🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
رکوع وسجود مکمل نہ کرنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 174
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ شَرَّ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ) ) قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ؟ قَالَ: ( (لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا) ) .
اسی سند سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرتا ہے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ اپنی نماز کی چوری کس طرح کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کا رکوع پورا کرتا ہے نہ اس کا سجود۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 310 . صحيح الجامع الصغير، رقم: 986 . صحيح ترغيب وترهيب، رقم: 524 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز میں صفوں کی درستگی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 175
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ( (إِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةُ الصَّفِّ) ) .
اسی سند سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صف کی درستگی نماز کی خوبی سے ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الاذان، باب اقامة الصف من تمام الصلاة، رقم: 722 . مسلم، كتاب الصلاة، باب نسوية الصفوف الخ، رقم: 435 . مسند احمد: 177/3 . ابن خزيمه، رقم: 1543 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مسلمان ہونے کی کم از کم شرائط
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 176
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا وَصَامَ شَهْرَنَا، فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ) ) .
اسی سند سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہماری نماز (کی طرح نماز) پڑھی اور ہمارے قبلے کو قبلہ بنایا، ہمارا ذبیحہ کھایا، ہمارے ماہ (رمضان) کے روزے رکھے تو یہ شخص مسلمان ہے اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 176]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الصلاة، باب فضل استقبال القبلة، رقم: 391 . سنن نسائي، رقم: 4997 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نفل روزے اور نفل نمازوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 177
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز چاشت کی دو رکعتوں پر محافظت کی تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذي، ابواب الوتر، باب صلاة الضحي، رقم: 476 . سنن ابن ماجه، كتاب اقامة الصلاة، باب ماجاء فى صلاة الضحي، رقم: 1382 . قال الشيخ الالباني: ضعيف .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 178
أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، نا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، نا أَبُو عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ مَعْبَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" أَوْصَانِي حَبِيبِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ: بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی میں زندگی بھر انہیں نہیں چھوڑوں گا: چاشت کی دو رکعتوں کے متعلق، ہر ماہ تین دن روزہ رکھنا، اور یہ کہ میں وتر پڑھ کر سوؤں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 178]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الصلاة، باب الستحباب صلاة الضحي، رقم: 722 . سنن نسائي، رقم: 2404 . صحيح ابن خزيمه، رقم: 1083 . السنن الكبريٰ، رقم: 4896، 66/3 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 179
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ:" أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَقُولُ خَلِيلِي وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ خَلِيلَا، أَوْصَانِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی، میں نہیں کہوں گا کہ میرے خلیل (جگری دوست) نے مجھے وصیت فرمائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں: ”اگر میں زمین والوں میں سے کسی کو خلیل بناتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ماہ تین دن روزہ (رکھنے)، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے اور وتر پڑھ کر سونے کی، مجھے وصیت فرمائی۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 179]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 180
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا وَإِلَّا قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَكْمِلُوا بِهِ الْفَرِيضَةَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر اس نے اسے پورا ادا کیا ہو گا تو ٹھیک، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو کیا میرے بندے کی نفل نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفل نماز مل گئی تو فرمائے گا: اس کے ساتھ فرض نماز کو پورا کر دو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 180]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب الصلاة، باب قول النبى صلى الله عليه وسلم كل صلاة . . . رقم: 864 . سنن ترمذي، كتاب الصلاة، باب ان اول ما يحاسب به العيد يوم القيامة الصلاة، رقم: 413 . قال الشيخ الالباني: صحيح، سنن نسائي، رقم: 466 . سنن ابن ماجه، رقم: 1426 . مسند احمد: 103/4 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نماز کے انتظار میں جائے نماز پر رہنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 181
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي مُصَلَاهُ لَمْ يَحْبِسْهُ إِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ، وَالْمَلَائِكَةُ مَعَهُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اپنی جائے نماز پر رہتا ہے، اور نماز کا انتظار ہی اسے بٹھائے رکھتا ہے، اس کے ساتھ جو فرشتے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جب تک وہ باوضو رہتا ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 181]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الوضوء، باب من لم ير الوضوء، الخ، رقم: 176 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امام کی غلطی پر اسے متنبہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 182
أَخْبَرَنَا يُونُسَ بْنُ بُكَيْرٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ فِي الصَّلَاةِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، وَمَنْ أَشَارَ فِي صَلَاتِهَ إِشَارَةً تُفْهِمُ فَلْيُعِدْ لَهَا الصَّلَاةَ) ) آخِرُ أَحَادِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں (امام کو بھول جانے، غلطی کرنے پر متنبہ کرنے کے لیے) مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے، اور جو شخص اپنی نماز میں کوئی ایسا اشارہ کرے جو سمجھا جائے تو وہ اس کے لیے نماز دہرائے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی آخری حدیث ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 182]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الصلاة، باب التصفيق للنساء، رقم: 1203 . مسلم، كتاب الصلاة، باب تسبيح الرجل وتصفيق المراة الخ، رقم: 422 . سنن ابوداود، رقم: 939 . سنن نسائي، رقم: 1207 . سنن ابن ماجه، رقم: 1034 . مسند احمد: 241/2 . صحيح ابن حبان، رقم: 2262 . صحيح ابن خزيمه، رقم: 894 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اول وقت میں نماز ادا کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 183
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا الْعُمَرِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ، عَنْ أُمَّهَاتِهِ، عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ: ( (الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا) ) .
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے والوں میں سے تھیں، نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھنا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصلوٰة/حدیث: 183]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب فضل الصلاة لوقتها، رقم: 527 . سنن ابوداود، رقم: 426 . سنن ترمذي، رقم: 170 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں