🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في الجنائز)
(جنازے کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: لما أرادوا غسل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قالوا: والله ما ندري نجرد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من ثيابه كما نجرد موتانا أم نغسله وعليه ثيابه؟. الحديث. رواه أحمد وأبو داود
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم! ہمیں علم نہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اتاریں جس طرح ہم اپنے مرنے والوں کے کپڑے اتارتے ہیں یا نہ اتاریں؟ پھر ساری حدیث بیان کی۔ (احمد اور ابوداؤد) [بلوغ المرام/حدیث: 435]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «لَمَّا أَرَادُوا» جب انہوں نے ارادہ کیا – «غَسْلَ» غسل دینے کا – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالُوا» تو انہوں نے کہا: – «وَاللَّهِ» اللہ کی قسم – «مَا نَدْرِي» ہم نہیں جانتے – «نُجَرِّدُ» کیا ہم (کپڑے) اتار دیں – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مِنْ ثِيَابِهِ» ان کے کپڑوں سے – «كَمَا نُجَرِّدُ» جیسے ہم اتارتے ہیں – «مَوْتَانَا» اپنے مُردوں کے – «أَمْ نَغْسِلُهُ» یا ہم انہیں غسل دیں – «وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ» اس حال میں کہ ان پر ان کے کپڑے ہوں؟ – «الْحَدِيثَ» (پوری) حدیث۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے اسی طرح اتار دیں جیسے اپنے مُردوں کے اتارتے ہیں، یا آپ کو اس حال میں غسل دیں کہ آپ کے کپڑے آپ پر ہوں؟ (پھر پوری) حدیث (ذکر کی)۔ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب في ستر الميت عند غسله، حديث:3141، وأحمد:6 /267.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
وعن أم عطية رضي الله عنها قالت: دخل علينا النبي صلى الله عليه وآله وسلم ونحن نغسل ابنته فقال: «‏‏‏‏اغسلنها ثلاثا أو خمسا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الآخرة كافورا أو شيئا من كافور» فلما فرغنا آذناه فألقى إلينا حقوه فقال: «‏‏‏‏أشعرنها إياه» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية: «‏‏‏‏ابدأن بميامنها ومواضع الوضوء منها» .‏‏‏‏ وفي لفظ للبخاري: فضفرنا شعرها ثلاثة قرون فألقيناها خلفها.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسے تین یا پانچ مرتبہ، یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو۔ اگر ضرورت محسوس کرو، غسل پانی اور بیری کے پتوں سے دو، آخر میں کافور یا فرمایا کچھ کافور ڈالو“ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع بھجوا دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند اتار کر ہماری طرف پھینک دیا اور فرمایا ”اسے جسم کے ساتھ لگا دو۔“ (بخاری و مسلم) اور ایک روایت میں ہے کہ غسل دائیں طرف سے اور وضو کے اعضاء سے شروع کرنا۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ہم نے ان کے سر کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا اور ان کو پشت پر ڈال دیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 436]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ عَطِيَّةَ» ام عطیہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «دَخَلَ عَلَيْنَا» ہمارے پاس تشریف لائے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَنَحْنُ نُغَسِّلُ» جبکہ ہم غسل دے رہی تھیں – «ابْنَتَهُ» آپ کی بیٹی کو – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «اغْسِلْنَهَا» اسے غسل دو – «ثَلَاثًا» تین بار – «أَوْ خَمْسًا» یا پانچ بار – «أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ» یا اس سے زیادہ – «إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ» اگر تم اس کی ضرورت سمجھو – «بِمَاءٍ وَسِدْرٍ» پانی اور بیری (کے پتوں) سے – «وَاجْعَلْنَ» اور ڈالو – «فِي الْآخِرَةِ» آخری بار میں – «كَافُورًا» کافور – «أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ» یا کچھ کافور۔ – «فَلَمَّا فَرَغْنَا» پھر جب ہم فارغ ہوئیں – «آذَنَّاهُ» تو ہم نے آپ کو اطلاع دی – «فَأَلْقَى إِلَيْنَا» تو آپ نے ہماری طرف ڈالا – «حِقْوَهُ» اپنا تہبند – «فَقَالَ» اور فرمایا: – «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» اسے اس (کے جسم) سے متصل پہنا دو۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «ابْدَأْنَ» شروع کرو – «بِمَيَامِنِهَا» اس کی دائیں جانبوں سے – «وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا» اور اس کے وضو کے اعضاء سے۔ – «وَفِي لَفْظٍ لِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کے ایک لفظ میں ہے: – «فَضَفَرْنَا» تو ہم نے گوندھ دیا – «شَعْرَهَا» اس کے بالوں کو – «ثَلَاثَةَ قُرُونٍ» تین چوٹیوں میں – «فَأَلْقَيْنَاهَا» اور ہم نے انہیں ڈال دیا – «خَلْفَهَا» اس کے پیچھے۔
اور سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں، تو آپ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار، یا اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بار غسل دو، اور آخری بار میں کافور یا کچھ کافور ملا دو۔“ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع دی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف ڈال دیا اور فرمایا: ”یہ اس کے جسم سے متصل پہنا دو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ایک روایت میں ہے: ”اس کی دائیں جانب اور وضو کے اعضاء سے شروع کرو۔“ اور بخاری کے ایک لفظ میں ہے: ہم نے ان کے بالوں کی تین چوٹیاں گوندھ کر انہیں پیچھے ڈال دیا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 436]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب غسل الميت ووضوئه بالماء والسدر، حديث:1253، ومسلم، الجنائز، باب في غسل الميت، حديث:939.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كفن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في ثلاثة أثواب بيض سحولية من كرسف ليس فيها قميص ولا عمامة. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سحولیہ کے بنے ہوئے سوتی سفید رنگ کے تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ جس میں قمیص اور پگڑی نہیں تھی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 437]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كُفِّنَ» کفن دیا گیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ» تین کپڑوں میں – «بِيضٍ» سفید – «سَحُولِيَّةٍ» سحولی (یمنی) – «مِنْ كُرْسُفٍ» روئی (سوت) کے – «لَيْسَ فِيهَا» ان میں نہ تھی – «قَمِيصٌ» قمیص – «وَلَا عِمَامَةٌ» اور نہ پگڑی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین سفید سحولی (یمنی) سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں نہ قمیص تھی اور نہ پگڑی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب الثياب البيض للكفن، حديث:1264، ومسلم، الجنائز، باب في كفن الميت، حديث:941.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: لما توفي عبد الله بن أبي جاء ابنه إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال: أعطني قميصك أكفنه فيه،‏‏‏‏ فأعطاه صلى الله عليه وآله وسلم قميصه.متفق عليه
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ عبداللہ بن ابی جب فوت ہوا تو اس کا بیٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قمیص عنایت فرما دیں کہ میں اس میں اسے کفن دے دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتار کر عنایت فرما دی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 438]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَمَّا تُوُفِّيَ» جب فوت ہوا – «عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ» عبداللہ بن ابی – «جَاءَ ابْنُهُ» اس کا بیٹا آیا – «إِلَى رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقَالَ» اور کہا: – «أَعْطِنِي» مجھے عطا فرمائیں – «قَمِيصَكَ» اپنی قمیص – «أُكَفِّنْهُ فِيهِ» کہ میں اسے اس میں کفن دوں – «فَأَعْطَاهُ» تو آپ نے اسے دے دی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَمِيصَهُ» اپنی قمیص۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب عبداللہ بن ابی (منافق) مر گیا تو اس کا بیٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ مجھے اپنی قمیص عطا فرما دیں تاکہ میں اسے اس میں کفن دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنی قمیص دے دی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب الكفن في القميص الذي يكف أو لا يكف، حديث:1269، ومسلم، صفات المنافقين، حديث:2774.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم» . رواه الخمسة إلا النسائي وصححه الترمذي.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سفید لباس زیب تن کیا کرو یہ تمہارے ملبوسات میں بہترین اور عمدہ لباس ہے اور اپنے مرنے والوں کو بھی اس میں کفن دیا کرو۔“
نسائی کے علاوہ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 439]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «الْبَسُوا» پہنو – «مِنْ ثِيَابِكُمُ» اپنے کپڑوں میں سے – «الْبَيَاضَ» سفید – «فَإِنَّهَا» کیونکہ وہ – «مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ» تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں – «وَكَفِّنُوا فِيهَا» اور ان میں کفن دو – «مَوْتَاكُمْ» اپنے مُردوں کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو، کیونکہ وہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں، اور انہی میں اپنے مُردوں کو کفن دیا کرو۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطب، باب في الكحل، حديث:3878، والترمذي، الجنائز، حديث:994، وابن ماجه، الجنائز، حديث:1472، وأحمد:1 /247، 363.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
وعن جابر رضي الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا كفن أحدكم أخاه فليحسن كفنه» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جب کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اسے اچھا کفن دینا چاہیئے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 440]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا كَفَّنَ» جب کفن دے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «أَخَاهُ» اپنے بھائی کو – «فَلْيُحْسِنْ» تو چاہیے کہ اچھا بنائے – «كَفَنَهُ» اس کا کفن۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے (مسلمان) بھائی کو کفن دے تو اسے اچھا کفن دے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب في تحسين كفن الميت، حديث:943.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
وعنه رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يجمع بين الرجلين من قتلى أحد في ثوب واحد ثم يقول: «‏‏‏‏أيهم أكثر أخذا للقرآن؟» ‏‏‏‏ فيقدمه في اللحد ولم يغسلوا ولم يصل عليهم. رواه البخاري.
اور انہی (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کے دو دو آدمیوں کو ایک لباس میں جمع کرتے تھے پھر فرمایا ”ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد تھا۔ جسے زیادہ یاد ہوتا، اسے لحد میں پہلے اتارتے۔ نہ تو ان شہداء کو غسل دیا گیا اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 441]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَجْمَعُ» جمع کرتے تھے – «بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ» دو آدمیوں کو – «مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ» احد کے شہیدوں میں سے – «فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ» ایک کپڑے میں – «ثُمَّ يَقُولُ» پھر فرماتے: – «أَيُّهُمْ» ان میں سے کون – «أَكْثَرُ أَخْذًا» زیادہ حاصل کرنے والا ہے – «لِلْقُرْآنِ» قرآن کو؟ – «فَيُقَدِّمُهُ» تو آپ اسے آگے رکھتے – «فِي اللَّحْدِ» لحد (قبر) میں – «وَلَمْ يُغَسَّلُوا» اور انہیں غسل نہیں دیا گیا – «وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ» اور آپ نے ان پر نماز (جنازہ) نہیں پڑھی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور انہی (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احد کے شہداء میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں جمع کرتے، پھر پوچھتے: ”ان میں سے قرآن کس نے زیادہ حاصل کیا ہے؟“ تو اسے لحد میں آگے رکھتے، اور انہیں نہ غسل دیا گیا اور نہ آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب من يقدم في اللحد، حديث:1347 نحو المعني.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
وعن علي رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏لا تغالوا في الكفن فإنه يسلب سلبا سريعا» . رواه أبو داود.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”(بہت) قیمتی کفن نہ دیا کرو۔ وہ تو بہت جلد بوسیدہ ہو جاتا ہے۔“ (ابوداؤد) [بلوغ المرام/حدیث: 442]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «لَا تَغَالَوْا» حد سے نہ بڑھو (زیادہ قیمتی نہ بناؤ) – «فِي الْكَفَنِ» کفن میں – «فَإِنَّهُ» کیونکہ وہ – «يُسْلَبُ» چھین لیا جاتا ہے (بوسیدہ ہو جاتا ہے) – «سَلْبًا سَرِيعًا» بہت جلد۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کفن میں مبالغہ (بہت قیمتی کفن) نہ کرو، کیونکہ وہ بہت جلد ختم (بوسیدہ) ہو جاتا ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب كراهية المغالاة في الكفن، حديث:3154.* عمروبن هاشم الجنبي لين الحديث، أفرط فيه ابن حبان (تقريب)، وابن أبي خالد عنعن، وفيه علة أخري.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 443
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لها: «لومت قبلي لغسلتك» ‏‏‏‏ الحديث. رواه أحمد وابن ماجه وصححه ابن حبان.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ ”اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو جائے تو میں تمہیں غسل دوں گا۔“
اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 443]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ لَهَا» نے ان سے فرمایا: – «لَوْ مِتِّ» اگر تم فوت ہو جاؤ – «قَبْلِي» مجھ سے پہلے – «لَغَسَّلْتُكِ» تو میں تمہیں غسل دوں گا۔ – «الْحَدِيثَ» (پوری) حدیث۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہو گئیں تو میں تمہیں غسل دوں گا۔“ (پھر پوری) حدیث (ذکر کی)۔ اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الجنائز، باب ما جاء في غسل الرجل امرأته وغسل المرأة زوجها، حديث:1465، وأحمد:6 /228، الزهري مدلس وعنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 444
وعن أسماء بنت عميس رضي الله عنها: أن فاطمة رضي الله عنها أوصت أن يغسلها علي. رواه الدارقطني.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے خود یہ وصیت کی تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود ان کو غسل دیں۔ (سنن دارقطنی) [بلوغ المرام/حدیث: 444]
«وَعَنْ» اور سے – «أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ» اسماء بنت عمیس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «فَاطِمَةَ» فاطمہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَوْصَتْ» نے وصیت کی – «أَنْ يُغَسِّلَهَا» کہ انہیں غسل دیں – «عَلِيٌّ» علی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے۔
اور سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی تھی کہ انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ غسل دیں۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 444]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:2 /79، والبيهقي:3 /396.* أم جعفربنت محمد بن جعفروهي أم عون بن محمد، لم أجد من وثقها، وقال ابن التركماني: "في سنده من يحتاج إلي كشف حاله" وفي الحديث علة أخري ذكرها ابن التركماني.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں