سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
اہل مدینہ کے حقوق
ترقیم الباني: 351 ترقیم فقہی: -- 3506
-" اللهم من ظلم أهل المدينة وأخافهم فأخفه، وعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل منه صرف ولا عدل".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! جو مدینہ والوں پر ظلم کرے اور انہیں ڈرائے دھمکائے، تو بھی اسے ڈرا دے۔ ایسے آدمی پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے۔ اس کی فرضی عبادت قبول ہوتی ہے نہ نفلی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3506]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 351
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت
ترقیم الباني: 3501 ترقیم فقہی: -- 3507
- (إنّ إبراهيمَ حرَّم مكةَ، ودعا لها، وحرَّمْتُ المدينةَ، كما حرّمَ إبراهيمُ مكةَ، ودعوتُ لها في مُدِّها وصاعِها، مثلَ ما دعا إبراهيمُ عليه السلام لمكةَ) .
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ابراھیم علیہ السلام نے مکہ (مکرمہ) کو حرمت والا قرار دیا اور اس کے لیے (برکت کی) دعا کی اور میں ابراہیم علیہ السلام کی طرح مدینہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں اور میں اس کے (ماپ کے پیمانے) مدّ اور صاع (کے بابرکت ہونے) کی دعا کرتا ہوں، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے کی تھی۔ ” [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3507]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3501
ترقیم الباني: 3234 ترقیم فقہی: -- 3508
- (حمَى رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - كل ناحيةٍ من المدينة برِيداً برِيد اً) .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو اس کی چہار اطراف سے ایک ایک برید تک اس بات سے ممنوع قرار دیا کہ وہاں کے درختوں کے پتے (ڈنڈے وغیرہ کے ذریعے) جھاڑے جائیں یا انہیں کاٹا جائے، ہاں اونٹوں کو ہانکنے کے لیے ( کوئی چھڑی وغیرہ) کاٹھی جا سکتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3508]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3234
ترقیم الباني: 3582 ترقیم فقہی: -- 3509
- (إنها حرمٌ آمنٌ) .
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ (منورہ) کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”یہ امن والا حرم ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3509]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3582
ترقیم الباني: 2938 ترقیم فقہی: -- 3510
-" لا يحل لأحد يحمل فيها السلاح لقتال. يعني المدينة".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ”کسی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس (مدینہ) میں لڑنے کے لیے اسلحہ اٹھائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3510]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2938
اہل حجاز کی فضیلت اور اہل مشرق کی مذمت
ترقیم الباني: 3436 ترقیم فقہی: -- 3511
- (غِلَظُ القلوبِ والجفاءُ في المشْرقِ، والإيمانُ في أهْل الحِجاز) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دلوں کی سختی و غلاظت اور اکھڑ مزاجی اہل مشرق میں اور ایمان اہل حجاز میں ہے۔ “ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3511]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3436
شام اور اہل شام کی فضیلت
ترقیم الباني: 3425 ترقیم فقہی: -- 3512
- (لا تزالُ من أمَّتي عِصابةٌ قوَّامةٌ على أمْرِ الله عزّ وجلّ، لا يضرُّها من خالفَها؛ تقاتلُ أعداءها، كلما ذهبَ حربٌ نشِبَ حربُ قومٍ آًخرين، يزيغُ اللهُ قلوب قوم ليرزقَهم منه، حتى تأتيهم الساعةُ، كأنّها قطعُ الليلِ المظلمِ، فيفزعونَ لذلك؛ حتّى يلبسُوا له أبدانَ الدُّروع، وقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: همْ أهلُ الشّامِ، ونكَتَ رسولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - بإصبعِه؛ يومئُ بها إلى الشّامِ حتّى أوجَعها) .
عمیر بن اسود اور کثیر بن مرہ حضرمی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن سمط کہتے ہیں کہ مسلمان زمین میں قیامت کے برپا ہونے تک موجود رہیں گے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت اللہ کے حکم پر قائم دائم رہے گی، اس کا مخالف اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، وہ اپنے دشمنوں سے جہاد کرتی رہے گی، جب کبھی ایک لڑائی ختم ہو گی تو دوسری جنگ چھڑ جائے گی، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو راہ راست سے ہٹاتا رہے گا تاکہ ان سے ( مال غنیمت کے ذریعے) ان کو رزق د یتا رہے، حتیٰ کہ قیامت آ جائے گی، گویا کہ وہ اندھیری رات کے ٹکڑے ہوں گے، اس وجہ سے وہ گھبرا جائیں گے، حتیٰ کہ وہ چھوٹی چھوٹی زرہیں پہنیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اہل شام ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلی کے ساتھ زمین کو کریدا (یعنی شام کی طرف خط کھینچا)، حتیٰ کہ آپ کو تکلیف بھی ہوئی۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3512]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3425
ترقیم الباني: 1958 ترقیم فقہی: -- 3513
-" لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق حتى يأتي أمر الله".
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا امر آنے تک میری امت کا ایک گروہ حق پر قتال کرتا رہے گا۔“ اے اہل شام! میراخیال ہے کہ وہ تم لوگ ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3513]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1958
ترقیم الباني: 965 ترقیم فقہی: -- 3514
-" لا يزال أهل الغرب ظاهرين حتى تقوم الساعة".
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ اہل مغرب (یعنی اہل شام) قیامت کے برپا ہونے تک غالب رہیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3514]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 965
ترقیم الباني: 1909 ترقیم فقہی: -- 3515
-" صفوة الله من أرضه الشام وفيها صفوته من خلقه وعباده ولتدخلن الجنة من أمتي ثلة لا حساب عليهم ولا عذاب".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی زمین میں سے اس کا انتخاب شام کی سرزمین ہے اور شام میں کئی بندگان خدا اللہ کے تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ ہیں اور میری امت میں ایک ایسی جماعت بھی ہے جو بغیر حساب و کتاب اور عذاب و عقاب کے جنت میں داخل ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3515]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1909