سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سیدنا ابراہیم، سیدنا عیسی، سیدنا موسی اور سیدنا محمد علیہم الصلاۃ و السلام کی خصوصیات
ترقیم الباني: 2411 ترقیم فقہی: -- 3219
-" ولد آدم كلهم تحت لوائي يوم القيامة، وأنا أول من تفتح له أبواب الجنة".
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول نے کہا: ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں، عیسی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور روح ہیں اور سیدنا موسی علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کی ہے۔ اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا عنایت کیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روز قیامت آدم علیہ السلام کی ساری اولاد میرے جھنڈے تلے ہو گی، میں وہ شخصیت ہوں جس کے لیے سب سے پہلے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3219]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2411
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی خصوصیات
ترقیم الباني: 3939 ترقیم فقہی: -- 3220
- (أعطيتُ ما لم يُعْطَ أحدٌ من الأنبياء. فقلنا: يا رسول الله! ماهو؟ قال: نُصِرْتُ بالرُّعبِ، وأُعطيتُ مفاتيحَ الأرض، وسُمّيتُ أحمدَ، وجُعلَ الترابُ لي طهوراً، وجُعلت أمّتي خير الأمم) .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسی چیزیں بھی عطا کی گئیں جو ( مجھ سے پہلے) کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”( لوگوں پر میرا) رعب ( ڈال کر) میری مدد کی گئی ہے، مجھے زمین کی چابیاں عنایت کی گئیں ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لیے پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے اور میری امت کو بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3220]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3939
قرآن مجید کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیاز
ترقیم الباني: 1480 ترقیم فقہی: -- 3221
-" أعطيت مكان التوراة السبع الطوال ومكان الزبور المئين ومكان الإنجيل المثاني وفضلت بالمفصل".
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تورات کی جگہ «طوال سبعه» زبور کی جگہ «مئین» اور انجیل کی جگہ «مثانى» دی گئیں اور «مفصل» سورتوں کے ساتھ مجھے فضیلت دی گئی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3221]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1480
ترقیم الباني: 1482 ترقیم فقہی: -- 3222
-" أعطيت هذه الآيات من آخر البقرة من كنز تحت العرش لم يعطها نبي قبلي (ولا يعطى منه أحد بعدي) ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے عرش کے نیچے ایک خزانے سے سورۂ بقرہ کی آخری آیات دی گئیں، اس قسم کی آیات نہ مجھ سے قبل کسی نبی کو دی گئیں اور نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3222]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1482
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ابلیس کا مغلوب ہونا
ترقیم الباني: 3251 ترقیم فقہی: -- 3223
- (لو رأيتُموني وإبليس فأهويتُ بيدي، فما زلتُ أخنقُه حتى وجدتُ بردَ لُعابِه بين إصبعيَّ هاتين: الإبهام والتي تليها، ولولا دعوةُ أخي سُليمان؛ لأصبح مربوطاً بساريةٍ من سواري المسجد، يتلاعبُ به صبيانُ المدينة، فمن استطاع منكم أن لا يحُول بينَه وبينَ القبلة أحدٌ؛ فليفعل) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز فجر ادا کی اور وہ (ابوسعید) آپ کے پیچھے تھے، آپ نے قرأت فرمائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرأت خلط ملط ہونے لگی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش کہ تم مجھے اور ابلیس کو دیکھتے، میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کا گلا گھونٹتا رہا، حتٰی کہ مجھے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی کے درمیان اس کے لعاب کی ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینے کے بچے اس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ تم میں سے جس میں یہ استطاعت ہو کہ (دوران نماز) اس کے اور اس کے قبلہ کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3223]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3251
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا
ترقیم الباني: 1004 ترقیم فقہی: -- 3224
-" من رآني في المنام، فكأنما رآني في اليقظة إن الشيطان لا يستطيع أن يتمثل بي".
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا، گویا کہ اس نے مجھے بیداری کی حالت میں دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں ڈھلنے کی سکت نہیں رکھتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3224]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1004
ترقیم الباني: 2729 ترقیم فقہی: -- 3225
-" كان لا يخيل على من رآه".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھتا، وہ محض خیالی چیز نہ ہوتی تھی۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3225]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2729
امہات المؤمنین کے فضائل و مناقب
ترقیم الباني: 2818 ترقیم فقہی: -- 3226
-" كان إذا أتي بالشيء يقول: اذهبوا به إلى فلانة فإنها كانت صديقة خديجة، اذهبوا إلى بيت فلانة فإنها كانت تحب خديجة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی چیز لائی جاتی تو فرماتے: ”یہ چیز فلاں عورت کو دے آؤ، وہ ( میری بیوی) خدیجہ کی سہیلی تھی، یہ چیز فلاں کے گھر پہنچا دو کیونکہ وہ خدیجہ سے محبت کرتی تھی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3226]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2818
ترقیم الباني: 1424 ترقیم فقہی: -- 3227
-" سيدات نساء أهل الجنة بعد مريم بنت عمران: فاطمة وخديجة وآسية امرأة فرعون".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدنا مریم بنت عمران کے بعد جنتی عورتوں کی سردار یہ (تین عورتیں) فاطمہ، خدیجہ اور فرعون کی بیوی آسیہ تھیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3227]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1424
ترقیم الباني: 3608 ترقیم فقہی: -- 3228
- (بَشِّروا خديجة في الجنة ببيت من قصبٍ , لا صخب فيه ولا نصَب) .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خدیجہ کو جنت میں یاقوت والے موتیوں کے گھر کی خوشخبری سنا دو، اس میں شور و غل ہو گا نہ تعب و تکان۔“ یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن ابو اوفیٰ، سیدہ عائشہ، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبداللہ بن جعفر اور ایک اور صحابی رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3228]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3608