صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. بَابُ الْجُبَّةِ فِي السَّفَرِ وَالْحَرْبِ:
باب: سفر میں اور لڑائی میں چغہ پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2918
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى مُسْلِمٍ هُوَ ابْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لِحَاجَتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ فَلَقِيتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ فَكَانَا ضَيِّقَيْنِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتُ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ، مسلم نے، جو صبیح کے صاحبزاے ہیں، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پانی لے کر خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرہ پاک کو دھویا۔ اس کے بعد (ہاتھ دھونے کے لیے) آستین چڑھانے کی کوشش کی لیکن آستین تنگ تھی اس لیے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا پھر انہیں دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں ہر دو کا بھی مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2918]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ جب آپ واپس ہوئے تو میں پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت شامی جُبَّہ زیب تن کیے ہوئے تھے۔ آپ نے وضو کیا اس طرح کہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو دھویا۔ اس کے بعد بازو دھونے کے لیے آستینیں چڑھانے کی کوشش کی لیکن وہ تنگ تھیں، اس لیے آپ نے اپنے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا، پھر انہیں دھویا۔ بعد ازاں اپنے سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں پر بھی مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2918]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
91. بَابُ الْحَرِيرِ فِي الْحَرْبِ:
باب: لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننا۔
حدیث نمبر: 2919
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ فِي قَمِيصٍ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا".
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہما کو خارش کے مرض کی وجہ سے ریشمی کرتہ پہننے کی اجازت دے دی تھی، جو ان دونوں کو لاحق ہو گئی تھی جو اس مرض میں مفید ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2919]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو خارش کی وجہ سے ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2920
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ والزُّبَيْرَ شَكَوَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْقَمْلَ، فَأَرْخَصَ لَهُمَا فِي الْحَرِيرِ، فَرَأَيْتُهُ عَلَيْهِمَا فِي غَزَاةٍ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، دوسری سند ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ان سے قتادۃ نے ان سے انس نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے کے استعمال کی اجازت دے دی، پھر میں نے جہاد میں انہیں ریشمی کپڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2920]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جوؤں کی شکایت کی تو آپ نے انھیں ریشم کا لباس پہننے کی اجازت دی۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ) میں نے ایک غزوے میں ان حضرات پر ریشمی قمیص دیکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2920]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2921
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، قَالَ:" رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ والزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي حَرِيرٍ"،
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، انہیں قتادہ نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2921]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ریشمی لباس پہننے کی اجازت دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2921]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2922
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَخَّصَ أَوْ رُخِّصَ لَهُمَا لِحِكَّةٍ بِهِمَا.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) رخصت دی تھی یا (یہ بیان کیا کہ) رخصت دی گئی تھی، ان دونوں حضرات کو خارش کی وجہ سے جو ان کو لاحق ہو گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2922]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مزید روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عبدالرحمان بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما) دونوں کو خارش کی وجہ سے رخصت دی یا انہیں رخصت دی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2922]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
92. بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي السِّكِّينِ:
باب: چھری کا استعمال کرنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 2923
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ مِنْ كَتِفٍ يَحْتَزُّ مِنْهَا، ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فَأَلْقَى السِّكِّينَ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شانے کا گوشت (چھری سے) کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر نماز کے لیے اذان ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے (اس روایت میں) یہ زیادتی بھی موجود ہے کہ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے بلائے گئے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ڈال دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2923]
حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شانے کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھاتے دیکھا، اسی دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی لیکن وضو نہ کیا۔ ایک روایت میں امام زہری رحمہ اللہ سے یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری کو پھینک دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2923]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
93. بَابُ مَا قِيلَ فِي قِتَالِ الرُّومِ:
باب: نصاریٰ سے لڑنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2924
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ وَهُوَ نَازِلٌ فِي سَاحَلِ حِمْصَ وَهُوَ فِي بِنَاءٍ لَهُ وَمَعَهُ أُمُّ حَرَامٍ، قَالَ عُمَيْرٌ: فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا"، قَالَتْ: أُمُّ حَرَامٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فِيهِمْ، قَالَ:" أَنْتِ فِيهِمْ" ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ"، فَقُلْتُ: أَنَا فِيهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" لَا".
ہم سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ثور بن یزید نے بیان کیا، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے عمیر بن اسود عنسی نے بیان کیا کہ وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کا قیام ساحل حمص پر اپنے ہی ایک مکان میں تھا اور آپ کے ساتھ (آپ کی بیوی) ام حرام رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ عمیر نے بیان کیا کہ ہم سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو دریائی سفر کر کے جہاد کے لیے جائے گا، اس نے (اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت) واجب کر لی۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا تھا یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، تم بھی ان کے ساتھ ہو گی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہو گی۔ میں نے کہا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2924]
حضرت عمیر بن اسود عنسی نے بیان کیا کہ وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جبکہ ان کا قیام ساحل حمص پر ان کے اپنے ہی مکان میں تھا۔ اور (ان کی بیوی) حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا بھی ان کے ساتھ تھیں۔ عمیر نے کہا: ہم سے حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”میری امت میں سب سے پہلے جو لوگ بحری جنگ لڑیں گے، ان کے لیے جنت واجب ہے۔“ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں انہی میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو۔“ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے پہلے جو لوگ قیصرِ روم کے دارالحکومت (قسطنطنیہ) پر حملہ آور ہوں گے وہ مغفرت یافتہ ہیں۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2924]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
94. بَابُ قِتَالِ الْيَهُودِ:
باب: یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2925
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تُقَاتِلُونَ الْيَهُودَ حَتَّى يَخْتَبِيَ أَحَدُهُمْ وَرَاءَ الْحَجَرِ، فَيَقُولُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ".
ہم سے اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(ایک دور آئے گا جب) تم یہودیوں سے جنگ کرو گے۔ (اور وہ شکست کھا کر بھاگتے پھریں گے) کوئی یہودی اگر پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اسے قتل کر ڈال۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2925]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہودیوں سے جنگ کرو گے یہاں تک کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے چھپا ہوگا تو وہ پتھر بول کر کہے گا: اللہ کے بندے! یہ میرے پیچھے یہودی (چھپا ہوا) ہے اسے قتل کر ڈالو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2925]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2926
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنه، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ حَتَّى، يَقُولَ: الْحَجَرُ وَرَاءَهُ الْيَهُودِيُّ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو جریر نے خبر دی عمارہ بن قعقاع سے، انہیں ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک یہودی سے تمہاری جنگ نہ ہو لے گی اور وہ پتھر بھی اس وقت (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) بول اٹھیں گے جس کے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہو گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ لے کر چھپا ہوا ہے اسے قتل کر ڈالو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2926]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم یہودیوں سے جنگ کرو گے حتیٰ کہ جس پتھر کے پیچھے یہودی چھپا ہوگا وہ پتھر کہے گا: اے مسلم! میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے اسے قتل کر دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2926]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
95. بَابُ قِتَالِ التُّرْكِ:
باب: ترکوں سے جنگ کا میدان۔
حدیث نمبر: 2927
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ نِعَالَ الشَّعَرِ، وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا میں نے حسن سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کی جوتیاں پہنے ہوں گے (یا ان کے بال بہت لمبے ہوں گے) اور قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ان لوگوں سے لڑو گے جن کے منہ چوڑے چوڑے ہوں گے گویا ڈھالیں ہیں چمڑا جمی ہوئی (یعنی بہت موٹے منہ والے ہوں گے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2927]
حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ قیامت کی علامات میں سے ہے کہ تم ایسے لوگوں سے جنگ کرو گے جو بالوں والے جوتے پہنتے ہوں گے۔ اور بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تم چوڑے چہرے والے لوگوں سے جنگ کرو گے، گویا ان کے چہرے چوڑی ڈھالیں ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2927]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة