🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
146. بَابُ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ الْوِلْدَانُ وَالذَّرَارِيُّ:
باب: اگر (لڑنے والے) کافروں پر رات کو چھاپہ ماریں اور بغیر ارادہ کے عورتیں، بچے بھی زخمی ہو جائیں تو پھر کچھ قباحت نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3012
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ وَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ يُبَيَّتُونَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ، قَالَ: هُمْ مِنْهُمْ وَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا مقام ودان میں میرے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مشرکین کے جس قبیلے پر شب خون مارا جائے گا کیا ان کی عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کرنا درست ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے اللہ اور اس کے رسول کے سوا اور کسی کی چراگاہ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3012]
حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابواء یا ودان میں میرے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ مشرکین کے جس قبیلے پر شبخون مارا جائے تو اس دوران میں اگر بغیر قصد کے عورتیں اور بچے قتل ہو جائیں تو ان کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بھی انہی میں سے ہیں۔“ نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”چراگاہ تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3012]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3013
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّه سمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا الصَّعْبُ فِي الذَّرَارِيِّ كَانَ عَمْرٌو يُحَدِّثُنَا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ، قَالَ:" هُمْ مِنْهُمْ وَلَمْ يَقُلْ كَمَا، قَالَ: عَمْرٌو هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ".
(سابقہ سند کے ساتھ) زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے عبیداللہ سے سنا بواسطہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ان سے صعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ اور صرف «ذراري» (بچوں) کا ذکر کیا ‘ سفیان نے کہا کہ عمرو ہم سے حدیث بیان کرتے تھے۔ ان سے ابن شہاب ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، (سفیان نے) بیان کیا کہ پھر ہم نے حدیث خود زہری (ابن شہاب) سے سنی۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ نے خبر دی، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور انہیں صعب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(مشرکین کی عورتوں اور بچوں کے متعلق کہ) وہ بھی انہیں میں سے ہیں۔“ (زہری کے واسطہ سے) جس طرح عمرو نے بیان کیا تھا کہ «هم من آبائهم» وہ بھی انہیں کے باپ دادوں کی نسل ہیں۔ زہری نے خود ہم سے ان الفاظ کے ساتھ بیان نہیں کیا یعنی «هم من آبائهم» نہیں کہا بلکہ «هم منهم» کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3013]
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے عبیداللہ سے سنا، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت صعب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور صرف بچوں کا ذکر کیا۔ عمرو بن دینار، ابن شہاب زہری سے بیان کرتے ہیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ ہم نے زہری سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے عبیداللہ نے بتایا، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت صعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ”وہ (بچے اور عورتیں) ان میں سے ہیں۔“ اور اس طرح بیان نہیں کیا جس طرح عمرو بن دینار نے بیان کیا تھا: ”وہ اپنے آبا و اجداد میں سے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3013]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
147. بَابُ قَتْلِ الصِّبْيَانِ فِي الْحَرْبِ:
باب: جنگ میں بچوں کا قتل کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3014
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَتْلَ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو لیث نے خبر دی ‘ انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غزوہ (غزوہ فتح) میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر انکار کا اظہار فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3014]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوران جنگ میں) عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3014]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
148. بَابُ قَتْلِ النِّسَاءِ فِي الْحَرْبِ:
باب: جنگ میں عورتوں کا قتل کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3015
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: وُجِدَتِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا، کیا عبیداللہ نے آپ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی غزوے میں مقتول پائی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا (تو انہوں نے اس کا اقرار کیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3015]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض لڑائیوں میں ایک عورت قتل شدہ پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے“ سے منع فرما دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3015]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
149. بَابُ لاَ يُعَذَّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ:
باب: اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو عذاب نہ کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3016
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، فَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ"، ثُمَّ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ إِنِّي أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے بکیر نے ‘ ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ فرمایا اور یہ ہدایت فرمائی کہ اگر تمہیں فلاں اور فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا ‘ پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ ایک ایسی چیز ہے جس کی سزا صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔ اس لیے اگر وہ تمہیں ملیں تو انہیں قتل کرنا (آگ میں نہ جلانا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3016]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستے کے ہمراہ روانہ کیا اور فرمایا: ”اگر تم فلاں فلاں آدمی کو پا لو تو انہیں آگ میں جلا دو۔“ جب ہم نے روانگی کا پروگرام بنایا تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں فلاں فلاں آدمی کو جلا دینے کا حکم دیا تھا، اب بات یہ ہے کہ آگ کے ساتھ صرف اللہ ہی عذاب دیتا ہے، لہٰذا اگر تم انہیں پاؤ تو قتل کر دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3016]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3017
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَرَّقَ قَوْمًا فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ، وَلَقَتَلْتُهُمْ"، كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے عکرمہ نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو (جو عبداللہ بن سبا کی متبع تھی اور علی رضی اللہ عنہ کو اپنا رب کہتی تھی) جلا دیا تھا۔ جب یہ خبر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو آپ نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو کبھی انہیں نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کی سزا کسی کو نہ دو ‘ البتہ میں انہیں قتل ضرور کرتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کر دے اسے قتل کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3017]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہیں خبر ملی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلا دیا ہے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں ہرگز نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ کے عذاب (آگ) کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو۔“ ہاں، میں انہیں قتل کروا دیتا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”جو شخص اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3017]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
150. بَابُ: {فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً}:
باب: قیدیوں کو مفت احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3018-2
فِيهِ حَدِيثُ ثُمَامَةَ، وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ أَسْرَى} الآيَةَ.
‏‏‏‏ اس باب میں ثمامہ کی حدیث ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد «ما كان لنبي أن يكون له أسرى‏» ”نبی کے لیے مناسب نہیں کہ قیدی اپنے پاس رکھے۔ جب تک کافروں کا خوب ستیاناس نہ کر دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q3018-2]

151. بَابُ هَلْ لِلأَسِيرِ أَنْ يَقْتُلَ وَيَخْدَعَ الَّذِينَ أَسَرُوهُ حَتَّى يَنْجُوَ مِنَ الْكَفَرَةِ:
باب: اگر کوئی مسلمان کافر کی قید میں ہو تو اس کا خون کرنا یا کافروں سے دغا اور فریب کر کے اپنے تئیں چھڑا لینا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3018
فِيهِ الْمِسْوَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس باب میں مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q3018]

152. بَابُ إِذَا حَرَّقَ الْمُشْرِكُ الْمُسْلِمَ هَلْ يُحَرَّقُ:
باب: اگر کوئی مشرک کسی مسلمان کو آگ سے جلا دے تو کیا اسے بھی بدلہ میں جلایا جا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْغِنَا رِسْلًا، قَالَ:" مَا أَجِدُ لَكُمْ إِلَّا أَنْ تَلْحَقُوا بِالذَّوْدِ فَانْطَلَقُوا، فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا، وَأَلْبَانِهَا حَتَّى صَحُّوا وَسَمِنُوا، وَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، فَأَتَى الصَّرِيخُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فَمَا تَرَجَّلَ النَّهَارُ حَتَّى أُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ أَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ، فَكَحَلَهُمْ بِهَا، وَطَرَحَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَمَا يُسْقَوْنَ حَتَّى مَاتُوا"، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: قَتَلُوا وَسَرَقُوا وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَعَوْا فِي الْأَرْضِ فَسَادًا.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمیوں کی جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (اسلام قبول کرنے کو) حاضر ہوئی لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی ‘ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے (اونٹ کے) دودھ کا انتظام کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے دودھ نہیں دے سکتا ‘ تم (صدقہ کے) اونٹوں میں چلے جاؤ۔ ان کا دودھ اور پیشاب پیو ‘ تاکہ تمہاری صحت ٹھیک ہو جائے۔ وہ لوگ وہاں سے چلے گئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پی کر تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر دیا ‘ اور اونٹوں کو اپنے ساتھ لے کر بھاگ نکلے اور اسلام لانے کے بعد کفر کیا ‘ ایک شخص نے اس کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش کے لیے سوار دوڑائے ‘ دوپہر سے پہلے ہی وہ پکڑ کر لائے گئے۔ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے۔ پھر آپ کے حکم سے ان کی آنکھوں میں سلائی گرم کر کے پھیر دی گئی اور انہیں حرہ (مدینہ کی پتھریلی زمین) میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔ (ایسا ہی انہوں نے اونٹوں کے چرانے والوں کے ساتھ کیا تھا ‘ جس کا بدلہ انہیں دیا گیا) ابوقلابہ نے کہا کہ انہوں نے قتل کیا تھا ‘ چوری کی تھی ‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کی تھی اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3018]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمیوں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور انھیں مدینہ طیبہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے اونٹنیوں کے دودھ کا بندوبست کر دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس تمہارے لیے اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ تم اونٹنیوں کے پڑاؤ میں قیام کرو۔“ چنانچہ وہ چلے گئے اور وہاں اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پیا تو تندرست ہو کر پہلے سے بھی زیادہ موٹے ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور سب اونٹ ہانک کر لے گئے اور مسلمان ہونے کے بعد ارتداد کا راستہ اختیار کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پکارنے والے کے ذریعے سے ان کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاش کنندہ ان کے تعاقب میں روانہ فرمائے۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا کہ انھیں پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کا حکم دیا۔ پھر لوہے کی سلاخیں گرم کی گئیں اور انھیں ان کی آنکھوں میں پھیرا گیا اور انھیں پتھریلی زمین پر پھینک دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے تو ان کو پانی بھی نہیں پلایا گیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ (راوی حدیث) ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے قتل کیا، پھر چوری کی، اس کے بعد انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کی اور اللہ کی زمین میں ڈاکا زنی سے فساد برپا کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3018]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
153. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3019
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أن أبا هريرة رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ایک چیونٹی نے ایک نبی (عزیر یا موسیٰ علیہ السلام) کو کاٹ لیا تھا۔ تو ان کے حکم سے چیونٹیوں سے سارے گھر جلا دئیے گئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ اگر تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تھا تو تم نے ایک ایسی خلقت کو جلا کر خاک کر دیا جو اللہ کی تسبیح بیان کرتی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3019]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”سابقہ انبیائے کرام (علیہم السلام) میں سے ایک نبی کو کسی چیونٹی نے کاٹ کھایا تو اس کے حکم پر چیونٹیوں کا بل ہی جلا دیا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر وحی بھیجی کہ تجھے تو ایک چیونٹی نے کاٹا تھا لیکن تو نے ان کے پورے ایک گروہ کو جلا ڈالا جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا تھا؟“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3019]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں