا قرأ رأيت أنه يخشى الله".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرأت قرآن کے سلسلے میں وہ آدمی سب سے اچھا ہے، کہ جب وہ تلاوت کر رہا ہو تو آپ سمجھیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر رہا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2903]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1583
کب تک قرآن کی تلاوت کی جائے
ترقیم الباني: 3993 ترقیم فقہی: -- 2904
- (اقرؤوا القرآن ما ائتلفت عليه قلوبكم، فإذا اختلفتُم فقومُوا عنه) .
سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید اس وقت تک پڑھا کرو، جب تک تمہارے دل اس (کے معانی پر) متفق رہیں، جب تم میں (اس کا مفہوم سمجھنے میں) اختلاف پڑ جائے تو کھڑے ہو جایا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2904]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3993
دیکھ کر تلاوت کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت کا تقاضا ہے
ترقیم الباني: 2342 ترقیم فقہی: -- 2905
-" من سره أن يحب الله ورسوله فليقرأ في (المصحف) ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنا پسند کرتا ہے، اسے قرآن مجید کی تلاوت ”مصحف“ سے دیکھ کر کرنی چاہیئے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2905]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2342
قرآن مجید سفارش کرے گا
ترقیم الباني: 3992 ترقیم فقہی: -- 2906
- (اقرؤوا القرآن؛ فإنّه يأتي يومَ القِيامِة شفيعاً لأصحابهِ؛ اقرؤوا الزّهراوينِ: البقرةَ وسورةَ آلِ عمرانَ؛ فإنّهما تأتيانِ يومَ القِيامِة كأنّهما غمامتانِ، أو كأنّهما غيايتانِ، أو كأنّهما فِرقان من طيرٍ صوَافّ، تحاجَّانِ عن أصحابِهما؛ اقرؤوا سورةَ البقرِة؛ فإنّ أخذها برَكةٌ، وتركها حسرةٌ، ولا يستطيعها البَطَلةُ) .
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”قرآن مجید پڑھا کرو، بلاشبہ یہ قیامت کے روز اپنے پڑھنے والوں کے حق میں سفارشی بن کر آئے گا۔ دو خوبصورت سورتیں: بقرہ اور آل عمران پڑھا کرو، کیونکہ یہ قیامت کے روز اس طرح آئیں گی، گویا کہ وہ دو بدلیاں یا سایہ دار چیزیں یا پر پھیلائے پرندوں کے دوغول ہیں، وہ اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔ سورۃ البقرہ پڑھا کرو، کیونکہ وہ باعث برکت اور اس کو ترک کرنا باعث حسرت ہے اور باطل پرست اس پر غالب نہیں آ سکتے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2906]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3992