🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جنت میں داخل ہونے والی عورتوں کی تعداد کم ہو گی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1850 ترقیم فقہی: -- 3990
-" لا يدخل الجنة من النساء إلا من كان منهن مثل هذا الغراب في الغربان".
عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے، اچانک ایک عورت آئی، اس نے کنگن اور انگوٹھیاں پہن کر اپنا ہاتھ کجاوے پر پھیلا رکھا تھا۔ انہوں نے کہا: ہم اسی گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ذرا دیکھو، آیا کوئی چیز نظر آ رہی ہے؟“ ‏‏‏‏ ہم نے کہا: کوے نظر آ رہے ہیں، ان میں ایک کوا سرخ چونچ اور سرخ پیروں والا بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کی اتنی ہی تعداد جنت میں داخل ہو گی جتنی ان کووں میں اس کوے کی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3990]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1850

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جنت میں فقرا کی اور جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہو گی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2586 ترقیم فقہی: -- 3991
-" اطلعت في الجنة فرأيت أكثر أهلها الفقراء، واطلعت في النار فرأيت أكثر أهلها النساء".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں نے جنت کا جائزہ لیا تو وہاں فقراء کی کثرت پائی اور جب جہنم میں دیکھا تو وہاں عورتوں کی کثرت نظر آئی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3991]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2586

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عورتوں کے فاسق ہونے کی وجہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3058 ترقیم فقہی: -- 3992
- (نَّ الفُسَّاقَ هم أهلُ النارِ. قيل: يا رسول الله! ومَنِ الفساقُ؟ قال: النساءُ. قال رجلٌ: يا رسول الله! أَوَلَسْنَ أُمَّهاتِنا وأخواتِنا وأزواجَنا؟ قال: بلى؛ ولكنّهنّ إذا أُعْطِينَ لم يَشْكُرْنَ، وإذا ابْتُلِينَ لم يَصْبِرْنَ) .
سیدنا عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک «فساق» جہنمی ہیں۔“ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! «فساق» کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتیں ہیں۔“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیویاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏کیوں نہیں، لیکن جب ان کو نعمتیں ملتی ہیں تو وہ ناشکری کرتی ہیں اور جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو وہ صبر نہیں کرتیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3992]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3058

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ضعیف اور مظلوم لوگ جنتی اور متکبر و مغرور لوگ جہنمی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 932 ترقیم فقہی: -- 3993
-" ألا أنبئكم بأهل الجنة؟ الضعفاء المظلومون، ألا أنبئكم بأهل النار؟ كل شديد جعظري".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے لیے جنت والوں کی نشاندہی نہ کر دوں؟ وہ تو کمزور اور مظلوم لوگ ہیں۔ کیا میں تمہیں جہنم والوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ وہ سخت اور مغرور لوگ ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3993]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 932

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 931 ترقیم فقہی: -- 3994
-" ألا أنبئكم بأهل الجنة؟ المغلوبون الضعفاء وأهل النار كل جعظري جواظ مستكبر".
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ وہ مغلوب اور ضعیف قسم کے لوگ ہیں اور بدمزاج، اکڑوں اور متکبر لوگ جہنمی ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3994]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 931

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کافروں کا ابد تک آتش دوزخ میں رہنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1551 ترقیم فقہی: -- 3995
-" أما أهل النار الذين هم أهلها (وفي رواية: الذين لا يريد الله عز وجل إخراجهم) فإنهم لا يموتون فيها ولا يحيون، ولكن ناس أصابتهم النار بذنوبهم (يريد الله عز وجل إخراجهم) فأماتهم إماتة، حتى إذا كانوا فحما أذن بالشفاعة، فجيء بهم ضبائر ضبائر، فبثوا على أنهار الجنة، ثم قيل: يا أهل الجنة أفيضوا عليهم، فينبتون نبات الحبة تكون في حميل السيل".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن دوزخیوں کو جہنم سے نکالنے کا اللہ تعالیٰ کا کوئی ارادہ نہیں ہو گا، وہ نہ مریں گے اور نہ جئیں گے۔ لیکن جن جہنمیوں کو وہاں سے نکالنے کا اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہو گا، وہ انہیں وہاں موت دے ے گا، یہاں تک کہ وہ (‏‏‏‏جل جل کر) کوئلہ بن جائیں گے، پھر ان کے لیے سفارش کرنے کی اجازت دی جائے گی اور ان کو گروہوں کی شکل میں وہاں سے نکال کر جنت کی نہروں میں ڈال دیا جائے گا، وہ ایسے نشو و نما پائیں جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگتا ہے۔“ ‏‏‏‏یعنی بہت جلد اپنے وجود میں آ جائیں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3995]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1551

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کسی امت کو رحمت یا عذاب کا مستحق قرار دینے کا اللہ تعالیٰ کا انداز
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3059 ترقیم فقہی: -- 3996
- (إنّ الله عز وجل إذا أرادَ رحمةَ أُمَّةٍ من عبادِهِ قَبَضَ نبيَِّها قبلها؛ فجعله لها فَرَطاً وسََلَفاً بين يديها؛ وإذا أراد هلكةَ أُمَّةٍ عَذَّبَها ونبيُّها حَيٌِّ؛ فَأَهْلَكَها وهو يَنظرُ؛ فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِها حينَ كَذَّبُوهُ وعَصَوْا أمرَهُ) .
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏جب اللہ تعالیٰ کسی امت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس کے نبی کو ان سے پہلے فوت کر کے اسے ان کے لیے میر سامان اور پیش رو بنا دیتا ہے اور جب کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے نبی کی زندگی میں اور اس کے سامنے عذاب کے ذریعے ہلاک کر دیتا ہے، چونکہ وہ نبی کو جھٹلانے والے اور اس کی نافرمانی کرنے والے ہوتے ہیں، اس لیے وہ بھی ان کی ہلاکت پر خوش ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3996]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3059

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جہنمیوں کا خون کے آنسو رونا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1679 ترقیم فقہی: -- 3997
-" إن أهل النار ليبكون حتى لو أجريت السفن في دموعهم لجرت، وإنهم ليبكون الدم. يعني مكان الدمع".
سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏جہنمی اتنا روئیں گے (‏‏‏‏اور اتنے آنسو روئیں گے کہ) اگر ان میں کشتی چلائی جائے تو وہ بھی چل پڑے گی، وہ پانی کے آنسوؤں کی جگہ خون کے آنسو روئیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3997]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1679

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جہنم کا خفیف ترین عذاب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1680 ترقیم فقہی: -- 3998
-" إن أهون أهل النار عذابا يوم القيامة رجل يحذى له نعلان من نار يغلي منهما دماغه يوم القيامة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت والے دن جہنمیوں میں سب سے زیادہ ہلکے عذاب والا وہ آدمی ہو گا جسے آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی حرارت سے اس کا دماغ ابلنے لگے گا۔ ”‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3998]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1680

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جہنم میں گرم پانی کا عذاب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3470 ترقیم فقہی: -- 3999
ـ (إنّ (الحميمَ) ليُصبُّ على رؤوسهم، فينفذُ (الحميمُ) حتّىيخلُصَ إلى جوْفِه؛ فيسْلُت ما في جَوْفِه؛ حتّى يَمْرُق من قدمَيْه، وهو (الصَّهر) ، ثم يعاد كما كان) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک گرم پانی ان (‏‏‏‏‏‏‏جہنمیوں) کے سروں پر بہایا جائے گا، وہ جسم کو چیرتے ہوئے ان کے پیٹ میں جا پہنچے گا اور پیٹ کے اندر جو کچھ ہے اس کو یوں نکال دے گا کہ وہ بہہ کر قدموں کی طرف سے نکل جائے گا، یہی «صهر» (‏‏‏‏پگھلنا) ہے (‏‏‏‏ جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے)، پھر ان کو وہی وجود دے دیا جائے گا جو پہلے تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3999]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3470

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں