🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. بَابُ مَنْ غَزَا بِصَبِيٍّ لِلْخِدْمَةِ:
باب: اگر کسی بچے کو خدمت کے لیے جہاد میں ساتھ لے جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2893
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ: الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي وَأَنَا غُلَامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ، ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا بِمِثْلِ مَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے کہا، ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ میرے ساتھ کر دو جو خیبر کے غزوے میں میرے کام کر دیا کرے، جب کہ میں خیبر کا سفر کروں۔ ابوطلحہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر مجھے (انس رضی اللہ عنہ کو) لے گئے، میں اس وقت ابھی لڑکا تھا۔ بالغ ہونے کے قریب۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں قیام فرماتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا۔ اکثر میں سنتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے۔ «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم، عاجزی، سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے، آخر ہم خیبر پہنچے اور جب اللہ تعالیٰ نے خیبر کے قلعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے جمال (ظاہری و باطنی) کا ذکر کیا گیا ان کا شوہر (یہودی) لڑائی میں کام آ گیا تھا اور وہ ابھی دلہن ہی تھیں (اور چونکہ قبیلہ کے سردار کی لڑکی تھیں) اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کا اکرام کرنے کے لیے کہا) انہیں اپنے لیے پسند فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر وہاں سے چلے۔ جب ہم سدا الصبہاء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس (کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا ایک کھانا) تیار کرا کر ایک چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھ سے فرمایا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا۔ آخر ہم مدینہ کی طرف چلے، انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے (اونٹ کے کوہان کے اردگرد) اپنی عباء سے پردہ کئے ہوئے تھے (سواری پر جب صفیہ رضی اللہ عنہا سوار ہوتیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہو جاتیں۔ اس طرح ہم چلتے رہے اور جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کی مد اور صاع میں برکت دیجئیے! [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2893]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ میرے ساتھ کرو جو غزوہ خیبر میں میری خدمت کرے جب میں خیبر کا سفر کروں۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے پیچھے بٹھا کر لے گئے۔ میں اس وقت بلوغ کے قریب لڑکا تھا۔ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں کہیں پڑاؤ کرتے تو میں آپ کی خدمت کرتا تھا۔ میں بکثرت آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم اور پریشانی سے، عاجزی اور کاہلی سے، بخل اور بزدلی سے، قرضے کے بوجھ اور لوگوں کے دباؤ سے۔ آخر ہم خیبر پہنچے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جب خیبر کا قلعہ فتح کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا تذکرہ ہوا جبکہ ان کا شوہر قتل ہو چکا تھا اور وہ ابھی دلہن ہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے مختص فرمایا اور انہیں ساتھ لے کر نکلے حتیٰ کہ جب ہم سد صہباء پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہو گئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت فرمائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص حلوہ سا تیار کر کے ایک چھوٹے سے دسترخوان پر رکھوایا اور مجھے فرمایا: اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو۔ اور یہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ پھر ہم مدینہ طیبہ کی طرف چلے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے اپنی چادر سے پردہ کیے ہوتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر اپنا پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہو جاتیں۔ ہم چلتے رہے حتیٰ کہ جب ہم مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر مدینہ طیبہ کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ» اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیانی خطے کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2893]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. بَابُ رُكُوبِ الْبَحْرِ:
باب: جہاد کے لیے سمندر میں سفر کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2894
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَوْمًا فِي بَيْتِهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُضْحِكُكَ، قَالَ: عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَيَقُولُ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَتَزَوَّجَ بِهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الْغَزْوِ، فَلَمَّا رَجَعَتْ قُرِّبَتْ دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَوَقَعَتْ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ فرمایا مجھے اپنی امت میں ایک ایسی قوم کو (خواب میں دیکھ کر) خوشی ہوئی جو سمندر میں (غزوہ کے لیے) اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی وہ ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین دفعہ ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ ان کو (اسلام کے سب سے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ) غزوہ میں لے گئے، واپسی میں سوار ہونے کے لیے اپنی سواری سے قریب ہوئیں (سوار ہوتے ہوئے یا سوار ہونے کے بعد) گر پڑیں جس سے آپ کی گردن ٹوٹ گئی اور شہادت کی موت پائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2894]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت سے ایسے لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی جو جہاد کے لیے سمندر میں اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین مرتبہ ہوا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں کے ساتھ ہو گی۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو وہ انہیں بحری غزوے میں اپنے ساتھ لے گئے۔ واپسی کے وقت جب وہ سوار ہونے کے لیے اپنی سواری کے قریب ہوئیں تو سوار ہوتے ہی گر پڑیں، جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور انہوں نے شہادت کی موت پائی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2894]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2895
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَوْمًا فِي بَيْتِهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُضْحِكُكَ، قَالَ: عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَيَقُولُ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَتَزَوَّجَ بِهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الْغَزْوِ، فَلَمَّا رَجَعَتْ قُرِّبَتْ دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَوَقَعَتْ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ فرمایا مجھے اپنی امت میں ایک ایسی قوم کو (خواب میں دیکھ کر) خوشی ہوئی جو سمندر میں (غزوہ کے لیے) اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی وہ ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین دفعہ ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ ان کو (اسلام کے سب سے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ) غزوہ میں لے گئے، واپسی میں سوار ہونے کے لیے اپنی سواری سے قریب ہوئیں (سوار ہوتے ہوئے یا سوار ہونے کے بعد) گر پڑیں جس سے آپ کی گردن ٹوٹ گئی اور شہادت کی موت پائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2895]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت سے ایسے لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی جو جہاد کے لیے سمندر میں اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین مرتبہ ہوا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں کے ساتھ ہو گی۔ چنانچہ انھوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو وہ انھیں بحری غزوے میں اپنے ساتھ لے گئے۔ واپسی کے وقت جب وہ سوار ہونے کے لیے اپنی سواری کے قریب ہوئیں تو سوار ہوتے ہی گر پڑیں، جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور انھوں نے شہادت کی موت پائی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2895]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ بِالضُّعَفَاءِ وَالصَّالِحِينَ فِي الْحَرْبِ:
باب: لڑائی میں کمزور ناتواں (جیسے عورتیں، بچے، اندھے، معذور اور مساکین) اور نیک لوگوں سے مدد چاہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2896
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ لِي: قَيْصَرُ سَأَلْتُكَ أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ، فَزَعَمْتَ ضُعَفَاءَهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ.
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ کو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ مجھ سے قیصر (ملک روم) نے کہا کہ میں نے تم سے پوچھا کہ امیر لوگوں نے ان (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی کی ہے یا کمزور غریب طبقہ والوں نے؟ تم نے بتایا کہ کمزور غریب طبقے نے (ان کی اتباع کی ہے) اور انبیاء کا پیروکار یہی طبقہ ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2896]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2896
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَى سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے مصعب ابن سعد نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ انہیں دوسرے بہت سے صحابہ پر (اپنی مالداری اور بہادری کی وجہ سے) فضیلت حاصل ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ صرف اپنے کمزور معذور لوگوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے مدد پہنچائے جاتے ہو اور ان ہی کی دعاؤں سے رزق دئیے جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2896]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے والد بزرگوار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ انہیں دوسرے (بہت سے) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر برتری حاصل ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری جو کچھ مدد کی جاتی ہے اور تمہیں جو رزق دیا جاتا ہے وہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2896]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَأْتِي زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ، فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحُ، ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ، فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی فوج کی فوج جہاں پر ہوں گی جن میں پوچھا جائے گا کہ کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو، کہا جائے گا کہ ہاں تو ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا اس وقت اس کی تلاش ہو گی کہ کوئی ایسے بزرگ مل جائیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو، (یعنی تابعی) ایسے بھی بزرگ مل جائیں گے اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں کی صحبت اٹھائی ہو کہا جائے گا کہ ہاں اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2897]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ جہاد کریں گے تو کہا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحبت یافتہ ہو؟ جواب دیا جائے گا: ہاں، تو اس (کے ہاتھ) پر فتح دی جائے گی۔ پھر ایک زمانہ آئے گا لوگ پوچھیں گے: آیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہم نشینی کی ہو؟ جواب دیا جائے گا: ہاں، تو اس کے ذریعے سے (جب دعا مانگی جائے گی تو) فتح دی جائے گی۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کی صحبت اٹھانے والوں کو دیکھا ہو؟ جواب دیا جائے گا: ہاں، تو (اس کی دعا کے واسطے سے) فتح دی جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. بَابُ لاَ يَقُولُ فُلاَنٌ شَهِيدٌ:
باب: قطعی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہید ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2898
قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستے میں زخمی ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2898]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2898
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً، وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ، فَقَالَ: مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَالَ رَجُلٌ: مِنَ الْقَوْمِ أَنَا صَاحِبُهُ، قَالَ: فَخَرَجَ مَعَهُ كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ، قَالَ: فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ، قَالَ الرَّجُلُ: الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَنَا لَكُمْ بِهِ فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ، ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ فِي الْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں) مشرکین سے مڈبھیڑ ہوئی اور جنگ چھڑ گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس دن لڑائی سے فارغ ہو کر) اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کے ساتھ ایک شخص تھا، لڑائی لڑنے میں ان کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر آ جاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں سے کوئی بھی شخص اس طرح نہ لڑ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے (اپنے دل میں کہا اچھا میں اس کا پیچھا کروں گا (دیکھوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیوں دوزخی فرمایا ہے) بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دن لڑائی میں موجود رہا، جب کبھی وہ کھڑا ہو جاتا تو یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور جب وہ تیز چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہو گیا زخم بڑا گہرا تھا۔ اس لیے اس نے چاہا کہ موت جلدی آ جائے اور اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلہ میں کر لیا اور تلوار پر گر کر اپنی جان دے دی۔ اب وہ صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ انہوں نے بیان کیا کہ وہی شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ آپ کا فرمان بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم سب لوگوں کی طرف سے میں اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں۔ چنانچہ میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس کے بعد وہ شخص سخت زخمی ہوا اور چاہا کہ جلدی موت آ جائے۔ اس لیے اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کر لیا اور اس پر گر کر خود جان دے دی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2898]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشرکین سے مڈ بھیڑ ہو گئی اور جنگ چھڑ گئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف روانہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ ایک شخص تھا جو مشرکین میں سے الگ ہونے والے یا اکیلے شخص کو نہیں چھوڑتا تھا۔ وہ اس (الگ ہونے والے) کا پیچھا کرتا اور اپنی تلوار سے وار کر کے اس کا کام تمام کر دیتا۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہما نے اس کے متعلق کہا: آج جس قدر بے جگری سے فلاں شخص لڑا ہے ہم میں سے کوئی بھی اس طرح نہیں لڑ سکا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا: وہ تو اہل جہنم سے ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں اس کا پیچھا کروں گا۔ یہ شخص بھی اس کے ساتھ نکلا، جہاں وہ رک جاتا یہ بھی اس کے ہمراہ ٹھہر جاتا اور جب وہ جلدی چلتا تو یہ بھی اس کے ہمراہ جلدی چلتا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آخر وہ شخص شدید زخمی ہو گیا اور زخموں سے تنگ آ کر اس نے جلد ہی موت کو دعوت دی کہ تلوار کا پھل تو اس نے زمین پر رکھ دیا اور اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابلے میں کر لیا، پھر اپنی تلوار پر جھک کر اپنے آپ کو قتل کر لیا۔ اب وہ (پیچھا کرنے والے) صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ اس نے کہا: وہ شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے اور لوگوں پر آپ کا یہ فرمان بہت گراں گزرا تھا، میں نے ان سے کہا کہ میں تم سب لوگوں کی طرف سے اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں، چنانچہ میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس کے بعد وہ شخص شدید زخمی ہوا اور جلد ہی موت کو دعوت دی کہ اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کر لیا، پھر اس پر خود کو گرا کر اپنے آپ کو قتل کر لیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص زندگی بھر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر دوزخ کے سے کام کرتا ہے، حالانکہ وہ اہل جنت سے ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2898]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الرَّمْيِ:
باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2899
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ}.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ الانفال میں) «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم» اور ان (کافروں) کے مقابلے کے لیے جس قدر بھی تم سے ہو سکے سامان تیار رکھو، قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے، جس کے ذریعہ سے تم اپنا رعب رکھتے ہو اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں پر۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2899]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2899
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا، وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ: فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكُمْ لَا تَرْمُونَ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْمُوا فَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ بنو اسلم کے چند لوگوں پر گزر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل علیہ السلام کے بیٹو! تیر اندازی کرو کہ تمہارے بزرگ دادا اسماعیل علیہ السلام بھی تیرانداز تھے۔ ہاں! تیر اندازی کرو، میں بنی فلاں (ابن الاورع رضی اللہ عنہ) کی طرف ہوں۔ بیان کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہو گئے تو (مقابلے میں حصہ لینے والے) دوسرے ایک فریق نے ہاتھ روک لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات پیش آئی، تم لوگوں نے تیر اندازی بند کیوں کر دی؟ دوسرے فریق نے عرض کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہو گئے تو بھلا ہم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تیر اندازی جاری رکھو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2899]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولادِ اسماعیل! تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارے بزرگ دادا حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی تیر انداز تھے۔ ہاں تم تیر اندازی کرو، میں بنو فلاں کی طرف ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہو گئے تو دوسرے فریق نے ہاتھ روک لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے، تم تیر اندازی کیوں نہیں کرتے؟ دوسرے فریق نے عرض کیا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہیں تو ہم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم تیر اندازی جاری رکھو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2899]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں