🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ:
باب: کلونجی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5687
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، فَقَالَ لَنَا: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحُبَيْبَةِ السَّوْدَاءِ فَخُذُوا مِنْهَا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا، فَاسْحَقُوهَا، ثُمَّ اقْطُرُوهَا فِي أَنْفِهِ بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ، فِي هَذَا الْجَانِبِ، وَفِي هَذَا الْجَانِبِ، فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا مِنَ السَّامِ، قُلْتُ: وَمَا السَّامُ، قَالَ: الْمَوْتُ".
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے خالد بن سعد نے بیان کیا کہ ہم باہر گئے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ راستہ میں بیمار پڑ گئے پھر جب ہم مدینہ واپس آئے اس وقت بھی وہ بیمار ہی تھے۔ ابن ابی عتیق ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور ہم سے کہا کہ انہیں یہ کالے دانے (کلونجی) استعمال کراؤ، اس کے پانچ یا سات دانے لے کر پیس لو اور پھر زیتون کے تیل میں ملا کر (ناک کے) اس طرف اور اس طرف اسے قطرہ قطرہ کر کے ٹپکاؤ۔ کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کلونجی ہر بیماری کی دوا ہے سوا «سام» کے۔ میں نے عرض کیا «سام» کیا ہے؟ فرمایا کہ موت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5687]
حضرت خالد بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں نکلے، ہمارے ساتھ حضرت غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ راستے میں بیمار ہو گئے۔ ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو اس وقت بھی وہ بیمار ہی تھے۔ حضرت ابن ابی عتیق رحمہ اللہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے کہا: ”انہیں کلونجی استعمال کراؤ۔ اس کے پانچ یا سات دانے پیس لو، پھر زیتون کے تیل میں ملا کر چند قطرے ناک کی اس جانب اور چند قطرے ناک کی دوسری جانب ٹپکاؤ۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ کلونجی میں «السَّامُ» کے علاوہ ہر مرض کی شفا ہے۔““ میں نے پوچھا: ” «السَّامُ» کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”موت۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5687]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5688
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أن أبا هريرة أخبرهما أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، وَالسَّامُ: الْمَوْتُ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ: الشُّونِيزُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سیاہ دانوں میں ہر بیماری سے شفاء ہے سوا «سام» کے۔ ابن شہاب نے کہا کہ «سام» موت ہے اور سیاہ دانہ کلونجی کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5688]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”کلونجی میں ہر بیماری سے شفا ہے سوائے «السَّامِ» کے۔“ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: «السَّامُ» موت کو کہتے ہیں اور «الحَبَّةُ السَّوْدَاءُ» کلونجی کا نام ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5688]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ التَّلْبِينَةِ لِلْمَرِيضِ:
باب: مریض کے لیے حریرہ پکانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5689
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينِ لِلْمَرِيضِ وَلِلْمَحْزُونِ عَلَى الْهَالِكِ، وَكَانَتْ تَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ التَّلْبِينَةَ تُجِمُّ فُؤَادَ الْمَرِيضِ وَتَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ".
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، انہیں عقیل نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ (روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ) پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے (کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5689]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مریض اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ بنانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ”تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا اور کچھ غم کو دور کر دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5689]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5690
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينَةِ، وَتَقُولُ: هُوَ الْبَغِيضُ النَّافِعُ".
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ تلبینہ پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ وہ (مریض کو) ناپسند ہوتا ہے لیکن وہ اس کو فائدہ دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5690]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں: ”اگرچہ کھانے میں پسندیدہ نہیں ہوتا لیکن وہ فائدہ مند ضرور ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5690]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ السَّعُوطِ:
باب: ناک میں دوا ڈالنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5691
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اس کی مزدوری دی اور ناک میں دوا ڈلوائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5691]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”پچھنے لگوائے اور لگانے والے حجام کو اس کی اجرت دی اور اپنے دستِ مبارک سے ناک میں دوائی ڈالی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5691]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ السَّعُوطِ بِالْقُسْطِ الْهِنْدِيِّ الْبَحْرِيِّ:
باب: قسط ہندی اور قسط بحری یعنی کوٹ جو سمندر سے نکلتا ہے اس کا نام لینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5692
وَهُوَ الْكُسْتُ مِثْلُ الْكَافُورِ وَالْقَافُورِ مِثْلُ كُشِطَتْ وَقُشِطَتْ نُزِعَتْ وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ قُشِطَتْ
‏‏‏‏ اسے «كست» بھی کہتے ہیں جیسے «كافور» کو «قافور» اور قرآن میں بھی سورۃ التکویر میں «كشطت» اور «قشطت‏.‏» دونوں قرآت ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے «قشطت‏.‏» سے پڑھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: Q5692]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5692
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ: يُسْتَعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، کہا میں نے زہری سے سنا، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے کہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اس عود ہندی ( «كست») کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے۔ حلق کے درد میں اسے ناک میں ڈالا جاتا ہے، پسلی کے درد میں چبائی جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5692]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْعُودُ الْهِنْدِيُّ» ”عودِ ہندی“ استعمال کیا کرو، بلاشبہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، حلق کے درد میں اسے ناک میں ڈالا جاتا ہے اور سینہ کے درد کے لیے اسے چبایا جاتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5692]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5693
وَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّ عَلَيْهِ.
‏‏‏‏ اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک شیرخوار لڑکے کو لے کر حاضر ہوئی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اس نے پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر پیشاب کی جگہ پر چھینٹا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5693]
(وہ کہتی ہیں کہ) ”میں اپنے شیر خوار بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس (پیشاب کی جگہ) پر چھینٹے مار دیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5693]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ أَيَّ سَاعَةٍ يَحْتَجِمُ:
باب: کس وقت پچھنا لگوایا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5694
وَاحْتَجَمَ أَبُو مُوسَى لَيْلاً.
‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے رات کے وقت پچھنا لگوایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: Q5694]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5694
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) روزہ کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5694]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں سینگی لگوائی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5694]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں