🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
تقدیر میں بنو آدم کے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 848 ترقیم فقہی: -- 3980
-" أتدرون ما هذان الكتابان؟ فقلنا: لا يا رسول الله، إلا أن تخبرنا، فقال للذي في يده اليمنى: هذا كتاب من رب العالمين، فيه أسماء أهل الجنة وأسماء آبائهم وقبائلهم، ثم أجمل على آخرهم، فلا يزاد فيهم ولا ينقص منهم أبدا، ثم قال للذي في شماله: هذا كتاب من رب العالمين، فيه أسماء أهل النار وأسماء آبائهم وقبائلهم، ثم أجمل على آخرهم، فلا يزداد فيهم ولا ينقص منهم، فقال أصحابه: ففيم العمل يا رسول الله إن كان أمر قد فرغ منه؟ فقال: سددوا وقاربوا، فإن صاحب الجنة يختم له بعمل أهل الجنة وإن عمل أي عمل وإن صاحب النار يختم له بعمل أهل النار وإن عمل أي عمل. ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بيديه فنبذهما، ثم قال: فرغ ربكم من العباد فريق في الجنة وفريق في السعير".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کتابیں کون سی ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! ہاں اگر آپ بتا دیں تو . . .۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب کے بارے میں فرمایا: ”یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے، اس میں جنت والوں کے نام، ان کے آباء کے نام اور ان کے قبائل کے نام ہیں، پھر آخر تک ان کا اجمالاً ذکر کیا گیا، اب اس میں نہ زیادتی کی جا سکتی ہے اور نہ کمی۔“ پھر بائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئی کتاب کی بابت فرمایا: ”یہ کتاب بھی رب العالمین کی طرف سے ہے، اس میں جہنمیوں کے نام، ان کے آباء کے نام اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں، پھر آخر تک ان کا اجمالاً ذکر کر دیا گیا، اب اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔“ ‏‏‏‏صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگر اس معاملے سے فارغ ہوا جا چکا ہے، تو عمل کا کیا مقصد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ صواب پر چلتے رہو اور اعتدال اختیار کرو، بلاشبہ جنتی آدمی کا اختتام جنت میں لے جانے والے اعمال پر ہو گا، وہ پہلے جونسا بھی عمل کرتا رہے اور جہنمی آدمی کی زندگی کا اختتام دوزخ میں لے جانے والے اعمال پر ہو گا، وہ پہلے جونسا بھی عمل کرتا رہے۔“ ‏‏‏‏ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو کتابوں کو پھینک دیا اور فرمایا: ”تمہارا رب اپنے بندوں سے فارغ ہو چکا ہے، ایک فریق جنت میں جائے گا اور دوسرا جہنم میں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3980]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 848

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مومن کو قتل کرنا یا قتل کرنے کی کوشش کرنا سنگین جرم ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1231 ترقیم فقہی: -- 3981
-" إذا أشار الرجل على أخيه بالسلاح فهما على جرف جهنم، فإذا قتله، وقعا فيه جميعا".
سیدنا ابوکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏جب آدمی اپنے بھائی کی طرف کسی ہتھیار وغیرہ کے ساتھ اشارہ کر رہا ہوتا ہے تو وہ دونوں دوزخ کے کنارے پر ہوتے ہیں، اگر وہ قتل کر دیتا ہے تو دونوں جہنم میں گر جاتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3981]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1231

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مومنوں کا جہنم میں داخل ہونے والے بھائیوں کے حق میں اپنے رب سے مجادلہ بالآخر توحید پرست گنہگار جہنم سے نکل آئیں گے کیا صوم و صلاۃ کے پابند اور حاجی لوگ بھی جہنم میں جا سکتے ہیں؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2250 ترقیم فقہی: -- 3982
-" إذا خلص المؤمنون من النار يوم القيامة وأمنوا، فما مجادلة أحدكم لصاحبه في الحق يكون له في الدنيا بأشد مجادلة له من المؤمنين لربهم، في إخوانهم الذين أدخلوا النار. قال: يقولون: ربنا! إخواننا كانوا يصلون معنا ويصومون معنا ويحجون معنا، فأدخلتهم النار. قال: فيقول: اذهبوا فأخرجوا من عرفتم، فيأتونهم، فيعرفونهم بصورهم، لا تأكل النار صورهم، فمنهم من أخذته النار إلى أنصاف ساقيه ومنهم من أخذته النار إلى كعبيه، فيخرجونهم، فيقولون: ربنا! أخرجنا من أمرتنا. ثم يقول: أخرجوا من كان قلبه في وزن دينار من الإيمان، ثم من كان في قلبه وزن نصف دينار من الإيمان، حتى يقول: من كان في قلبه مثقال ذرة - قال أبو سعيد: فمن لم يصدق بهذا فليقرأ هذه الآية: * (إن الله لا يظلم مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها ويؤت من لدنه أجرا عظيما) * (¬1) - قال: فيقولون: ربنا! قد أخرجنا من أمرتنا، فلم يبق في النار أحد فيه خير. قال: ثم يقول الله: شفعت الملائكة وشفع الأنبياء وشفع المؤمنون وبقي أرحم الراحمين. قال: فيقبض قبضة من النار - أو قال: قبضتين - ناس لم يعملوا لله خيرا قط، قد احترقوا حتى صاروا حمما. قال: فيؤتى بهم إلى ماء يقال له: ماء الحياة فيصب عليهم، فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل، فيخرجون من أجسادهم مثل ¬ __________ (¬1) النساء: الآية: 40. اهـ. اللؤلؤ، في أعناقهم الخاتم: عتقاء الله. قال: فيقال لهم: ادخلوا الجنة، فما تمنيتم أو رأيتم من شيء فهو لكم، عندي أفضل من هذا. قال: فيقولون: ربنا! وما أفضل من ذلك؟ قال: فيقول: رضائي عليكم، فلا أسخط عليكم أبدا".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن روز قیامت جہنم کی آگ سے آزاد ہو کر امن و اطمینان میں آ جائیں گے تو وہ دوزخ میں داخل ہونے والے اپنے بھائیوں کے بارے میں رب تعالیٰ سے بڑی شدومد کے ساتھ مجادلہ کریں گے، جس طرح تم میں سے کوئی اپنے دوست کے حق کی خاطر جھگڑا کرتا ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے بھائی، جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے اور حج کرتے تھے، لیکن تو نے ان کو آگ میں داخل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جن کو پہچانتے ہو، نکال لاؤ۔ وہ جائیں گے اور ان کے چہروں کو دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے، کیونکہ آگ ان کے چہروں پر کوئی اثر نہیں کر سکے گی، کسی کو آگ نے پنڈلیوں کے نصف تک جلا دیا ہو گا اور کسی کو گھٹنوں تک۔ (‏‏‏‏بہرحال) وہ ان کو نکال کر لے آئیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم ان مومنوں کو نکال لائے ہیں جن کے بارے میں تو نے حکم دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں دینار کے بقدر ایمان ہے اسے بھی دوزخ سے نکال لاؤ . . .، پھر جس کے دل میں نصف دینار کے بقدر ایمان ہے اسے بھی نکال لاؤ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے (‏‏‏‏اسے بھی جہنم سے باہر نکال لاؤ)۔ ”‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو آدمی اس حدیث کی تصدیق نہیں کرتا، وہ یہ آیت پڑھ لے: «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» (۴-النساء:۴۰) ‏‏‏‏ ”بیشک اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے دگنی کر دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے۔“ (‏‏‏‏حدیث مبارکہ کا بقیہ حصہ یہ ہے) وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم تیرے حکم کے مطابق مومنوں کو جہنم سے نکال لائے ہیں، اب وہاں وہی رہ گیا ہے جس میں کسی قسم کی خیر و بھلائی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش کر لی، انبیاء بھی سفارش کر چکے اور مومنوں نے بھی سفارش کر لی ہے، اب صرف ارحم الراحمین باقی رہ گئے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ آگ سے ایسے لوگوں کی ایک یا دو مٹّھیاں بھریں گے، جنہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا ہو گا اور وہ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے۔ ان کو «ماء الحياة» (‏‏‏‏آب حیات) کے پاس لا کر ان پر یہ پانی بہایا جائے گا، ان کا جسم سیلاب کے بہاؤ میں اگنے والے دانے کی طرح اگے گا اور وہ لؤلؤ موتی کی طرح ہو گا، ان کی گردنوں میں «عتقاء الله» (‏‏‏‏اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ) نقش کی مہر ہو گی۔ ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تم جو آرزو کرو گے یا جو چیز دیکھو گے وہ تمہیں دے دی جائے گی اور بعض نعمتیں اس سے بھی بڑھ کر ہوں گی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! وہ نعمتیں کون سی ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تم پر راضی ہو گیا ہوں، کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3982]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2250

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1551 ترقیم فقہی: -- 3983
-" أما أهل النار الذين هم أهلها (وفي رواية: الذين لا يريد الله عز وجل إخراجهم) فإنهم لا يموتون فيها ولا يحيون، ولكن ناس أصابتهم النار بذنوبهم (يريد الله عز وجل إخراجهم) فأماتهم إماتة، حتى إذا كانوا فحما أذن بالشفاعة، فجيء بهم ضبائر ضبائر، فبثوا على أنهار الجنة، ثم قيل: يا أهل الجنة أفيضوا عليهم، فينبتون نبات الحبة تكون في حميل السيل".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن دوزخیوں کو جہنم سے نکالنے کا اللہ تعالیٰ کا کوئی ارادہ نہیں ہو گا۔ وہ نہ مریں گے اور نہ جئیں گے۔ لیکن جن جہنمیوں کو وہاں سے نکالنے کا اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہو گا، وہ انہیں وہاں موت دے دے گا، یہاں تک کہ وہ (‏‏‏‏جل جل کر) کوئلہ بن جائیں گے، پھر ان کے لیے سفارش کرنے کی اجازت دی جائے گی اور ان کو گروہوں کی شکل میں وہاں سے نکال کر جنت کی نہروں میں ڈال دیا جائے گا، وہ ایسے نشوونما پائیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگتا ہے۔“ یعنی بہت جلد اپنے وجود میں آ جائیں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3983]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1551

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اہل توحید جہنمیوں کے عذاب کی کیفیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1661 ترقیم فقہی: -- 3984
-" إن الله عز وجل يخرج قوما من النار بعدما لا يبقى منهم فيها إلا الوجوه، فيدخلهم الله الجنة".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم سے اس وقت نکالے گا جب ان کے وجود میں سے صرف چہرے باقی رہ چکے ہوں گے اور ان کو جنت میں داخل کر دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3984]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1661

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3055 ترقیم فقہی: -- 3985
- (إن قوماً يَخرجونَ مِنَ النارِ؛ يَحترقونَ فيها إلا داراتِ وجوهِهِم، حتى يَدْخلوا الجنة) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض لوگ جب جہنم سے نکالے جائیں گے تو ان کے چہرے کے علاوہ سارا وجود جل چکا ہو گا، پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔“ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3985]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3055

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مومنوں اور مشرکوں کے نابالغ بچوں کا انجام
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1467 ترقیم فقہی: -- 3986
-" أطفال المسلمين في جبل في الجنة يكفلهم إبراهيم وسارة حتى يدفعونهم إلى آبائهم يوم القيامة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے بچے جنت کے ایک پہاڑ میں رہتے ہیں، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ سارہ علیہا السلام ان کی کفالت کرتے ہیں، روز قیامت انہیں ان کے آباء کے حوالے کر دیں گے۔“ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3986]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1467

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 603 ترقیم فقہی: -- 3987
-" ذراري المسلمين في الجنة تكفلهم إبراهيم صلى الله عليه وسلم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏مسلمانوں کے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏نابالغ) بچے جنت میں ہیں، سیدنا ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کرتے ہیں۔“ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3987]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 603

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 431 ترقیم فقہی: -- 3988
-" صغارهم دعاميص الجنة، يتلقى أحدهم أباه ـ أو قال: أبويه ـ فيأخذ بثوبه ـ أو قال بيده ـ كما آخذ أنا بصنفة ثوبك هذا فلا يتناهى ـ أو قال: فلا ينتهي ـ حتى يدخله الله وإياه الجنة".
ابوحسان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میرے دو بیٹے فوت ہو گئے ہیں، کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کر سکتے ہیں، جس سے ہمیں اپنے فوت شدگان کے بارے میں صبر و تسلی ہو جائے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(‏‏‏‏مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (‏‏‏‏یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے۔ اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3988]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 431

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1468 ترقیم فقہی: -- 3989
-" أطفال المشركين هم خدم أهل الجنة".
سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جنتیوں کے خادم ہوں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3989]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1468

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں