🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ذکر و تلاوت کی وصیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 555 ترقیم فقہی: -- 2927
-" أوصيك بتقوى الله، فإنه رأس كل شيء وعليك بالجهاد، فإنه رهبانية الإسلام وعليك بذكر الله وتلاوة القرآن، فإنه روحك في السماء وذكرك في الأرض".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی وصیت کیجئیے۔ میں نے کہا: تو نے مجھ سے وہی مطالبہ کیا ہے جو میں نے تجھ سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ وہ ہر نیکی کی جڑ ہے، نیز جہاد کا اہتمام کر، کیونکہ وہ رہبانیت اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تلاوت قرآن کا اہتمام کر کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعث تذکرہ خیر ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2927]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 555

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سورہ فاتحہ افضل القرآن ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1499 ترقیم فقہی: -- 2928
-" ألا أخبرك بأفضل القرآن؟ فتلا عليه: الحمد لله رب العالمين".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، کہیں اترے اور ایک آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں اترا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا میں تجھے قرآن کے افضل حصے کے بارے میں نہ بتلاؤں؟“ پھر اس پر «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» تلاوت کی۔ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2928]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1499

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کیا بسم اللہ . . . سورہ فاتحہ کی آیت ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1183 ترقیم فقہی: -- 2929
-" إذا قرأتم: * (الحمد لله) * فاقرءوا: * (بسم الله الرحمن الرحيم) * إنها أم القرآن وأم الكتاب والسبع المثاني و * (بسم الله الرحمن الرحيم) * إحداها".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم «الْحَمْدُ لِلَّـهِ» (‏‏‏‏یعنی سورۃ فاتحہ) پڑھو تو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھا کرو، کیونکہ یہ سورت ام القرآن، ام الکتاب اور سبع مثانی (‏‏‏‏یعنی بار بار پڑھی جانے والی سات آیات) ہیں اور «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» اس کی ایک آیت ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2929]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1183

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3992 ترقیم فقہی: -- 2930
- (اقرؤوا القرآن؛ فإنّه يأتي يومَ القِيامِة شفيعاً لأصحابهِ؛ اقرؤوا الزّهراوينِ: البقرةَ وسورةَ آلِ عمرانَ؛ فإنّهما تأتيانِ يومَ القِيامِة كأنّهما غمامتانِ، أو كأنّهما غيايتانِ، أو كأنّهما فِرقان من طيرٍ صوَافّ، تحاجَّانِ عن أصحابِهما؛ اقرؤوا سورةَ البقرِة؛ فإنّ أخذها برَكةٌ، وتركها حسرةٌ، ولا يستطيعها البَطَلةُ) .
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”قرآن مجید پڑھا کرو بلاشبہ یہ قیامت کے روز اپنے پڑھنے والوں کے حق میں سفارشی بن کر آئے گا۔ دو خوبصورت سورتیں بقرہ اور آل عمران پڑھا کرو، کیونکہ یہ قیامت کے روز اس طرح آئیں گی، گویا کہ وہ دو بدلیاں یا دو سایہ دار چیزیں یا پر پھیلائے پرندوں کے دو غول ہیں، وہ اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔ سورۃ البقرہ پڑھا کرو، کیونکہ اس کو سیکھنا با عث برکت اور اس کو ترک کرنا باعث حسرت ہے اور باطل پرست اس پر غالب نہیں آ سکتے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2930]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3992

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 588 ترقیم فقہی: -- 2931
-" إن لكل شيء سناما وسنام القرآن سورة البقرة، وإن الشيطان إذا سمع سورة البقرة تقرأ، خرج من البيت الذي يقرأ فيه سورة البقرة".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موقوفاً اور مرفوعاً روایت کرتے ہیں: ”ہر چیز کی ایک کوہان ہوتی ہے اور قرآن کی کوہان سورہ بقرہ ہے اور جب شیطان سورہ بقرہ کی تلاوت سنتا ہے تو وہ اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں اس سورت کی تلاوت کی جا رہی ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2931]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 588

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سورہ بقرہ کی تلاوت کی وجہ سے شیطان گھر میں داخل نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1521 ترقیم فقہی: -- 2932
-" اقرءوا سورة البقرة في بيوتكم، فإن الشيطان لا يدخل بيتا يقرأ فيه سورة البقرة".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ جس گھر میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے، اس میں شیطان نہیں گھستا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2932]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1521

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آیتہ الکرسی جنوں سے محفوظ کر دیتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3245 ترقیم فقہی: -- 2933
- (صدق الخبيثُ. يعنى: الجنيّ فى قوله: يُجيرُ الإنس من الجنِّ آيةُ (الكرسيِّ) ) .
یحییٰ بن ابوکثیر کہتے ہیں: مجھے ابن ابی نے بیان کیا کہ اس کے باپ نے اسے بتلایا کہ ان کی کھجوریں کھلیان میں اکٹھی پڑیں تھیں، وہ ان کی دیکھ بھال کرتے تھے، آپ نے دیکھا کہ ان میں کمی واقع ہو رہی ہے، اس لیے پہرہ دینا شروع کر دیا، اچانک ایک جاندار نظر آیا جو بالغ ہونے والے لڑکے کی طرح لگتا تھا، آپ نے اسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا۔ آپ نے کہا: تو کون ہے، جن ہے یا انسان؟ اس نے کہا: میں جن ہوں۔ آپ نے کہا: مجھے اپنا ہاتھ پکڑاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ پکڑا دیا، وہ تو کتے کے ہاتھ اور بالوں کی طرح تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا جنوں کی خلقت اس طرح ہے؟ اس نے کہا جنوں کو علم ہے کہ ان میں مجھ سے بھی زیادہ قبیح ہیں۔ آپ نے کہا: (‏‏‏‏کھجوریں اٹھانے پر) تجھے کس چیز نے آمادہ کیا ہے؟ اس نے کہا: ہمیں یہ بات پہنچی کہ تجھے صدقہ کرنا پسند ہے، اس لیے ہم نے چاہا کہ آپ کے غلے سے کچھ لے جائیں۔ آپ نے کہا: ہم کس طرح تم سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ اس نے کہا: اس آیت یعنی آیۃ الکرسی کے ذریعے۔ دوسرے دن والد صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارا ماجرا سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبیث نے سچ کہا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2933]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3245

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سورہ آل عمران کی آیت «ان فى خلق السماوات» کی اہمیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 68 ترقیم فقہی: -- 2934
-" لقد نزلت علي الليلة آيات ويل لمن قرأها ولم يتفكر فيها: (إن في خلق السموات والأرض) الآية".
عطا کہتے ہیں: میں اور عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، عبداللہ بن عمیر نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی تعجب انگیز عمل، جو آپ نے دیکھا ہو، بیان کریں۔ وہ رونے لگ گئیں اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کو کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”عائشہ! مجھے اپنے رب کی عبادت کرنے دو۔“ میں نے کہا: بخدا! میں آپ کی قربت کو پسند کرتی ہوں، لیکن وہ چیز بھی پسند ہے جو آپ کو خوش کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، وضو کیا اور پھر نماز شروع کر دی آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ آپ کی گود بھیگ گئی، پھر روئے اور روتے رہے حتی کہ زمین تر ہو گئی۔ اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز فجر کی اطلاع دینے کے لیے آئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتا پایا تو کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنا کیوں رو رہے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں، آج مجھ پر چند آیات نازل ہوئیں، اس آدمی کے لیے ہلاکت ہے جس نے ان کو پڑھا لیکن غور و فکر نہ کیا، آیات یہ ہیں: «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ . . .» ‏‏‏‏ (۳-آل عمران:۱۹۰)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2934]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 68

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سورہ کہف کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2651 ترقیم فقہی: -- 2935
-" من قرأ * (سورة الكهف) * [كما أنزلت] كانت له نورا يوم القيامة، من مقامه إلى مكة، ومن قرأ عشر آيات من آخرها ثم خرج الدجال لم يضره، ومن توضأ فقال: سبحانك اللهم وبحمدك [أشهد أن] لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك، كتب في رق، ثم جعل في طابع، فلم يكسر إلى يوم القيامة".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سورۃ الکہف کی تلاوت کی، جس طرح وہ نازل ہوئی، تو یہ پڑھنے والے کے لیے روز قیامت اس کی اقامت گاہ سے مکہ تک نور کا سبب بنے گی اور جس نے اس سورت کی آخری دس آیات پڑھیں اور پھر دجال نکل آیا تو اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور جس نے وضو کر کے یہ دعا پڑھی: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اپنی تعریفوں کے ساتھ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی معبود برحق ہے، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔“ تو یہ کلمات ایک ورق میں لکھ کر مہر شدہ (‏‏‏‏حفاظت گاہ) میں رکھ دیے جاتے ہیں، جسے قیامت کے دن تک نہیں توڑا جا سکتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2935]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2651

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سورہ ملک کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1140 ترقیم فقہی: -- 2936
-" سورة تبارك هي المانعة من عذاب القبر".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «تبارك الذى» یعنی سورۃ الملک عذاب قبر کو روکنے والی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/فضائل القرآن والادعية والاذكار والرقي/حدیث: 2936]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1140

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں