بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. (أحاديث في الجنائز)
(جنازے کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 475
وعن أم عطية رضي الله عنها قالت: أخذ علينا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عند البيعة أن لا ننوح. متفق عليه.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے موقع پر یہ عہد لیا تھا کہ ہم میت پر نوحہ نہیں کریں گی۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 475]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ عَطِيَّةَ» ام عطیہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «أَخَذَ» (عہد) لیا – «عَلَيْنَا» ہم سے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عِنْدَ الْبَيْعَةِ» بیعت کے وقت – «أَنْ لَا نَنُوحَ» کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت کے وقت ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 475]
اور سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت کے وقت ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب ما ينهي من النوح والبكاء، والزجر عن ذلك، حديث:1306، ومسلم، الجنائز، باب التشديد في النياحة، حديث:936.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 476
وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «الميت يعذب في قبره بما نيح عليه» . متفق عليه، ولهما نحوه عن المغيرة بن شعبة.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مرنے والے کو اس پر نوحہ کرنے والوں کے سبب سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔“ (بخاری و مسلم)
نیز ان دونوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 476]
نیز ان دونوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 476]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «الْمَيِّتُ» میت کو – «يُعَذَّبُ» عذاب دیا جاتا ہے – «فِي قَبْرِهِ» اس کی قبر میں – «بِمَا نِيحَ» اس نوحے کی وجہ سے جو کیا گیا – «عَلَيْهِ» اس پر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلَهُمَا» اور ان دونوں کے لیے ہے – «نَحْوُهُ» اسی طرح کی (روایت) – «عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ» مغیرہ بن شعبہ سے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے گئے نوحے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ان دونوں (بخاری و مسلم) میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 476]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کی قبر میں اس پر کیے گئے نوحے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ان دونوں (بخاری و مسلم) میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب قولالنبي صلي الله عليه وسلم يعذب الميت ببعض بكاء أهله عليه، حديث:1290، ومسلم، الجنائز، باب الميت يعذب ببكاء أهله عليه، حديث:927، وحديث المغيرة أخرجه البخاري، الجنائز، حديث:1291، ومسلم، الجنائز، حديث:933.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 477
وعن أنس رضي الله عنه قال: شهدت بنتا للنبي صلى الله عليه وآله وسلم تدفن، ورسول الله صلى الله عليه وآله وسلم جالس على القبر فرأيت عينيه تدمعان. واه البخاري.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کی تدفین کے موقع پر حاضر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 477]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «شَهِدْتُ» میں موجود تھا – «بِنْتًا» ایک بیٹی (کے دفن میں) – «لِلنَّبِيِّ» نبی کی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «تُدْفَنُ» جو دفن کی جا رہی تھی – «وَرَسُولُ اللَّهِ» اور اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «جَالِسٌ» بیٹھے ہوئے تھے – «عَلَى الْقَبْرِ» قبر پر (کے کنارے) – «فَرَأَيْتُ» تو میں نے دیکھا – «عَيْنَيْهِ» آپ کی دونوں آنکھوں کو – «تَدْمَعَانِ» کہ آنسو بہا رہی تھیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی (سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا) کی تدفین کے وقت موجود تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 477]
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی (سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا) کی تدفین کے وقت موجود تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب قول النبي صلي الله عليه وسلم يعذب الميت ببعض بكاء أهله عليه، حديث:1285.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 478
وعن جابر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا تدفنوا موتاكم بالليل إلا أن تضطروا» . أخرجه ابن ماجه، وأصله في مسلم، لكن قال: زجر أن يقبر الرجل بالليل حتى يصلى عليه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اپنے مرنے والوں کو رات کے اوقات میں دفن نہ کرو الایہ کہ تم اس کے لئے مجبور ہو جاؤ۔“ (ابن ماجہ) اس کی اصل مسلم میں ہے لیکن اسی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو دفن کرنے پر ڈانٹا الایہ کہ نماز جنازہ پڑھ لی جائے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 478]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَا تَدْفِنُوا» دفن نہ کرو – «مَوْتَاكُمْ» اپنے مردوں کو – «بِاللَّيْلِ» رات کے وقت – «إِلَّا أَنْ تُضْطَرُّوا» مگر یہ کہ تم مجبور ہو جاؤ۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي مُسْلِمٍ» مسلم میں ہے – «لَكِنْ قَالَ» لیکن (اس میں) کہا: – «زَجَرَ» آپ نے سختی سے منع فرمایا – «أَنْ يُقْبَرَ» کہ دفن کیا جائے – «الرَّجُلُ» آدمی – «بِاللَّيْلِ» رات کے وقت – «حَتَّى يُصَلَّى» یہاں تک کہ نماز پڑھی جائے – «عَلَيْهِ» اس پر۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مُردوں کو رات کے وقت دفن نہ کرو، الا یہ کہ تم مجبور ہو جاؤ۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل مسلم میں ہے، لیکن اس میں یہ الفاظ ہیں: آپ نے اس بات سے سختی سے منع فرمایا کہ آدمی کو رات کے وقت دفن کیا جائے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 478]
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مُردوں کو رات کے وقت دفن نہ کرو، الا یہ کہ تم مجبور ہو جاؤ۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل مسلم میں ہے، لیکن اس میں یہ الفاظ ہیں: آپ نے اس بات سے سختی سے منع فرمایا کہ آدمی کو رات کے وقت دفن کیا جائے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الجنائز، باب ما جاء في الأوقات التي لا يصلي فيها علي الميت، حديث:1521 وسنده ضعيف، وللحديث شاهد عند مسلم، الجنائز، حديث:943.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 479
وعن عبد الله بن جعفر رضي الله عنهما قال: لما جاء نعي جعفر حين قتل قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد أتاهم ما يشغلهم» . أخرجه الخمسة إلا النسائي.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر موصول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کرو۔ ان کو ایسی تکلیف دہ اطلاع ملی ہے جو ان کو کھانا پکانے سے مشغول رکھے گی۔“ نسائی کے علاوہ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 479]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ» عبداللہ بن جعفر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَمَّا جَاءَ» جب آئی – «نَعْيُ» موت کی خبر – «جَعْفَرٍ» جعفر کی – «حِينَ قُتِلَ» جب وہ شہید کیے گئے – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «اصْنَعُوا» تیار کرو – «لِآلِ جَعْفَرٍ» جعفر کے گھر والوں کے لیے – «طَعَامًا» کھانا – «فَقَدْ أَتَاهُمْ» کیونکہ یقیناً ان پر آ پڑا ہے – «مَا يَشْغَلُهُمْ» وہ (صدمہ) جو انہیں مشغول رکھے گا۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «إِلَّا النَّسَائِيَّ» سوائے نسائی کے۔
اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب (سیدنا) جعفر (رضی اللہ عنہ) کی شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسا (صدمہ) آ پڑا ہے جس نے انہیں (کھانا بنانے سے) مشغول کر دیا ہے۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 479]
اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب (سیدنا) جعفر (رضی اللہ عنہ) کی شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر ایسا (صدمہ) آ پڑا ہے جس نے انہیں (کھانا بنانے سے) مشغول کر دیا ہے۔“ اسے نسائی کے سوا پانچوں (احمد، ابو داود، ترمذی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب صفة الطعام لأهل الميت، حديث:3132، والترمذي، الجنائز، حديث:998، وابن ماجه، الجنائز، حديث:1610، وأحمد:1 /205.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 480
وعن سليمان بن بريدة عن أبيه رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يعلمهم إذا خرجوا إلى المقابرأن يقولوا: السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم للاحقون أسأل الله لنا ولكم العافية. رواه مسلم.
سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جب قبرستان جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سکھلاتے کہ یوں کہو «السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم للاحقون أسأل الله لنا ولكم العافية» ”اہل دیار مومنوں اور مسلمانوں پر سلام ہو! یقیناً، انشاء اللہ ہم بھی آپ کے ساتھ ملنے والے ہیں اور ہم اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ سے عافیت مانگتے ہیں۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 480]
«وَعَنْ» اور سے – «سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ» سلیمان بن بریدہ – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُعَلِّمُهُمْ» انہیں سکھاتے – «إِذَا خَرَجُوا» جب وہ نکلیں – «إِلَى الْمَقَابِرِ» قبرستان کی طرف – «أَنْ يَقُولُوا» کہ وہ کہیں: – «السَّلَامُ» سلامتی ہو – «عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ» ان گھروں والوں پر – «مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» مومنوں میں سے – «وَالْمُسْلِمِينَ» اور مسلمانوں میں سے – «وَإِنَّا» اور بے شک ہم – «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» اگر اللہ نے چاہا – «بِكُمْ لَلَاحِقُونَ» تم سے ضرور ملنے والے ہیں – «أَسْأَلُ اللَّهَ» میں اللہ سے سوال کرتا ہوں – «لَنَا وَلَكُمُ» اپنے لیے اور تمہارے لیے – «الْعَافِيَةَ» عافیت کا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سلیمان بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں (صحابہ کو) سکھاتے تھے کہ جب وہ قبرستان کی طرف جائیں تو یہ کہیں: ”اے ان گھروں کے رہنے والے مومنو اور مسلمانو! تم پر سلامتی ہو، اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، میں اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 480]
اور سلیمان بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں (صحابہ کو) سکھاتے تھے کہ جب وہ قبرستان کی طرف جائیں تو یہ کہیں: ”اے ان گھروں کے رہنے والے مومنو اور مسلمانو! تم پر سلامتی ہو، اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، میں اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتا ہوں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب ما يقال عند دخول القبور والدعاء لأهلها، حديث:975.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 481
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: مر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بقبور المدينة فأقبل عليهم بوجهه فقال: «السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم، أنتم سلفنا، ونحن بالأثر» . رواه الترمذي وقال: حسن.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر مدینہ کے قبرستان سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا «السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم، أنتم سلفنا، ونحن بالأثر» ”اے اہل قبور! تم پر سلام ہو! اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے! تم ہمارے پیش رو ہو ہم تمہارے پیچھے چلے آ رہے ہیں۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا اور حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 481]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مَرَّ» گزرے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِقُبُورِ» قبروں کے پاس سے – «الْمَدِينَةِ» مدینہ کی – «فَأَقْبَلَ» تو متوجہ ہوئے – «عَلَيْهِمْ» ان کی طرف – «بِوَجْهِهِ» اپنے چہرے کے ساتھ – «فَقَالَ» پھر فرمایا: – «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» تم پر سلامتی ہو – «يَا أَهْلَ الْقُبُورِ» اے قبروں والو! – «يَغْفِرُ اللَّهُ» اللہ بخش دے – «لَنَا وَلَكُمْ» ہمیں اور تمہیں – «أَنْتُمْ» تم – «سَلَفُنَا» ہمارے پیش رو ہو – «وَنَحْنُ» اور ہم – «بِالْأَثَرِ» (تمہارے) پیچھے آنے والے ہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَقَالَ» اور کہا: – «حَسَنٌ» (یہ) حسن ہے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کی طرف رخ کر کے فرمایا: ”اے قبروں والو! تم پر سلامتی ہو، اللہ ہمیں اور تمہیں بخش دے، تم ہم سے پہلے جانے والے ہو اور ہم (تمہارے) پیچھے آنے والے ہیں۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے: یہ حسن ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 481]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی قبروں کے پاس سے گزرے تو ان کی طرف رخ کر کے فرمایا: ”اے قبروں والو! تم پر سلامتی ہو، اللہ ہمیں اور تمہیں بخش دے، تم ہم سے پہلے جانے والے ہو اور ہم (تمہارے) پیچھے آنے والے ہیں۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے: یہ حسن ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 481]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الجنائز، باب ما يقول الرجل إذا دخل المقابر، حديث:1053. * قابوس فيه لين (تقريب).»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 482
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا تسبوا الأموات، فإنهم قد أفضوا إلى ما قد قدموا» . رواه البخاري. وروى الترمذي عن المغيرة نحوه، لكن قال: «فتؤذوا الأحياء» .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مردوں کو گالی مت دو کیونکہ وہ اس تک پہنچ چکے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا۔ “ (بخاری)
ترمذی نے مغیرہ کے حوالہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن اس میں «فتؤذوا الأحياء» ہے یعنی تم (گالی دے کر) زندہ لوگوں کو تکلیف دیتے ہو۔ [بلوغ المرام/حدیث: 482]
ترمذی نے مغیرہ کے حوالہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن اس میں «فتؤذوا الأحياء» ہے یعنی تم (گالی دے کر) زندہ لوگوں کو تکلیف دیتے ہو۔ [بلوغ المرام/حدیث: 482]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا تَسُبُّوا» برا بھلا نہ کہو – «الْأَمْوَاتَ» مُردوں کو – «فَإِنَّهُمْ» کیونکہ بے شک وہ – «قَدْ أَفْضَوْا» پہنچ چکے ہیں – «إِلَى مَا» اس کی طرف جو – «قَدْ قَدَّمُوا» انہوں نے آگے بھیجا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔ – «وَرَوَى» اور روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «عَنِ الْمُغِيرَةِ» مغیرہ سے – «نَحْوَهُ» اسی طرح – «لَكِنْ قَالَ» لیکن کہا: – «فَتُؤْذُوا» کہ (اس طرح) تم تکلیف دو گے – «الْأَحْيَاءَ» زندوں کو۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مُردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ اور ترمذی نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن اس میں یہ الفاظ ہیں: ”(ورنہ) تم (ان کے رشتہ دار) زندوں کو تکلیف پہنچاؤ گے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 482]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مُردوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال تک پہنچ چکے ہیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ اور ترمذی نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن اس میں یہ الفاظ ہیں: ”(ورنہ) تم (ان کے رشتہ دار) زندوں کو تکلیف پہنچاؤ گے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجنائز، باب ما ينهي من سب الأموات، حديث:1393، وحديث المغيرة أخرجه الترمذي، البر والصلة، حديث:1982 وهو حديث حسن.»
الحكم على الحديث:
صحيح