مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مقتدی کو رکوع یا سجدے میں امام سے پہلے سر نہیں اٹھانا چاہئیے
حدیث نمبر: 134
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مانند مروی ہے، البتہ اس میں یوں فرمایا: ”اللہ اس کے سر کو بدل دے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبله»
نماز میں ضرورت کے تحت چند قدم آگے پیچھے ہونا جائز ہے
حدیث نمبر: 135
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، نا مُحَمَّدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ جَعَلَ يَفْتِكَ بِي الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَذَعَتُّهُ وَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ فَأَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، قَالَ: فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي"، قَالَ: فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِئًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گزشتہ رات ایک بڑا جن مجھے غافل کرنے لگا تاکہ وہ میری نماز توڑ دے، اللہ نے اسے میرے قابو میں کر دیا تو میں نے اسے زور سے دھکا دیا، میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں اسے پکڑ کر مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں حتیٰ کہ جب صبح ہو تو تم سب اسے دیکھ لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی، پروردگار! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما کہ میرے بعد کسی اور کو عطا نہ ہو۔ پس اللہ نے اسے ذلت کے ساتھ واپس کر دیا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب العمل فى الصلاة، باب مايجوز من العمل فى الصلاة، رقم: 1210 . مسلم، كتاب المساجد، باب جواز لعن الشيطان الخ، رقم: 541 . مسند احمد: 298/2»
حدیث نمبر: 136
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَا: نا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَقَالَ بَدَلَ يَفْتِكَ كَلِمَةً نَحْوَهَا.
ایک اور سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سابقہ حدیث کی مانند مروی ہے۔ اور «يفتك» کی جگہ اسی طرح کا کلمہ ذکر کیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبله»
تشہد میں چار چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرنا
حدیث نمبر: 137
أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عذاب جہنم، عذاب قبر اور مسیح دجال سے پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الجنائز، باب القبر، رقم: 1377 . مسلم، كتاب المساجد، باب ما يستعاذ منه فى صلاة، رقم: 588 . سنن ترمذي، رقم: 3604 . سنن ابوداود، رقم: 983 . سنن نسائي، رقم: 5517»
نماز استسقاء میں زیادہ ہاتھ اٹھانا
حدیث نمبر: 138
أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بَرَكَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدَّعَاءِ حَتَّى يُرَى إِبِطَاهُ، قَالَ أَبِي: أَرَى ذَلِكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے وقت (اس قدر) ہاتھ اٹھایا کرتے تھے حتیٰ کہ آپ کی بغلیں نظر آ جاتی تھیں، انہوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ استسقاء میں تھا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 138]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب استسقاء، باب رفع الامام يده فى الاستسقاء، رقم: 1031 . مسلم، كتاب صلاة الاستقا، باب رفع اليدين بالدعاء، الخ، رقم: 895 . سنن نسائي، رقم: 1513 . مسند احمد: 181/3 . سنن دارمي، رقم: 1535»
سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 139
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (اخْرُجْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنْ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَمَا زَادَ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باہر جا کر اعلان کرو کہ سورہ الفاتحہ اور اس سے زائد قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں (ہوتی)۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «سنن ابودواد، كتاب الصلاة، باب من ترك القراء فى صلاة بفاتحة الكتاب، رقم: 820 . فيه جعفر بن ميمون وهو ضعيف ضعضه احمد، و ابن معين والبخاري والجمهور»
مؤذنوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 140
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان دینے والے قیامت کے دن سب سے زیادہ دراز گردن والے ہوں گے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الصلاة، باب فضل الاذان وهرب الشيطان، الخ: رقم: 387 . صحيح ابن حبان: رقم، 1669 . طبراني اوسط، رقم: 2851»
حدیث نمبر: 141
قَالَ مَعْمَرٌ، وَنا مَنْصُورٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يُغْفَرُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِهِ، وَيُصَدِّقُهُ مَنْ سَمِعَهُ مِنْ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَلِلشَّاهِدِ عَلَيْهِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، ہر تر اور خشک چیز جو اسے سنتی ہے وہ اس کی تصدیق کرتی ہے، اور اذان سن کر باجماعت نماز پڑھنے والے کے لیے پچیس نیکیاں ہیں۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه، كتاب الاذان، باب فضل الاذان الخ، رقم: 724 . سنن نسائي، كتاب الاذان، باب رفع الصوت بالاذان، رقم: 645 . قال الالباني: صحيح .»
تکبیرِ تحریمہ کے بعد کی دعائیں
حدیث نمبر: 142
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا هُوَ؟ قَالَ: ( (أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالْبَرَدِ وَالثَّلْجِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر تحریمہ کہتے تو قرأت شروع کرنے سے پہلے کچھ دیر کے لیے خاموش رہتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والدین آپ پر قربان ہوں! تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان آپ جو سکوت فرماتے ہیں، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کہتا ہوں، اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اس طرح دوری فرما دے جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری و فاصلہ پیدا فرمایا ہے، اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے پانی، برف اور اولوں کے ساتھ میری خطاؤں سے صاف کر دے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الاذان، باب مايقول بعد التكبير، رقم: 744 . مسلم، كتاب المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الاحرام القراءة، رقم: 598 . سنن ابوداود، رقم: 781 . سنن نسائي، رقم: 60 .»
حدیث نمبر: 143
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ( (سَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ التَّكْبِيرِ سَكْتَةً) ) ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: عِنْدَ تَكْبِيرِ فَاتِحَةِ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر (تکبیر) کہتے وقت مختصر وقت کے لیے سکوت فرمایا، راوی نے بیان کیا، میں نے سفیان سے کہا: نماز شروع کرتے وقت کی تکبیر کے وقت؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «السابق»