صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الرَّمْيِ:
باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2900
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمَ بَدْرٍ حِينَ صَفَفَنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوا لَنَا إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے، ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے موقع پر جب ہم قریش کے مقابلہ میں صف باندھے ہوئے کھڑے ہو گئے تھے اور وہ ہمارے مقابلہ میں تیار تھے، فرمایا کہ اگر (حملہ کرتے ہوئے) قریش تمہارے قریب آ جائیں تو تم لوگ تیر اندازی شروع کر دینا تاکہ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2900]
حضرت حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن اس وقت فرمایا جب ہم قریش کے سامنے صف بستہ کھڑے تھے اور وہ بھی ہمارے مقابلے میں تیار تھے: ”جب وہ تمہارے قریب آجائیں تو ان پر تیروں کی بارش کردو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2900]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
79. بَابُ اللَّهْوِ بِالْحِرَابِ وَنَحْوِهَا:
باب: برچھے سے (مشق کرنے کے لیے) کھیلنا۔
حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ، دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَى فَحَصَبَهُمْ بِهَا، فَقَالَ: دَعْهُمْ يَا عُمَرُ"، وَزَادَ عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ فِي الْمَسْجِدِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں ابن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشہ کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حراب (چھوٹے نیزے) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عمر انہیں کھیل دکھانے دو۔“ علی بن مدینی نے یہ بیان زیادہ کیا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی کہ مسجد میں (یہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2901]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حبشی لوگ (اپنے چھوٹے نیزوں اور برچھوں سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھیل رہے تھے، اس دوران میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں مارنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! انہیں چھوڑ دو۔“ علی بن مدینی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2901]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
80. بَابُ الْمِجَنِّ وَمَنْ يَتَتَرَّسُ بِتُرْسِ صَاحِبِهِ:
باب: ڈھال کا بیان اور جو اپنے ساتھی کی ڈھال کو استعمال کرے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2902
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَتَرَّسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتُرْسٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ حَسَنَ الرَّمْيِ، فَكَانَ إِذَا رَمَى تَشَرَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْظُرُ إِلَى مَوْضِعِ نَبْلِهِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ ایک ہی ڈھال سے کر رہے تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے اچھے تیرانداز تھے۔ جب وہ تیر مارتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2902]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ ایک ہی ڈھال سے کر رہے تھے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ماہر تیر انداز تھے، جب وہ تیر مارتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک اٹھا کر تیر گرنے کی جگہ دیکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2902]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2903
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ:" لَمَّا كُسِرَتْ بَيْضَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُدْمِيَ وَجْهُهُ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَخْتَلِفُ بِالْمَاءِ فِي الْمِجَنِّ، وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الدَّمَ يَزِيدُ عَلَى الْمَاءِ كَثْرَةً عَمَدَتْ إِلَى حَصِيرٍ، فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا عَلَى جُرْحِهِ فَرَقَأَ الدَّمُ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر توڑا گیا اور چہرہ مبارک خون آلود ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت شہید ہو گئے تو علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں بھربھر کر پانی باربار لا رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا زخم کو دھو رہی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ خون پانی سے اور زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگا دیا، جس سے خون آنا بند ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2903]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خود توڑ دیا گیا اور آپ کا چہرہ مبارک خون آلود ہو گیا، نیز سامنے والے دونوں دانت متاثر ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی بھر بھر کر لا رہے تھے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے زخم کو دھو رہی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ زخم دھونے سے خون زیادہ بہتا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی پکڑی اور اسے جلایا اور اس کی راکھ سے زخم بھر دیا، اس سے خون رک گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2903]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2904
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ، وَلَا رِكَابٍ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ، وَالْكُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے زہری نے، ان سے مالک بن اوس بن حدثان نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنونضیر کے باغات وغیرہ ان اموال میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر لڑے دے دیا تھا۔ مسلمانوں نے ان کے حاصل کرنے کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تو یہ اموال خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے تھے جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کو سالانہ نفقہ کے طور پر بھی دے دیتے تھے اور باقی ہتھیار اور گھوڑوں پر خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) ہر وقت تیاری رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2904]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ بنو نضیر کا مال ان مالوں میں سے تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غنیمت قرار دیا تھا اور مسلمانوں نے اسے حاصل کرنے کے لیے اس پر گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے تھے، لہذا یہ مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے ایک سال کا خرچہ اپنے اہل خانہ کو دے دیتے تھے اور جو باقی بچتا اس سے گھوڑے اور ہتھیار خرید کر جہاد کے سامان کی تیاری کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2904]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2905
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي رَجُلًا بَعْدَ سَعْدٍ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ:" ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن شداد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد میں نے کسی کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ نے خود کو ان پر صدقے کیا ہو۔ میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”تیر برساؤ (سعد) تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2905]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد کسی شخص کو نہیں دیکھا جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ ”میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق فرماتے ہوئے سنا: ”اے سعد! تیر مارو، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2905]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
81. بَابُ الدَّرَقِ:
باب: ڈھال کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2906
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: عَمْرٌو حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو دو لڑکیاں میرے پاس جنگ بعاث کے گیت گا رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور چہرہ مبارک دوسری طرف کر لیا اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آ گئے اور آپ نے مجھے ڈانٹا کہ یہ شیطانی گانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں! لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ انہیں گانے دو، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسری طرف متوجہ ہو گئے تو میں نے ان لڑکیوں کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2906]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میرے ہاں دو بچیاں جنگِ بعاث کے ترانے گا رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستر پر لیٹ کر چہرہ دوسری طرف کر لیا۔ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور مجھے ڈانٹنے لگے اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیطانی باجے بجائے جا رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو۔“ پھر جب وہ کسی کام میں مشغول ہوئے تو میں نے ان دونوں کو اشارہ کیا اور وہ باہر نکل گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2906]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2907
قَالَتْ: وَكَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ: تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَيَقُولُ: دُونَكُمْ بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ، قَالَ: حَسْبُكِ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاذْهَبِي قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ، قَالَ: أَحْمَدُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ فَلَمَّا غَفَلَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عید کے دن سوڈان کے کچھ صحابہ ڈھال اور حراب کا کھیل دکھا رہے تھے، اب یا میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ تم بھی دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر تھا (اس طرح میں پیچھے پردے سے کھیل کو بخوبی دیکھ سکتی تھی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”خوب بنوارفدہ!“ جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس؟“ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر جاؤ۔“ احمد نے بیان کیا اور ان سے ابن وہب نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے کے بعد دوسری طرف متوجہ ہو جانے کے لیے لفظ «عمل» کے بجائے) «فلما غفل.» نقل کیا ہے۔ یعنی جب وہ ذرا غافل ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2907]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عید کے دن حبشی ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے درخواست کی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود فرمایا: ”تم دیکھنا چاہتی ہو؟“ میں نے عرض کیا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا جبکہ میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے بنو ارفدہ! کھیلتے رہو۔“ حتیٰ کہ جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تجھے کافی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب چلی جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2907]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
82. بَابُ الْحَمَائِلِ وَتَعْلِيقِ السَّيْفِ بِالْعُنُقِ:
باب: تلواروں کی حمائل اور تلوار کا گلے میں لٹکانا۔
حدیث نمبر: 2908
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَخَرَجُوا نَحْوَ الصَّوْتِ فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَبْرَأَ الْخَبَرَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ:" لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا، ثُمَّ قَالَ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ قَالَ إِنَّهُ لَبَحْرٌ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ پر (ایک آواز سن کر) بڑا خوف چھا گیا تھا، سب لوگ اس آواز کی طرف بڑھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی واقعہ کی تحقیق کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے جس کی پشت ننگی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن سے تلوار لٹک رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ڈرو مت۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تو گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز پایا ہے یا یہ فرمایا کہ گھوڑا جیسے سمندر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2908]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت اور دلیر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ پر سخت خوف و ہراس طاری ہوا تو وہ خوفناک آواز کی طرف نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے آگے روانہ ہوئے اور واقعے کی تحقیق کی۔ آپ اس وقت حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایسے گھوڑے پر سوار تھے جس پر زین نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی اور فرما رہے تھے: ”مت گھبراؤ، تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اس گھوڑے کو سمندر (کی طرح سبک رفتار) پایا۔“ یا (یہ) فرمایا: ”بلاشبہ یہ (گھوڑا) سمندر ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2908]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
83. بَابُ حِلْيَةِ السُّيُوفِ:
باب: تلوار کی آرائش کرنا۔
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ:" لَقَدْ فَتَحَ الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَتْ حِلْيَةُ سُيُوفِهِمُ الذَّهَبَ، وَلَا الْفِضَّةَ إِنَّمَا كَانَتْ حِلْيَتُهُمُ الْعَلَابِيَّ، وَالْآنُكَ وَالْحَدِيدَ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن حبیب سے سنا، کہا میں نے ابوامامہ باہلی سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ ایک قوم (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے بہت سی فتوحات کیں اور ان کی تلواروں کی آرائش سونے چاندی سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اونٹ کی پشت کا چمڑہ، سیسہ اور لوہا ان کی تلواروں کے زیور تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2909]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ یہ سب فتوحات ان لوگوں نے حاصل کی ہیں جن کی تلواروں پر سونا نہیں لگا تھا اور نہ ان پر چاندی ہی جڑی ہوئی تھی، بلکہ ان کی تلواروں پر چمڑے، سیسے اور لوہے کا معمولی کام ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2909]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة