سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش
ترقیم الباني: 3300 ترقیم فقہی: -- 3189
- (إني اتخذت خاتماً من وَرِقِ، ونقشْتُ فيه:"محمد رسول الله"، فلا ينقُشن أحد على نقشِه) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں «محمد رسول اللہ» کے الفاظ کندہ کروائے اور فرمایا: ”میں نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ہے، اس میں «محمد رسول اللہ» کا نقش بنوایا ہے۔ تم میں سے کوئی آدمی اپنی انگوٹھی پر یہ الفاظ کندہ نہیں کروا سکتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3189]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3300
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت مبلّغ اور تقسیم کنندہ کی تھی
ترقیم الباني: 1628 ترقیم فقہی: -- 3190
-" إنما أنا مبلغ والله يهدي وقاسم والله يعطي، فمن بلغه مني شيء بحسن رغبة وحسن هدى، فإن ذلك الذي يبارك له فيه ومن بلغه عني شيء بسوء رغبة وسوء هدى، فذاك الذي يأكل ولا يشبع".
معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مبلغ ہوں، ہدایت دینے والا اللہ ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں، عطا کرنے والا اللہ ہے۔ اگر کسی آدمی کو میری جانب سے کوئی چیز حسن رغبت اور اچھے طریقے کے ساتھ مل جاتی ہے تو اس کے لیے اس میں برکت ہو گی اور اگر کسی کو سوئے رغبت اور برے طریقے کے ساتھ کوئی چیز ملتی ہے تو وہ ایسا آدمی ہے جو کھاتا ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3190]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1628
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنوکنانہ سے تھے
ترقیم الباني: 2375 ترقیم فقہی: -- 3191
-" نحن بنو النضر بن كنانة، لا نقفو أمنا ولا ننتفي من أبينا".
سیدنا جفشیش کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کن لوگوں سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بنونضر بن کنانہ سے ہیں، ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں نہ اپنے باپ کی نفی کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3191]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2375
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سب سے بڑی ہے
ترقیم الباني: 397 ترقیم فقہی: -- 3192
-" ما صدق نبي (من الأنبياء) ما صدقت، إن من الأنبياء من لم يصدقه من أمته إلا رجل واحد".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے جس قدر (بھاری تعداد میں) لوگوں نے میری تصدیق کی، اتنی کسی کی نہیں کی گئی اور بعض انبیاء تو ایسے بھی گزرے ہیں کہ ان کی امتوں میں سے صرف ایک ایک فرد نے ان کی تصدیق کی تھی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3192]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 397
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا حساب و کتاب سب سے پہلے ہو گا
ترقیم الباني: 2374 ترقیم فقہی: -- 3193
-" نحن آخر الأمم، وأول من يحاسب، يقال: أين الأمة الأمية ونبيها؟ فنحن الآخرون الأولون".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم سب سے آخری امت ہیں، لیکن سب سے پہلے حساب کتاب ہمارا ہو گا۔ وہاں کہا جائے گا: امت امیہ اور اس کا نبی کہاں ہیں؟ ہم (دنیا میں) آخر میں آنے والے ہیں (لیکن آخرت میں) سب سے پہلے حساب دینے والے ہوں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3193]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2374
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے متقی تھے
ترقیم الباني: 329 ترقیم فقہی: -- 3194
-" أنا أتقاكم لله، وأعلمكم بحدود الله".
عطا بن یسار، ایک انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا انس انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا کے وہ رسول اللہ صلی الله علیہ و سلم سے یہ مسئلہ دریافت کرے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کوئی مضائقہ نہیں) رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم خود ایسا کرتے ہیں۔“ اس نے اپنے خاوند پر صورتحال کو واضح کیا، لیکن اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض مخصوص چیزوں کی رخصت دی جاتی ہے (جو عام مومن کے لیے نہیں ہوتی) لہٰذا تو دوبارہ جا اور آپ کے سامنے میرا یہ اشکال پیش کر۔ وہ دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور کہا: میرا خاوند کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بطور اختصاص بعض چیزوں کی اجازت دے دی جاتی ہے (لیکن ہم . . .)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اس کی حدود کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3194]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 329
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اولادِ آدم کے سردار ہیں
ترقیم الباني: 1571 ترقیم فقہی: -- 3195
-" أنا سيد ولد آدم".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اولاد آدم کا سردار ہوں۔“ یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ، سیدنا جابر بن عبداللہ، سیدنا ابوسعید اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3195]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1571
شجر و حجر کا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو سلام کرنا
ترقیم الباني: 2670 ترقیم فقہی: -- 3196
-" كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمكة، فخرجنا في بعض نواحيها، فما استقبله جبل ولا شجر إلا وهو يقول: السلام عليك يا رسول الله".
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم مکہ کی ایک جانب نکلے، جو درخت اور پتھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتا، وہ کہتا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3196]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2670
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو نہ کیا جائے
ترقیم الباني: 1572 ترقیم فقہی: -- 3197
-" أنا محمد بن عبد الله، أنا عبد الله ورسوله، ما أحب أن ترفعوني فوق منزلتي التي أنزلنيها الله".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عبداللہ کا بیٹا محمد ہوں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں نہیں چاہتا کہ تم لوگ مجھے اس مقام و مرتبہ سے بڑھا چڑھا کر پیش کرو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3197]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1572
ترقیم الباني: 1097 ترقیم فقہی: -- 3198
-" يا أيها الناس عليكم بتقواكم ولا يستهوينكم ـ وفي رواية: قولوا بقولكم ولا يستجركم ـ الشيطان، أنا محمد بن عبد الله، عبد الله ورسوله، والله ما أحب أن ترفعوني فوق منزلتي التي أنزلني الله عز وجل".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے محمد! اے ہمارے سید! ہمارے سید کے بیٹے! ہم میں سے بہترین! اور ہم میں سے بہترین کے بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تقویٰ اختیار کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان دل موہ لے (ایک روایت میں ہے: اپنی درست بات پر پکے رہو، کہیں شیطان کے تابع نہ ہو جاؤ)۔ میں محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور رسول ہوں، اللہ کی قسم! میں نہیں چاہتا کہ تم لوگ مجھے میرے اس مقام سے بلند کر دو، جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3198]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1097