🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في الجنائز)
(جنازے کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 465
وعن أبي إسحاق أن عبد الله بن يزيد رضي الله عنه أدخل الميت من قبل رجلي القبر وقال: هذا من السنة. أخرجه أبو داود.
ابواسحٰق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے میت کو اس کے پاؤں کی طرف سے قبر میں اتارا اور کہا کہ سنت طریقہ یہی ہے۔ (ابوداؤد) [بلوغ المرام/حدیث: 465]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي إِسْحَاقَ» ابو اسحاق – «أَنَّ» کہ – «عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ» عبداللہ بن یزید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَدْخَلَ» نے داخل کیا – «الْمَيِّتَ» میت کو – «مِنْ قِبَلِ» جانب سے – «رِجْلَيِ» دونوں پاؤں کی – «الْقَبْرِ» قبر کے – «وَقَالَ» اور کہا: – «هَذَا» یہ – «مِنَ السُّنَّةِ» سنت میں سے ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے۔
اور ابو اسحاق سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے میت کو قبر کی پائنتی (پاؤں کی جانب) سے قبر میں داخل کیا اور فرمایا: یہ سنت ہے۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 465]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب في الميت يدخل من قبل رجليه، حديث:3211.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 466
وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا وضعتم موتاكم في القبور فقولوا: بسم الله وعلى مله رسول الله» .‏‏‏‏ أخرجه أحمد وأبو داود والنسائي وصححه ابن حبان وأعله الدارقطني بالوقف.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”جب اپنے مرنے والوں کو قبروں میں اتارو تو «بسم الله وعلى مله رسول الله» کہو۔“
اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے نکالا ہے۔ ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور دارقطنی نے اسے معلول قرار دیتے ہوئے اسے موقوف کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 466]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «إِذَا وَضَعْتُمْ» جب تم رکھو – «مَوْتَاكُمْ» اپنے مردوں کو – «فِي الْقُبُورِ» قبروں میں – «فَقُولُوا» تو کہو: – «بِسْمِ اللَّهِ» اللہ کے نام کے ساتھ – «وَعَلَى مِلَّةِ» اور ملت (طریقے) پر – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَأَعَلَّهُ» اور اسے معلول قرار دیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «بِالْوَقْفِ» موقوف ہونے کی وجہ سے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے مُردوں کو قبروں میں رکھو تو کہو: بسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ (اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ کے طریقے پر)۔“ اسے احمد، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے، ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے اور دارقطنی نے اسے موقوف ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 466]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب في الدعاء للميت إذا وضع في قبره، حديث:3213، والترمذي، الجنائز، حديث:1046، وابن ماجه، الجنائز، حديث:1550، والنسائي في الكبرٰي، حديث:10927، وعمل اليوم والليلة، حديث:1088، وأحمد:2 /40، 128، وابن حبان (الموارد)، حديث:772.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 467
وعن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «كسر عظم الميت ككسره حيا» ‏‏‏‏. رواه أبو داود بإسناد علي شرط مسلم. وزاد ابن ماجه من حديث أم سلمة رضي الله عنها:«‏‏‏‏في الإثم» .‏‏‏‏
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مردے کی ہڈی توڑنے (کا گناہ) زندہ انسان کی ہڈی توڑنے کے گناہ کی طرح ہے۔“
اسے ابوداؤد نے مسلم کی شرط کی سند سے روایت کیا ہے اور ابن ماجہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت میں اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ ”گناہ میں۔‏‏‏‏“ [بلوغ المرام/حدیث: 467]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «كَسْرُ» توڑنا – «عَظْمِ» ہڈی کا – «الْمَيِّتِ» میت کی – «كَكَسْرِهِ» اس کے توڑنے کی طرح ہے – «حَيًّا» زندہ ہونے کی حالت میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «بِإِسْنَادٍ» ایسی سند کے ساتھ جو – «عَلَى شَرْطِ» شرط پر ہے – «مُسْلِمٍ» مسلم کی۔ – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «فِي الْإِثْمِ» گناہ میں۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میت کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندگی میں اس کی ہڈی توڑنا۔“ اسے ابو داود نے مسلم کی شرط پر (صحیح) سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ابن ماجہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے یہ اضافہ کیا ہے: ”گناہ میں۔“ (یعنی گناہ میں برابر ہے)۔ [بلوغ المرام/حدیث: 467]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب في الحفَّار يجد العظم هل يتنكب ذلك المكان؟ حديث:3207، وحديث أم سلمة أخرجه ابن ماجه، حديث:1617 وسنده ضعيف، فيه عبدالله بن زياد مجهول (تقريب).»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
وعن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال: الحدوا لي لحدا وانصبوا علي اللبن نصبا،‏‏‏‏ كما صنع برسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. رواه مسلم. وللبيهقي عن جابر رضي الله عنه نحوه وزاد: ورفع قبره عن الأرض قدر شبر. وصححه ابن حبان. ولمسلم عنه رضي الله عنه: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن يجصص القبر،‏‏‏‏ وأن يقعد عليه،‏‏‏‏ وأن يبنى عليه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہا کہ میرے لیے بغلی لحد والی قبر بنانا اور مجھ پر کچی اینٹیں چننا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا گیا۔ (مسلم) اور بیہقی نے جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر زمین سے صرف ایک بالشت برابر اونچی بنائی گئی۔
ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اور مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”قبر کو پختہ کیا جائے اور اس پر بیٹھا جائے اور اس پر عمارت تعمیر کی جائے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 468]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ» سعد بن ابی وقاص – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «الْحَدُوا» بناؤ – «لِي» میرے لیے – «لَحْدًا» بغلی قبر (لحد) – «وَانْصِبُوا» اور کھڑی کر کے لگاؤ – «عَلَيَّ» مجھ پر – «اللَّبِنَ» کچی اینٹیں – «نَصْبًا» کھڑی کر کے – «كَمَا صُنِعَ» جیسا کہ کیا گیا – «بِرَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلِلْبَيْهَقِيِّ» اور بیہقی کے لیے (روایت) ہے – «عَنْ جَابِرٍ» جابر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «نَحْوُهُ» اسی طرح کی – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا: – «وَرُفِعَ» اور بلند کی گئی – «قَبْرُهُ» آپ کی قبر – «عَنِ الْأَرْضِ» زمین سے – «قَدْرَ شِبْرٍ» ایک بالشت کی مقدار۔ – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کے لیے (روایت) ہے – «عَنْهُ» ان (جابر) سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنْ يُجَصَّصَ» کہ پختہ (چونا گچ) کی جائے – «الْقَبْرُ» قبر – «وَأَنْ يُقْعَدَ» اور یہ کہ بیٹھا جائے – «عَلَيْهِ» اس پر – «وَأَنْ يُبْنَى» اور یہ کہ عمارت بنائی جائے – «عَلَيْهِ» اس پر۔
اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے (اپنی وفات کے وقت) کہا: میرے لیے بغلی قبر (لحد) بنانا اور مجھ پر کچی اینٹیں کھڑی کر کے لگانا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور بیہقی میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے: اور آپ کی قبر زمین سے ایک بالشت کے برابر بلند کی گئی۔ اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور مسلم میں انہی (سیدنا جابر رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کو پختہ کرنے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا۔ [بلوغ المرام/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب في اللحد ونصب اللبن علي الميت، حديث:966، وحديث جابر أخرجه البيهقي:3 /410، وقال الحافظ: ((وصححه ابن حبان)): ولم أجده، وحديث ((نهي أن يجصص القبر)) أخرجه مسلم، الجنائز، حديث:970.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 469
وعن عامر بن ربيعة رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم صلى على عثمان بن مظعون وأتى القبر فحثى عليه ثلاث حثيات وهو قائم. رواه الدارقطني.
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کی قبر پر تشریف لائے اور کھڑے کھڑے تین لپ مٹی ڈالی۔ (سنن دارقطنی) [بلوغ المرام/حدیث: 469]
«وَعَنْ» اور سے – «عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ» عامر بن ربیعہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَلَّى» نے نماز (جنازہ) پڑھی – «عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ» عثمان بن مظعون پر – «وَأَتَى» اور آئے – «الْقَبْرَ» قبر پر – «فَحَثَى» پس لپیں ڈالیں (مٹی کی) – «عَلَيْهِ» اس پر – «ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ» تین لپیں – «وَهُوَ قَائِمٌ» درحالیکہ آپ کھڑے تھے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے۔
اور سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی، پھر قبر پر تشریف لائے اور کھڑے کھڑے اس پر (مٹی کی) تین لپیں ڈالیں۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 469]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني:2 /76. *فيه عاصم بن عبيدالله، والقاسم بن عبدالله العمري متروك.»

الحكم على الحديث:
ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
وعن عثمان رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه وقال: «‏‏‏‏استغفروا لأخيكم واسألوا له التثبيت فإنه الآن يسأل» .‏‏‏‏رواه أبو داود،‏‏‏‏ وصححه الحاكم.
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کی تدفین سے فارغ ہو جاتے تو قبر پر کھڑے ہو جاتے اور فرماتے کہ ”اپنے بھائی کیلئے بخشش مانگو اور ثابت قدم رہنے کی دعا کرو کیونکہ اب اس سے بازپرس کی جائے گی۔“
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 470]
«وَعَنْ» اور سے – «عُثْمَانَ» عثمان – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا فَرَغَ» جب فارغ ہوتے – «مِنْ دَفْنِ» دفن کرنے سے – «الْمَيِّتِ» میت کو – «وَقَفَ» ٹھہر جاتے – «عَلَيْهِ» اس (کی قبر) پر – «وَقَالَ» اور فرماتے: – «اسْتَغْفِرُوا» مغفرت طلب کرو – «لِأَخِيكُمْ» اپنے بھائی کے لیے – «وَاسْأَلُوا» اور مانگو – «لَهُ» اس کے لیے – «التَّثْبِيتَ» ثابت قدمی – «فَإِنَّهُ» کیونکہ بے شک وہ – «الْآنَ» اس وقت – «يُسْأَلُ» سوال کیا جا رہا ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب میت کو دفن کرنے سے فارغ ہوتے تو اس (کی قبر) پر ٹھہر جاتے اور فرماتے: ”اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو اور اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو، کیونکہ اس وقت اس سے سوال کیا جا رہا ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب الاستغفار عند القبر للميت في وقت الانصراف، حديث:3221، والحاكم:1 /380.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 471
وعن ضمرة بن حبيب أحد التابعين قال: كانوا يستحبون إذا سوي على الميت قبره وانصرف الناس عنه أن يقال عند قبره: يا فلان قل: لا إله إلا الله ثلاث مرات يا فلان قل: ربي الله وديني الإسلام ونبيي محمد. رواه سعيد بن منصور موقوفا،‏‏‏‏ وللطبراني نحوه من حديث أبي أمامة مرفوعا مطولا.
سیدنا ضمرہ بن حبیب رحمہ اللہ جو ایک تابعی ہیں، سے مروی ہے کہ لوگ مستحب سمجھتے تھے کہ جب میت کی قبر برابر و ہموار کر دی جاتی اور لوگ جب جانے لگتے تو قبر کے پاس کھڑے ہو کر میت کو مخاطب ہو کر یوں کہا جائے ”اے فلاں! «لا إله إلا الله» کہو اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ اس کو تین مرتبہ کہے ”اے فلاں! «ربي الله وديني الإسلام ونبيي محمد» کہو میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نبی ہیں۔“
سعید بن منصور نے اسے موقوف بیان کیا ہے اور طبرانی نے اسی طرح کی ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی لمبی مرفوع حدیث بیان کی ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 471]
«وَعَنْ» اور سے – «ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ» ضمرہ بن حبیب – «أَحَدِ التَّابِعِينَ» جو تابعین میں سے ایک ہیں – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ» وہ (سلف) مستحب سمجھتے تھے – «إِذَا سُوِّيَ» جب برابر کر دی جاتی – «عَلَى الْمَيِّتِ» میت پر – «قَبْرُهُ» اس کی قبر – «وَانْصَرَفَ» اور لوٹ جاتے – «النَّاسُ» لوگ – «عَنْهُ» اس سے – «أَنْ يُقَالَ» کہ کہا جائے – «عِنْدَ قَبْرِهِ» اس کی قبر کے پاس: – «يَا فُلَانُ» اے فلاں! – «قُلْ» کہہ: – «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں – «ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» تین مرتبہ – «يَا فُلَانُ» اے فلاں! – «قُلْ» کہہ: – «رَبِّيَ اللَّهُ» میرا رب اللہ ہے – «وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ» اور میرا دین اسلام ہے – «وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ» اور میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ» سعید بن منصور نے – «مَوْقُوفًا» موقوفاً – «وَلِلطَّبَرَانِيِّ» اور طبرانی کے لیے ہے – «نَحْوُهُ» اسی طرح کی (روایت) – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «أَبِي أُمَامَةَ» ابو امامہ – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً – «مُطَوَّلًا» تفصیل کے ساتھ۔
اور ضمرہ بن حبیب جو تابعین میں سے ہیں، سے روایت ہے، انہوں نے کہا: وہ (سلف) اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ جب میت پر اس کی قبر برابر کر دی جائے اور لوگ اس سے لوٹ جائیں تو اس کی قبر کے پاس کہا جائے: اے فلاں! کہہ: لا الہ الا اللہ، تین مرتبہ۔ اے فلاں! کہہ: میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اسے سعید بن منصور نے موقوفاً روایت کیا ہے، اور طبرانی میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے اسی طرح کی روایت مرفوعاً اور تفصیل کے ساتھ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 471]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور. *فيه أشياخ من أهل حمص، وهم مجهولون، وحديث أبي أمامة، أخرجه الطبراني في الكبير:8 /298، وحديث:7979 وسنده ضعيف، فيه جماعة لم يعرفهم الهيثمي كما في مجمع الزوائد:2 /324، وقال الحافظ في التلخيص الحبير:2 /135، 136، حديث:796، "وإسناده صالح، وقد قواه الضياء، في أحكامه. وفي السند: محمد بن إبراهيم بن العلاء الحمصي، قال الحافظ في تقريب التهذيب:((منكر الحديث)).»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
وعن بريدة بن الحصيب الأسلمي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها» .‏‏‏‏ رواه مسلم. زاد الترمذي: «‏‏‏‏فإنها تذكر الآخرة» . زاد ابن ماجه من حديث ابن مسعود: «‏‏‏‏وتزهد في الدنيا» .
سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۔ اب ان کی زیارت کرو۔“ (مسلم)
ترمذی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ”قبروں کی زیارت آخرت کی یاد دلاتی ہے۔“ اور ابن ماجہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ”یہ زیارت دنیا سے بے رغبت بنا دیتی ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 472]
«وَعَنْ» اور سے – «بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ الْأَسْلَمِيِّ» بریدہ بن حصیب اسلمی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ» میں نے تمہیں منع کیا تھا – «عَنْ زِيَارَةِ» زیارت سے – «الْقُبُورِ» قبروں کی – «فَزُورُوهَا» پس (اب) ان کی زیارت کرو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «زَادَ» اضافہ کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے: – «فَإِنَّهَا» کیونکہ بے شک وہ – «تُذَكِّرُ» یاد دلاتی ہے – «الْآخِرَةَ» آخرت کو۔ – «زَادَ» اضافہ کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «ابْنِ مَسْعُودٍ» ابن مسعود – «وَتُزَهِّدُ» اور بے رغبت کرتی ہے – «فِي الدُّنْيَا» دنیا سے۔
اور سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، پس (اب) ان کی زیارت کیا کرو۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے یہ اضافہ کیا ہے: ”کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے۔“ اور ابن ماجہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ اضافہ کیا ہے: ”اور دنیا سے بے رغبت کرتی ہے۔“ [بلوغ المرام/حدیث: 472]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الجنائز، باب استئذان النبي صلي الله عليه وسلم في زيارة قبر أمه، حديث:977، والترمذي، الجنائز، حديث:1054 وقال: "حسن صحيح" وحديث ابن مسعود أخرجه ابن ماجه، الجنائز، حديث:1571 وهو حديث حسن.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
وعن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لعن زائرات القبور. أخرجه الترمذي وصححه ابن حبان.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی جانے والی خواتین پر لعنت فرمائی ہے۔
اسے ترمذی نے نکالا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 473]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَعَنَ» نے لعنت فرمائی – «زَائِرَاتِ» زیارت کرنے والی عورتوں پر – «الْقُبُورِ» قبروں کی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی (کثرت سے) زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الصلاة، باب ما جاء في كراهية أن يتخذ علي القبر مسجدًا، حديث:320 بطوله.* أبو صالح باذام مولي أم هاني ء ضعيف مدلس حدث به بعد اختلاطه، والحديث حسن، بلفظ: أن رسول الله صلي الله عليه وسلم لعن زوارات القبور، أخرجه الترمذي، الجنائز، حديث:1056 وغيره.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 474
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم النائحة والمستمعة. أخرجه أبو داود.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے اور سننے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ (ابوداؤد) [بلوغ المرام/حدیث: 474]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَعَنَ» لعنت فرمائی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «النَّائِحَةَ» نوحہ کرنے والی پر – «وَالْمُسْتَمِعَةَ» اور (اسے) سننے والی پر۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور (شوق سے) اسے سننے والی عورت پر لعنت فرمائی۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب في النوح، حديث: 3128.* قال أبو حاتم الرازي: " حديث منكر، محمد بن الحسن وأبوه وجده ضعفاء في الحديث".»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں