سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
تین سعادتیں اور تین شقاوتیں
ترقیم الباني: 1047 ترقیم فقہی: -- 4077
-" ثلاث من السعادة وثلاث من الشقاوة فمن السعادة: المرأة تراها تعجبك وتغيب فتأمنها على نفسها ومالك، والدابة تكون وطيئة فتلحقك بأصحابك، والدار تكون واسعة كثيرة المرافق. ومن الشقاوة المرأة تراها فتسوءك وتحمل لسانها عليك وإن غبت عنها لم تأمنها على نفسها، ومالك والدابة تكون قطوفا، فإن ضربتها أتعبتك وإن تركتها لم تلحقك بأصحابك، والدار تكون ضيقة قليلة المرافق".
محمد بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین امور کا تعلق خوش قسمتی سے ہے اور تین کا بدقسمتی سے۔ سعادت والی (تین چیزیں:) (۱) وہ بیوی کہ جب تو اسے دیکھے تو وہ تجھے اچھی لگے اور جب تو غائب ہو تو اس کے نفس اور اپنے مال کے بارے میں مطمئن ہو، (۲) وہ نرم ( اور سبک رفتار) سواری جو تجھے تیرے ساتھیوں کے ساتھ ملا دے اور (۳) وہ گھر جو فراخ ہو اور تمام (ضروری) سہولتوں پر مشتمل ہو اور بدقسمتی (والی تین چیزیں یہ ہیں:) (۱) وہ بیوی کہ جب تو اس پر نگاہ ڈالے تو تجھے بری لگے، (نیز) وہ تجھ پر زبان درازی بھی کرے اور جب تو غائب ہو جائے تو اس پر اس کے نفس اور اپنے مال کے بارے میں (اس کی خیانت سے) مطمئن نہ ہو، (۲) وہ سواری جو سست (اور بے ڈھنگی چال چلنے والی ہو)، (اگر تو اسے تیز چلانے کے لیے) مارے تو تھک جائے گا اور اگر نہ مارے تو اپنے ساتھیوں (کے قافلے) سے پیچھے رہ جائے گا اور (۳) وہ گھر جو تنگ اور مکمل (ضروری) سہولیات پر مشتمل نہ ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4077]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1047
ماموں وارث بن سکتا ہے
ترقیم الباني: 1848 ترقیم فقہی: -- 4078
-" الخال وارث".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماموں بھی وارث ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4078]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1848
خواب کی اقسام
ترقیم الباني: 1870 ترقیم فقہی: -- 4079
-" الرؤيا ثلاث، منها أهاويل من الشيطان ليحزن بها ابن آدم ومنها ما يهم به الرجل في يقظته فيراه في منامه ومنها جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة".
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواب تین طرح کے ہیں: (۱) شیطان کی طرف سے ڈراؤنے خواب، جن سے وہ بندے کو پریشان کرتا ہے، (۲) وہ امور کہ جن کے بارے میں بندہ اپنی بیداری میں سوچتا ہے پھر وہ ان کو نیند میں دیکھتا ہے اور (۳) بعض خواب تو نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4079]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1870
«سريا» کی تفسیر
ترقیم الباني: 1191 ترقیم فقہی: -- 4080
-" السري: النهر".
سیدنا برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «السري» سے مراد نہر ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4080]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1191
ترقیم الباني: 1904 ترقیم فقہی: -- 4081
-" الشاهد يرى ما لا يرى الغائب".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ مجھے بھیج ہی رہے ہیں تو اب میں (آپ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے) گرم سکّہ کی طرح بن جاؤں یا ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4081]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1904
سقط کی دیت، دیت کون ادا کرے گا؟
ترقیم الباني: 1983 ترقیم فقہی: -- 4082
-" العقل على العصبة، وفي السقط غرة: عبد أو أمة".
سیدنا حمل بن نابغہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی دو بیویاں تھیں، (ایک کا نام) لحیانیہ اور (دوسری کا نام) معاویہ تھا، جو قبیلہ معاویہ بن زید سے تھی۔ وہ دونوں کہیں اکٹھی ہوئیں اور ایک دوسرے سے غیرت کھا گئیں، پس معاویہ نے پتھر اٹھایا اور لحیانیہ کو دے مارا، وہ حاملہ تھی، اسے پتھر لگا تو وہ مر گئی اور اس کا ناتمام بچہ ساقط ہو گیا۔ حمل بن مالک نے عمران بن عویمر سے کہا: میری بیوی کی دیت ادا کرو۔ دونوں اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت (قاتل عورت کے) عصبہ پر ہے اور ناتمام بچے (کی دیت) ایک غلام یا لونڈی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4082]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1983
قصاص کب ہو گا؟
ترقیم الباني: 1986 ترقیم فقہی: -- 4083
-" العمد قود، والخطأ دية".
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جان بوجھ کر (کی گئی زیادتی میں) قصاص ہے اور نادانستہ طور پر (کی گئی زیادتی میں صرف) دیت ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4083]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1986
انسان کے مختلف اعضا اور زخموں کی دیت
ترقیم الباني: 1997 ترقیم فقہی: -- 4084
-" في الأنف الدية إذا استوعب جدعه مائة من الإبل، وفي اليد خمسون وفي الرجل خمسون وفي الآمة ثلث النفس وفي الجائفة ثلث النفس وفي المنقلة خمس عشرة وفي الموضحة خمس وفي السن خمس وفي كل إصبع مما هنالك عشر".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل کٹ جانے والے ناک کی دیت سو اونٹ ہے، ہاتھ کی پچاس، ٹانگ کی پچاس، دماغ کی جھلی تک یا اندر تک پہنچنے والے سر کے زخم کی دیت نفس کی ایک تہائی، اندر تک جانے والے پیٹ کے زخم کی دیت نفس کی ایک تہائی، ہڈی ٹوٹ جانے کی دیت پندرہ اونٹ، ہڈی ننگا کرنے والے زخم کی پانچ، دانت کی پانچ اور ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4084]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1997
مسلمان کی مدد کرنے کی فضیلت
ترقیم الباني: 1217 ترقیم فقہی: -- 4085
-" من نصر أخاه بالغيب نصره الله في الدنيا والآخرة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کی مدد کی، تو اﷲ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی مدد کرے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4085]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1217
استغفار کی برکتیں
ترقیم الباني: 1951 ترقیم فقہی: -- 4086
-" والذي نفسي بيده - أو قال: والذي نفس محمد بيده - لو أخطأتم حتى تملأ خطاياكم ما بين السماء والأرض، ثم استغفرتم الله عز وجل لغفر لكم، والذي نفس محمد بيده - أو قال: والذي نفسي بيده - لو لم تخطئوا لجاء الله عز وجل بقوم يخطئون ثم يستغفرون الله فيغفر لهم".
اخشم سدوی کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یا یوں فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر تم گناہ کرتے رہو، حتیٰ کہ تمہاری خطائیں زمین و آسمان کے درمیان خلا کو بھر دیں، پھر تم اﷲ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو تو وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! یا یوں فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم لوگوں نے گناہ نہ کئے تو اللہ تعالیٰ (تم کو فنا کر کے) ایسے لوگوں کو لے آئے گا جو خطائیں کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں گے اور وہ ان کو بخش دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المنوعات/حدیث: 4086]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1951