صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. بَابُ حَرْقِ الدُّورِ وَالنَّخِيلِ:
باب: (حربی کافروں کے) گھروں اور باغوں کو جلانا۔
حدیث نمبر: 3020
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: قَالَ لِي جَرِيرٌ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ، قَالَ: وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ، فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْوَفُ أَوْ أَجْرَبُ، قَالَ: فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ذوالخلصہ کو (برباد کر کے) مجھے راحت کیوں نہیں دے دیتے۔ یہ ذوالخلصہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا اور اسے «كعبة اليمانية» کہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں قبیلہ احمس کے ایک سو پچاس سواروں کو لے کر چلا۔ یہ سب حضرات بڑے اچھے گھوڑ سوار تھے۔ لیکن میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر (اپنے ہاتھ سے) مارا ‘ میں نے انگشت ہائے مبارک کا نشان اپنے سینے پر دیکھا۔ فرمایا: اے اللہ! گھوڑے کی پشت پر اسے ثبات عطا فرما ‘ اور اسے دوسروں کو ہدایت کی راہ دکھانے والا اور خود ہدایت یافتہ بنا ‘ اس کے بعد جریر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے ‘ اور ذوالخلصہ کی عمارت کو گرا کر اس میں آگ لگا دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر بھجوائی۔ جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد (ابو ارطاۃ حصین بن ربیعہ) نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا ‘ جب تک ہم نے ذوالخلصہ کو ایک خالی پیٹ والے اونٹ کی طرح نہیں بنا دیا ‘ یا (انہوں نے کہا) خارش والے اونٹ کی طرح (مراد ویرانی سے ہے) جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے سواروں اور قبیلوں کے تمام لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکتوں کی دعا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3020]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم مجھے ذوالخلصہ سے راحت کیوں نہیں دیتے؟“ یہ قبیلہ خشعم میں ایک گھر تھا جس کو کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں آپ کا فرمان سن کر قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کے ہمراہ چلا جن کے پاس گھوڑے تھے، لیکن میرا پاؤں گھوڑے پر نہیں جمتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس سے میں نے آپ کی انگلیوں کے نشانات اپنے سینے پر دیکھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللّٰهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا» ”اے اللہ! اس کو گھوڑے پر جما دے، اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔“ الغرض حضرت جریر رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور اس بت کو توڑ کر جلا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی کے ذریعے سے اس کی اطلاع دی۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ کے قاصد نے بیان کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! میں آپ کے پاس اس وقت آیا ہوں جبکہ وہ بت خالی پیٹ والے (کھوکھلے) یا (انہوں نے کہا) خارشی اونٹ کی طرح خاکستر ہو چکا تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور شہ سواروں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3020]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3021
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" حَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں موسیٰ بن عقبہ نے ‘ انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہود) بنو نضیر کے کھجور کے باغات جلوا دیئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3021]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے نخلستان جلا دیے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3021]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
155. بَابُ قَتْلِ النَّائِمِ الْمُشْرِكِ:
باب: (حربی) مشرک سو رہا ہو تو اس کا مار ڈالنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 3022
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي رَافِعٍ لِيَقْتُلُوهُ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَدَخَلَ حِصْنَهُمْ، قَالَ: فَدَخَلْتُ فِي مَرْبِطِ دَوَابَّ لَهُمْ، قَالَ: وَأَغْلَقُوا بَابَ الْحِصْنِ، ثُمَّ إِنَّهُمْ فَقَدُوا حِمَارًا لَهُمْ فَخَرَجُوا يَطْلُبُونَهُ، فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ أُرِيهِمْ أَنَّنِي أَطْلُبُهُ مَعَهُمْ، فَوَجَدُوا الْحِمَارَ فَدَخَلُوا وَدَخَلْتُ وَأَغْلَقُوا بَابَ الْحِصْنِ لَيْلًا، فَوَضَعُوا الْمَفَاتِيحَ فِي كَوَّةٍ حَيْثُ أَرَاهَا فَلَمَّا نَامُوا أَخَذْتُ الْمَفَاتِيحَ فَفَتَحْتُ بَابَ الْحِصْنِ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا رَافِعٍ فَأَجَابَنِي فَتَعَمَّدْتُ الصَّوْتَ فَضَرَبْتُهُ، فَصَاحَ، فَخَرَجْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ كَأَنِّي مُغِيثٌ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا رَافِعٍ وَغَيَّرْتُ صَوْتِي، فَقَالَ: مَا لَكَ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ، قُلْتُ: مَا شَأْنُكَ، قَالَ: لَا أَدْرِي مَنْ دَخَلَ عَلَيَّ فَضَرَبَنِي، قَالَ: فَوَضَعْتُ سَيْفِي فِي بَطْنِهِ، ثُمَّ تَحَامَلْتُ عَلَيْهِ حَتَّى قَرَعَ الْعَظْمَ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَأَنَا دَهِشٌ فَأَتَيْتُ سُلَّمًا لَهُمْ لِأَنْزِلَ مِنْهُ فَوَقَعْتُ، فَوُثِئَتْ رِجْلِي، فَخَرَجْتُ إِلَى أَصْحَابِي، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِبَارِحٍ حَتَّى أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ، فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى سَمِعْتُ نَعَايَا أَبِي رَافِعٍ تَاجِرِ أَهْلِ الْحِجَازِ، قَالَ: فَقُمْتُ وَمَا بِي قَلَبَةٌ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ".
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع (یہودی) کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ‘ ان میں سے ایک صاحب (عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ) آگے چل کر اس قلعہ کے اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اندر جانے کے بعد میں اس مکان میں گھس گیا ‘ جہاں ان کے جانور بندھا کرتے تھے۔ بیان کیا کہ انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ لیکن اتفاق کہ ان کا ایک گدھا ان کے مویشیوں میں سے گم تھا۔ اس لیے اسے تلاش کرنے کے لیے باہر نکلے۔ (اس خیال سے کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں) نکلنے والوں کے ساتھ میں بھی باہر آ گیا ‘ تاکہ ان پر یہ ظاہر کر دوں کہ میں بھی تلاش کرنے والوں میں سے ہوں ‘ آخر گدھا انہیں مل گیا ‘ اور وہ پھر اندر آ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ اندر آ گیا اور انہوں نے قلعہ کا دروازہ بند کر لیا ‘ رات کا وقت تھا ‘ کنجیوں کا گچھا انہوں نے ایک ایسے طاق میں رکھا ‘ جسے میں نے دیکھ لیا تھا۔ جب وہ سب سو گئے تو میں نے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور دروازہ کھول کر ابورافع کے پاس پہنچا۔ میں نے اسے آواز دی ‘ ابورافع! اس نے جواب دیا اور میں فوراً اس کی آواز کی طرف بڑھا اور اس پر وار کر بیٹھا۔ وہ چیخنے لگا تو میں باہر چلا آیا۔ اس کے پاس سے واپس آ کر میں پھر اس کے کمرہ میں داخل ہوا ‘ گویا میں اس کی مدد کو پہنچا تھا۔ میں نے پھر آواز دی ابورافع! اس مرتبہ میں نے اپنی آواز بدل لی تھی، اس نے کہا کہ کیا کر رہا ہے، تیری ماں برباد ہو۔ میں نے پوچھا، کیا بات پیش آئی؟ وہ کہنے لگا ‘ نہ معلوم کون شخص میرے کمرے میں آ گیا ‘ اور مجھ پر حملہ کر بیٹھا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ اب کی بار میں نے اپنی تلوار اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنی زور سے دبائی کہ اس کی ہڈیوں میں اتر گئی ‘ جب میں اس کے کمرہ سے نکلا تو بہت دہشت میں تھا۔ پھر قلعہ کی ایک سیڑھی پر میں آیا تاکہ اس سے نیچے اتر جاؤں مگر میں اس پر سے گر گیا ‘ اور میرے پاؤں میں موچ آ گئی ‘ پھر جب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ میں تو اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک اس کی موت کا اعلان خود نہ سن لوں۔ چنانچہ میں وہیں ٹھہر گیا۔ اور میں نے رونے والی عورتوں سے ابورافع حجاز کے سوداگر کی موت کا اعلان بلند آواز سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں وہاں سے اٹھا ‘ اور مجھے اس وقت کچھ بھی درد معلوم نہیں ہوا ‘ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بشارت دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3022]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمیوں کو ابو رافع کی طرف بھیجا تاکہ وہ اسے قتل کر دیں۔ ان میں سے ایک صاحب آگے چل کر ان کے قلعے میں داخل ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ان کے گھوڑوں کے اصطبل میں چھپ گیا۔ پھر انہوں نے قلعے کا دروازہ بند کر دیا۔ اس دوران میں انہوں نے ایک گدھا گم پایا تو اس کی تلاش میں باہر نکلے۔ میں بھی ان لوگوں کے ساتھ باہر نکلا تاکہ ان پر یہ ظاہر کروں کہ میں بھی تلاش کرنے والوں میں شامل ہوں۔ بالآخر انہوں نے گدھا تلاش کر لیا اور قلعے میں داخل ہو گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ اندر آ گیا۔ پھر انہوں نے دروازہ بند کر دیا اور ایک طاق میں اس کی چابیاں رکھ دیں جسے میں نے دیکھ لیا۔ جب وہ سو گئے تو میں نے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور دروازہ کھول دیا۔ پھر میں ابو رافع کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے اسے آواز دی: ابو رافع! اس نے مجھے جواب دیا تو میں فوراً اس کی آواز کی طرف بڑھا اور اس پر وار کر دیا۔ وہ چلایا تو میں باہر آ گیا۔ میں لوٹ کر پھر اس کے کمرے میں داخل ہوا گویا میں اس کا فریاد رس ہوں۔ میں نے کہا: ابو رافع! اس مرتبہ میں نے اپنی آواز بدل لی تھی۔ اس نے کہا: تو کیا کر رہا ہے؟ تیری ماں کی ہلاکت ہو! میں نے کہا: تجھے کیا بات پیش آئی؟ اس نے کہا: نامعلوم کوئی شخص میرے کمرے میں گھس آیا اور اس نے مجھ پر حملہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا: تب میں نے تلوار اس کے پیٹ میں رکھ دی، پھر اس پر زور دیا حتیٰ کہ وہ اس کی ہڈیوں میں اتر گئی۔ جب میں اس کے کمرے سے نکلا تو بہت دہشت زدہ تھا۔ میں ان کی سیڑھی کے پاس آیا تاکہ اس کے ذریعے سے نیچے اتروں مگر میں اس پر سے گر گیا اور میرے پاؤں کو سخت چوٹ آئی، پھر جب میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ میں تو اس وقت تک یہیں رہوں گا جب تک اس کی موت کا اعلان خود نہ سن لوں، چنانچہ میں وہیں ٹھہر گیا اور میں نے رونے والی عورتوں سے ابو رافع حجاز کے سوداگر کی موت کا اعلان با آواز بلند سنا۔ پھر میں وہاں سے اٹھا تو مجھے اس وقت کچھ بھی درد محسوس نہیں ہوا حتیٰ کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3022]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي رَافِعٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ بَيْتَهُ لَيْلًا، فَقَتَلَهُ وَهُوَ نَائِمٌ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن ابی زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے اس کے والد نے ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے چند آدمیوں کو ابورافع کے پاس (اسے قتل کرنے کے لیے) بھیجا تھا۔ چنانچہ رات میں عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ اس کے قلعہ میں داخل ہوئے اور اسے سوتے ہوئے قتل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3023]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کا ایک گروہ ابو رافع کی طرف روانہ کیا، چنانچہ رات کے وقت حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ اس کے قلعے میں داخل ہو گئے اور اسے سوتے میں قتل کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3023]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
156. بَابُ لاَ تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ:
باب: دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزو نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 3024
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ كُنْتُ كَاتِبًا لَهُ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ فَقَرَأْتُهُ، فَإِذَا فِيهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن یوسف یربوعی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا۔ سالم نے بیان کیا کہ جب وہ خوارج سے لڑنے کے لیے روانہ ہوئے تو انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کا خط ملا۔ میں نے اسے پڑھا تو اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی کے موقع پر انتظار کیا ‘ پھر جب سورج ڈھل گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3024]
عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابونضر نے بیان کیا کہ وہ عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا۔ اس (سالم) نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما نے اسے (سالم ابونضر کو) ایک خط لکھا جب وہ خوارج سے لڑنے کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ خط پڑھا، اس کا مضمون یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی کے موقع پر سورج ڈھلنے کا انتظار کیا، (جب سورج ڈھل گیا تو) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! دشمن سے مقابلے کی خواہش نہ کرو بلکہ اللہ سے سلامتی کی دعا مانگو، لیکن جب دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ» ”اے اللہ! کتاب نازل فرمانے والے، بادل چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے، انہیں (ہمارے دشمنوں کو) شکست سے دوچار کر اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3024]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3025
ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ، وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ". وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ كُنْت كَاتِبًا لِعُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَأَتَاهُ كِتَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ".
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”اے لوگو! دشمن سے لڑائی بھڑائی کی تمنا نہ کرو ‘ بلکہ اللہ سے سلامتی مانگو۔ ہاں! جب جنگ چھڑ جائے تو پھر صبر کئے رہو اور ڈٹ کر مقابلہ کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا کی «اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم» ”اے اللہ! کتاب (قرآن) کے نازل فرمانے والے ‘ اے بادلوں کے چلانے والے! اے احزاب (یعنی کافروں کی جماعتوں کو غزوہ خندق کے موقع پر) شکست دینے والے! ہمارے دشمن کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔“ اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا۔ ان کے پاس عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کا خط آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”دشمن سے لڑائی لڑنے کی تمنا نہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3025]
موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ مجھ سے سالم ابو نضر نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا، ان کے پاس حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کا خط آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے بھڑنے کی خواہش نہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3025]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3026
وَقَالَ: أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا".
ابوعامر نے کہا ‘ ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالزناد نے ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دشمن سے لڑنے بھڑنے کی تمنا نہ کرو ‘ ہاں! اگر جنگ شروع ہو جائے تو پھر صبر سے کام لو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3026]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے لڑنے بھڑنے کی خواہش نہ کرو، ہاں جب مقابلہ ہوجائے تو پھر صبر سے کام لو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3026]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
157. بَابُ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ:
باب: لڑائی مکر و فریب کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَلَكَ كِسْرَى، ثُمَّ لَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ وَقَيْصَرٌ لَيَهْلِكَنَّ، ثُمَّ لَا يَكُونُ قَيْصَرٌ بَعْدَهُ وَلَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسریٰ (ایران کا بادشاہ) برباد و ہلاک ہو گیا ‘ اب اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں آئے گا۔ اور قیصر (روم کا بادشاہ) بھی ہلاک و برباد ہو گیا ‘ اور اس کے بعد (شام میں) کوئی قیصر باقی نہیں رہ جائے گا۔ اور ان کے خزانے اللہ کے راستے میں تقسیم ہوں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3027]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسریٰ ہلاک ہو گیا، اب اس کے بعد دوسرا کسریٰ نہیں ہو گا اور قیصر بھی یقیناً ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بعد پھر دوسرا قیصر نہیں ہو گا۔ اور قیصر و کسریٰ کے خزانے اللہ کی راہ میں تقسیم کیے جائیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3027]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3028
وَسَمَّى الْحَرْبَ خَدْعَةً".
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کو مکر اور فریب فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3028]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کو «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ”مکر و فریب“ کا نام دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3029
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بُورُ بْنُ أَصْرَمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" سَمَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْبَ خَدْعَةً".
ہم سے ابوبکر بن اصرم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑائی کیا ہے؟ ایک چال ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3029]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائی کو «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» ”ایک چال“ کا نام دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة