سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
ابوطالب کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش
ترقیم الباني: 54 ترقیم فقہی: -- 3466
- عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر عنده عمه أبو طالب، فقال:" لعله تنفعه شفاعتي يوم القيامة فيجعل في ضحضاح من نار يبلغ كعبيه يغلي منه دماغه".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے چچا ابوطالب کا ذکر کیا گیا، آپ نے فرمایا: ”ممکن ہے کہ میری سفارش اسے روز قیامت فائدہ دے اور اسے کم مقدار آگ میں ڈال دیا جائے، جو اس کے ٹخنوں تک پہنچے گی اور اس کی حرارت سے اس کا دماغ کھولنا شروع ہو جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3466]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 54
ترقیم الباني: 55 ترقیم فقہی: -- 3467
- عن العباس بن عبد المطلب أنه قال: يا رسول الله، هل نفعت أبا طالب بشيء فإنه كان يحوطك ويغضب لك؟ قال:" نعم هو في ضحضاح من نار ولولا أنا (أي شفاعته) لكان في الدرك الأسفل من النار".
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اے اللہ کے رسول! کیا آپ کے چچا ابوطالب کو آپ سے کوئی فائدہ ہوا ہے، کیونکہ وہ آپ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ کی خاطر غصے ہوتا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اب وہ کم مقدار آگ میں ہو گا، اگر میری شفاعت نہ ہوتی تو وہ جہنم کے نچلے طبقے میں ہوتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3467]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 55
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کی قوم کی فضیلت
ترقیم الباني: 3368 ترقیم فقہی: -- 3468
- لما نزلت هذه الآية: (يا أيها الذين آمنوا من يرتد منكم عن دينه فسوف يأتي الله بقوم يحبهم ويحبونه) ؛ أوْمأ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلى أبي موسى بشيء كان معه، فقال:"هم قوم هذا") .
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ کی محبوب ہو گی اور وہ بھی اللہ سے محبت کرتی ہو گی۔“ (سورۃ المائدہ: ۵۴) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف کسی چیز کے ساتھ اشارہ کیا اور فرمایا: یہ وہی لوگ ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3468]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3368
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں کی فضیلت
ترقیم الباني: 2160 ترقیم فقہی: -- 3469
-" لن يدخل النار رجل شهد بدرا والحديبية".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو صحابی بدر اور حدیبیہ (کے واقعات) میں شریک ہوا وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3469]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2160
ترقیم الباني: 2519 ترقیم فقہی: -- 3470
-" كذبت لا يدخلها (يعني النار) ، فإنه شهد بدرا والحديبية. يعني حاطب بن أبي بلتعة رضي الله عنه".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حاطب کے غلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کی اور کہا: اے اللہ کے رسول! حاطب ہر صورت میں آگ میں داخل ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جھوٹ بولتا ہے، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں حاضر ہوا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3470]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2519
مسلمان کی فضیلت
ترقیم الباني: 2183 ترقیم فقہی: -- 3471
-" ليس شيء خيرا من ألف مثله إلا الإنسان".
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی چیز ایسی نہیں ہے، جو اپنی جیسی ہزار چیزوں سے بہتر ہو، سوائے انسان کے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3471]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2183
مومن کی حرمت، کعبہ سے زیادہ ہے
ترقیم الباني: 3420 ترقیم فقہی: -- 3472
- (مرحباً بكِ من بيتٍ، ما أعظمَكِ، وأعظمَ حرمَتَكِ! وللمؤمنُ أعظمُ حرمةً عند اللهِ منكِ، إن اللهَ حرّم منكِ واحدةَّ، وحرّمَ مِنَ المؤمنِ ثلاثاً: دمَه، ومالَه، وأن يُظَنَّ به ظنُّ السُّوءِ) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ” تو کتنی عظیم حرمتوں والا ہے، دوسری روایت میں ہے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف دیکھا تو فرمایا: اے اللہ کے گھر! تجھے مرحبا ہو، تو کتنا عظیم ہے، تیری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مومن کی حرمت تجھ سے زیادہ ہے، بیشک اللہ تعالیٰ نے تجھ سے ایک چیز کو اور مومن سے تین چیزوں یعنی خون، مال اور سوئے ظن کو حرام قرار دیا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3472]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3420
مفہوم
ترقیم الباني: 3434 ترقیم فقہی: -- 3473
- (ما ضرّ امرأةً نزلتْ بين بَيتينِ من الأَنصار، أو نزلتْ بين أبويْها) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کو کوئی تکلیف نہیں جو انصاریوں کے گھروں میں اترے یا اپنے والدین کے گھر اترے۔“(1-الفاتحة:7) [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3473]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3434
سورہ فاتحہ کی آخری آیت کی تفسیر
ترقیم الباني: 3263 ترقیم فقہی: -- 3474
- ( [المغضوب عليهم] : اليهودُ، و [الضالِّينَ] : النصارى) .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(سورۃ الفاتحہ میں) «لْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» سے مراد یہودی ہیں اور «الضَّالِّينَ» سے مراد عیسائی ہیں۔“ یہ حدیث سیدنا عدی بن حاتم طائی، سیدنا ابوذر اور ایک دوسرے صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3474]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3263
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت
ترقیم الباني: 1964 ترقیم فقہی: -- 3475
-" هذا أمين هذه الأمة. يعني أبا عبيدة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یمنی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ” ہمارے ساتھ کوئی ایسا آدمی بھیجیں جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے۔ آپ نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”یہ اس امت کا امین ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3475]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1964