مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نمازی کے آگے سترہ بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 164
أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (تَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ) ) ، وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت، کتا اور گدھا (نمازی کے آگے سے گزر کر) نماز توڑ دیتا ہے جبکہ پالان کی آخری لکڑی جیسی چیز اسے بچا دیتی ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الصلاة، باب قدر ما بستر المصلي، رقم: 510 . انظر: 279 .»
حدیث نمبر: 165
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: مُؤَخِّرَةٌ قَدْرُ ذِرَاعٍ، وَقَالَ: مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ: ذِرَاعٌ وَشِبْرٌ.
عطاء رحمہ اللہ نے بیان کیا، پالان کی آخری لکڑی ہاتھ کے برابر ہے، اور معمر نے قتادہ رحمہ اللہ کے حوالے سے بیان کیا: ایک ہاتھ اور ایک بالشت۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «سنن كبري بيهقي: 269/2 . مصنف عبدالرزاق، رقم: 2272 .»
قبروں پر مسجدیں بنانا جائز نہیں
حدیث نمبر: 166
أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے، انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام اجمعین کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الصلاة، باب الصلاة فى البعية، رقم: 437 . مسلم، كتاب المساجد، باب النهي عن بنا المساجد . . . الخ، رقم: 530 . سنن ابوداود، رقم: 3227 . سنن نسائي، رقم: 2047 . مسند احمد: 285/2 .»
نماز میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی فضیلت
حدیث نمبر: 167
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، نا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى:" قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، نِصْفُهُ لَهُ وَنِصْفُهُ لِي، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [الفاتحة: 2] ، قَالَ الرَّبُّ: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: ﴿الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ [الفاتحة: 1] ، قَالَ الرَّبُّ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: ﴿مَالِكَ يَوْمِ الدَّينِ﴾، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ [الفاتحة: 5] ، قَالَ: هَذِهِ لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: ﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾ [الفاتحة: 6] ، قَالَ: هَذِهِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"، هَكَذَا قَالَ الْفَضْلُ أَوْ نَحْوُهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جس کا اس نے سوال کیا ہے، اس کا نصف اس کے لیے ہے اور نصف میرے لیے ہے، جب بندہ کہتا ہے: «الحمد لله رب العالمين» رب تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی، جب وہ کہتا ہے: «الرحمن الرحيم» رب فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثناء بیان کی، جب وہ کہتا ہے: «مالك يوم الدين» رب فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی، جب وہ کہتا ہے: «اياك نعبد واياك نستعين» وہ فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جس کا اس نے سوال کیا ہے۔ جب وہ کہتا ہے: «اهدنا الصراط المستقيم» تو وہ فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہی ہے جس کا اس نے سوال کیا ہے۔“ الفضل نے اسی طرح بیان کیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الصلاة، باب وجوب قراءة الفاتحة الخ، رقم: 395 . سنن ابوداود، رقم: 921 . سنن ترمذي، رقم: 2953 . سنن نسائي، رقم: 909 . سنن ابن ماجه، رقم: 3784 .»
نمازِ چاشت کی فضیلت
حدیث نمبر: 168
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، نا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، نا شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ) ) قَالَ النَّهَّاسُ: وَأَبُو عَمَّارٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز چاشت کی دو رکعتوں کی حفاظت کرتا ہے اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذي، ابواب الوتر، باب صلاة الضحي، رقم: 477 . سنن ابن ماجه، رقم: 1382 . مسند احمد: 443/2 . قال الشيخ الالباني، وشعيب الارناوط: اسناده ضعيف .»
جن لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لایا جائے گا
حدیث نمبر: 169
أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنِّي لَأَرَى أُمَمًا تُقَادُ بِالسَّلَاسِلِ مِنَ النَّارِ إِلَى الْجَنَّةِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسی قوموں کو دیکھ رہا ہوں جنہیں زنجیروں میں جہنم سے نکال کر جنت کی طرف لایا جائے گا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الجهاد، باب الاساري فى السلابيل، رقم: 3010 . سنن ابوداود، كتاب الجهاد، باب فى الاسير يوثق، رقم: 2677 .»
نماز میں تکبیر کہنے کی اہمیت
حدیث نمبر: 170
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الْأَعْوَرِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنَ، ثُمَّ يَقُولُ: ( (إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا زَالَتْ صَلَاتَهُ حَتَّى مَاتَ) ) .
ابوعون الاعور نے بیان کیا، میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ ہر دفعہ اٹھتے وقت اور دو سجدوں کے درمیان اللہ اکبر کہتے تھے، پھر فرماتے: ”میں تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھنے والا ہوں، اور آپ کی پوری زندگی یہی نماز رہی۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الاذان، باب التكبير اذا قام بن السجود، رقم: 789 . مسلم، كتاب الصلاة، باب اثبات التكبير فى كل خفض الخ، رقم: 392 . سنن ابوداود، رقم: 836 . سنن نسائي، رقم: 1156 . مسند احمد: 236/2 .»
نماز چھوٹ جائے تو قضا کرے
حدیث نمبر: 171
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ فِي الرَّجُلِ يُسْبَقُ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: ( (تَقْضِيهِ عَلَى مَنَازِلِهِ) ) ، فَقَالَ رَجُلٌ: كَالدَّيْنِ، فَقَالَ: ( (إِنَّ الْكَلِمَةَ قَدْ تَكُونُ مِثْلَ الْكَلِمَةِ وَهِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا) ) .
ابن عون نے محمد سے اس آدمی کے بارے میں روایت کیا جس کی نماز کا کچھ حصہ گزر جاتا ہے، تو محمد نے کہا: وہ اپنی منازل پر اس کی قضا کرے گا، ایک آدمی نے کہا: قرض کی طرح؟ تو انہوں نے فرمایا: بات، بات کی طرح ہوتی ہے اور وہ اس سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 171]
اقامت کےبعد نفل یا سنت پڑھنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 172
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنِي زَكَرِيَا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت ہو جائے تو پھر اس فرض نماز کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں ہوتی۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 172]
رکوع وسجود مکمل نہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے
حدیث نمبر: 173
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْمَكْتُوبَةَ فَلَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا وَتَكْبِيرَهَا وَالتَّضَرُّعَ فِيهَا كَانَ كَمَثَلِ التَّاجِرِ لَا يَشِفُّ لَهُ حَتَّى بَقِيَ رَأْسُ الْمَالِ) ) .
اسی سند سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی فرض نماز پڑھے اور وہ اس کا رکوع و سجود اور اس کی تکبیر و تضرع مکمل نہ کرے تو وہ اس تاجر کے مانند ہے جس کے مال میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا حتیٰ کہ اصل زر بھی پورا نہیں ہوتا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 173]