🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ اللَّدُودِ:
باب: مریض کے حلق میں دوا ڈالنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5713
ع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ قَالَتْ:" دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ، عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ: مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ، فَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: بَيَّنَ لَنَا اثْنَيْنِ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا خَمْسَةً، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَعْمَرًا يَقُولُ: أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ؟، قَالَ: لَمْ يَحْفَظْ، إِنَّمَا قَالَ: أَعْلَقْتُ عَنْهُ، حَفِظْتُهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ وَوَصَفَ سُفْيَانُ الْغُلَامَ يُحَنَّكُ بِالْإِصْبَعِ، وَأَدْخَلَ سُفْيَان فِي حَنَكِهِ إِنَّمَا يَعْنِي رَفْعَ حَنَكِهِ بِإِصْبَعِهِ، وَلَمْ يَقُلْ أَعْلِقُوا عَنْهُ شَيْئًا.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ام قیس رضی اللہ عنہا نے کہ میں اپنے ایک لڑکے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے اس کی ناک میں بتی ڈالی تھی، اس کا حلق دبایا تھا چونکہ اس کو گلے کی بیماری ہو گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بچوں کو انگلی سے حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو یہ عود ہندی لو اس میں سات بیماریوں کی شفاء ہے ان میں ایک ذات الجنب (پسلی کا ورم بھی ہے) اگر حلق کی بیماری ہو تو اس کو ناک میں ڈالو اگر ذات الجنب ہو تو حلق میں ڈالو (لدود کرو) سفیان کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیماریوں کو تو بیان کیا باقی پانچ بیماریوں کو بیان نہیں فرمایا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا میں نے سفیان سے کہا، معمر تو زہری سے یوں نقل کرتا ہے «أعلقت عنه» انہوں نے کہا کہ معمر نے یاد نہیں رکھا۔ مجھے یاد ہے زہری نے یوں کہا تھا «أعلقت عليه‏.‏» اور سفیان نے اس تحنیک کو بیان کیا جو بچہ کو پیدائش کے وقت کی جاتی ہے سفیان نے انگلی حلق میں ڈال کر اپنے کوے کو انگلی سے اٹھایا تو سفیان نے «أعلاق» کا معنی بچے کے حلق میں انگلی ڈال کر تالو کو اٹھایا انہوں نے یہ نہیں کہا «أعلقوا عنه شيئا‏.‏» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5713]
حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جبکہ میں نے عذرہ (گلے کی بیماری) کی وجہ سے اس کا تالو دبوایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بچوں کو انگلی سے حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو؟ تم عود ہندی استعمال کرو۔ اس میں سات بیماریوں کی شفا ہے، ان میں سے ایک سینے کا درد ہے۔ اگر حلق کی بیماری ہے تو ناک میں دوائی ڈالی جائے اور سینے کے درد کے لیے منہ کے ایک جانب دوائی ڈالی جائے۔ (سفیان کہتے ہیں کہ) میں نے زہری سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیماریوں کو بیان کیا لیکن باقی پانچ بیماریوں کا ذکر نہیں کیا۔ (عبداللہ بن مدینی نے کہا کہ) میں نے سفیان سے ذکر کیا کہ معمر تو «أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ» أعلقت علیہ کے الفاظ بیان کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: معمر نے یاد نہیں رکھا، مجھے یاد ہے کہ زہری نے «أَعْلَقْتُ عَنْهُ» أعلقت عنہ کہا۔ سفیان نے اس تحنیک کو بیان کیا جو بچے کو پیدائش کے وقت کی جاتی ہے۔ سفیان نے اپنے حلق میں انگلی ڈالی اور اپنے تالو کو انگلی سے اٹھایا۔ سفیان نے اعلاق کے یہ معنیٰ بیان کیے کہ بچے کو حلق میں انگلی ڈال کر اس کا تالو اٹھانا، انہوں نے «أَعْلَقُوا عَنْهُ شَيْئًا» أعلقوا عنہ شیئا کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5713]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5714
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ، وَآخَرَ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا دَخَلَ بَيْتَهَا وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ هَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ، لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي، أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ، قَالَتْ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقِرَبِ، حَتَّى جَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، قَالَتْ: وَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَصَلَّى لَهُمْ وَخَطَبَهُمْ".
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر اور یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب (مرض الموت میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ نے بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنے کی اجازت اپنی دوسری بیویوں سے مانگی جب اجازت مل گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو اشخاص عباس رضی اللہ عنہ اور ایک صاحب کے درمیان ان کا سہارا لے کر باہر تشریف لائے، آپ کے مبارک قدم زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ دوسرے صاحب کون تھے جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں بتایا، میں نے کہا کہ نہیں کہا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان کے حجرے میں داخل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ کا مرض بڑھ گیا تھا کہ مجھ پر سات مشک ڈالو جو پانی سے لبریز ہوں۔ شاید میں لوگوں کو کچھ نصیحت کر سکوں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے ایک لگن میں بٹھایا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہ کا تھا اور آپ پر حکم کے مطابق مشکوں سے پانی ڈالنے لگے آخر آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ بس ہو چکا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے مجمع میں گئے، انہیں نماز پڑھائی اور انہیں خطاب فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5714]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور تکلیف زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کے دن میرے گھر گزارنے کے لیے اپنی دوسری مطہرات سے اجازت طلب کی۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو اشخاص حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان سہارا لے کر باہر تشریف لائے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ (راوی کہتا ہے کہ) میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ دوسرے صاحب کون تھے جن کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ میں نے کہا: نہیں، مجھے تو معلوم نہیں، انہوں نے فرمایا: وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے حجرے میں داخل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی تھی: مجھ پر سات مشکیزے پانی ڈالو جو پانی سے لبریز ہوں، شاید میں لوگوں کو کچھ نصیحت کروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے ایک بڑے لگن میں بٹھایا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا تھا، پھر ہم نے ان مشکیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی بہانا شروع کر دیا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ تم نے تعمیلِ حکم کر دی ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، انہیں نماز پڑھائی پھر خطاب کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5714]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ الْعُذْرَةِ:
باب: «عذرة» یعنی حلق کے کوا کے گر جانے کا علاج (جسے عربی میں سقوط اللھاۃ کہتے ہیں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5715
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةَ أَسَدَ خُزَيْمَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَاشَةَ أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا قَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى مَا تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ، عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا: ذَاتُ الْجَنْبِ"، يُرِيدُ الْكُسْتَ وَهُوَ الْعُودُ الْهِنْدِيُّ، وَقَالَ يُونُسُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن اسدیہ نے انہیں خبر دی، ان کا تعلق قبیلہ خزیمہ کی شاخ بن اسد سے تھا وہ ان ابتدائی مہاجرات میں سے تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ آپ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں (انہوں نے بیان کیا کہ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں۔ انہوں نے اپنے لڑکے کے «عذرة» کا علاج تالو دبا کر کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آخر تم عورتیں کیوں اپنی اولاد کو یوں تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو۔ تمہیں چاہیئے کہ اس مرض میں عود ہندی کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے۔ ان میں ایک ذات الجنب کی بیماری بھی ہے۔ (عود ہندی سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد «كست» تھی یہی عود ہندی ہے۔ اور یونس اور اسحاق بن راشد نے بیان کیا اور ان سے زہری نے اس روایت میں بجائے «اعلقت عليه‏.‏» کے «علقت عليه‏.‏» نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5715]
حضرت ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ان کا تعلق قبیلہ خزیمہ کی شاخ بنو اسد سے تھا، وہ پہلی پہلی مہاجر عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ نیز آپ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لائیں، انہوں نے اپنے بیٹے کی عذرہ بیماری کا علاج تالو دبا کر کیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عورتیں کس لیے اپنی اولاد کو تالو دبا کر تکلیف دیتی ہو؟ تمہیں چاہیے کہ اس مرض میں عودِ ہندی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے، ان میں سے ایک سینے کا درد ہے۔ اس سے آپ کی مراد کست تھی، یہی عودِ ہندی ہے۔ یونس اور اسحاق بن راشد نے امام زہری سے «أَعْلَقْتِ» کے بجائے «عَلَّقْتِ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5715]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ دَوَاءِ الْمَبْطُونِ:
باب: پیٹ کے عارضہ میں کیا دوا دی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5716
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، فَسَقَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَقَيْتُهُ، فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ"، تَابَعَهُ النَّضْرُ، عَنْ شُعْبَةَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالمتوکل نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں شہد پلاؤ۔ انہوں نے پلایا اور پھر واپس آ کر کہا کہ میں نے انہیں شہد پلایا لیکن ان کے دستوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے (آخر شہد ہی سے اسے شفاء ہوئی)۔ محمد بن جعفر کے ساتھ اس حدیث کو نضر بن شمیل نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5716]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرے بھائی کو اسہال کا عارضہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس نے پلایا اور پھر واپس آ کر کہنے لگا کہ میں نے اسے شہد پلایا تھا لیکن اسہال بڑھ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے، البتہ تیرے بھائی کا پیٹ خطا کار ہے۔ نضر نے شعبہ سے روایت کرنے میں محمد بن جعفر کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5716]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ لاَ صَفَرَ، وَهْوَ دَاءٌ يَأْخُذُ الْبَطْنَ:
باب: صفر صرف پیٹ کی ایک بیماری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5717
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ"، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا، فَقَالَ: فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ، رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امراض میں چھوت چھات صفر اور الو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں اس پر ایک اعرابی بولا کہ یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح (صاف اور خوب چکنے) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ اس کی روایت زہری نے ابوسلمہ اور سنان بن سنان کے واسطہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5717]
حضرت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا عَدْوَىٰ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ» امراض میں چھوت چھات، صفر (پیٹ کی ایک بیماری) کا جان لیوا ہونا اور الو کی نحوست کی کوئی حیثیت نہیں، اس پر ایک اعرابی بولا: اللہ کے رسول! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا ہے؟ پھر ایک خارشی اونٹ آتا ہے تو سب کو خارشی بنا دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے کو خارشی کس نے بنایا تھا؟ اس حدیث کو امام زہری رحمہ اللہ نے ابو سلمہ رحمہ اللہ اور سنان بن ابی سنان رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5717]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ ذَاتِ الْجَنْبِ:
باب: ذات الجنب (نمونیہ) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5718
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا قَدْ عَلَّقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ عَلَى مَا تَدْغَرُونَ أَوْلَادَكُمْ بِهَذِهِ الْأَعْلَاقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا: ذَاتُ الْجَنْبِ"، يُرِيدُ الْكُسْتَ يَعْنِي الْقُسْطَ، قَالَ: وَهِيَ لُغَةٌ.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی، انہیں اسحاق نے، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور وہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں، خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئیں۔ انہوں نے اس بچے کا کوا گرنے میں تالو دبا کر علاج کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو کہ تم اپنی اولاد کو اس طرح تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو عود ہندی (کوٹ) اس میں استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کے لیے شفاء ہے جن میں سے ایک نمونیہ بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عود ہندی سے «كست» تھی جسے «قسط» بھی کہتے ہیں یہ بھی ایک لغت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5718]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، یہ خاتون ان پہلی مہاجرات سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، نیز یہ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا ایک بیٹا لے کر حاضر ہوئیں جبکہ انہوں نے «عُذْرَة» بیماری کی وجہ سے بچے کا تالو دبا دیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، تم عورتیں اپنی اولاد کو اس طرح تالو دبا کر کیوں تکلیف پہنچاتی ہو؟ تم اس کے لیے «عُودِ هِنْدِي» استعمال کرو، اس میں سات بیماریوں کے لیے شفا ہے، جن میں سے ایک نمونیہ بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد «كُسْت» تھی جسے «قُسْط» بھی کہا جاتا ہے، یہ بھی ایک لغت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5718]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5719
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلَابَةَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالْأُذُنِ"، قَالَ أَنَسٌ: كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
ہم سے عارم نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا کہ ایوب سختیانی کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ایوب نے ابوقلابہ سے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرہ میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی تھی کہ ابوطلحہ اور انس بن نضر نے انس رضی اللہ عنہم کو داغ لگا کر ان کا علاج کیا تھا یا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خود اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔ اور عباد بن منصور نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں مجھے داغا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5719]
حضرت حماد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایوب کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں، ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں انہوں نے بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان تحریر شدہ احادیث میں حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث بھی تھی، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پسلی کے درد کی وجہ سے مجھے داغ دیا گیا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے، اس وقت حضرت ابوطلحہ، حضرت انس بن نضر اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی حاضر تھے اور مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5719]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5720
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلَابَةَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالْأُذُنِ"، قَالَ أَنَسٌ: كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
ہم سے عارم نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا کہ ایوب سختیانی کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ایوب نے ابوقلابہ سے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرہ میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی تھی کہ ابوطلحہ اور انس بن نضر نے انس رضی اللہ عنہم کو داغ لگا کر ان کا علاج کیا تھا یا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خود اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔ اور عباد بن منصور نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں مجھے داغا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5720]
حضرت حماد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایوب کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں، ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان تحریر شدہ احادیث میں حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: پسلی کے درد کی وجہ سے مجھے داغ دیا گیا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے، اس وقت حضرت ابو طلحہ، حضرت انس بن نضر اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی حاضر تھے اور مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5720]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5721
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَيُّوبَ مِنْ كُتُبِ أَبِي قِلَابَةَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ وَمِنْهُ مَا قُرِئَ عَلَيْهِ، وَكَانَ هَذَا فِي الْكِتَابِ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَأَنَسَ بْنَ النَّضْرِ كَوَيَاهُ وَكَوَاهُ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِهِ وَقَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَرْقُوا مِنَ الْحُمَةِ وَالْأُذُنِ"، قَالَ أَنَسٌ: كُوِيتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَشَهِدَنِي أَبُو طَلْحَةَ، وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ كَوَانِي.
ہم سے عارم نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا کہ ایوب سختیانی کے سامنے ابوقلابہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ایوب نے ابوقلابہ سے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان لکھی ہوئی احادیث کے ذخیرہ میں انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی تھی کہ ابوطلحہ اور انس بن نضر نے انس رضی اللہ عنہم کو داغ لگا کر ان کا علاج کیا تھا یا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خود اپنے ہاتھ سے داغا تھا۔ اور عباد بن منصور نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں جھاڑنے کی اجازت دی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ذات الجنب کی بیماری میں مجھے داغا گیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور اس وقت ابوطلحہ، انس بن نضر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے داغا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5721]
حضرت حماد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایوب رحمہ اللہ کے سامنے ابوقلابہ رحمہ اللہ کی لکھی ہوئی احادیث پڑھی گئیں، ان میں وہ احادیث بھی تھیں جنہیں (ابوقلابہ نے) بیان کیا تھا اور وہ بھی تھیں جو ان کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تھیں۔ ان تحریر شدہ احادیث میں حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے بعض گھرانوں کو زہریلے جانوروں کے کاٹنے اور کان کی تکلیف میں دم کرنے کی اجازت دی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: پسلی کے درد کی وجہ سے مجھے داغ دیا گیا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات تھے، اس وقت حضرت ابوطلحہ، حضرت انس بن نضر اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم بھی حاضر تھے اور مجھے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے داغ دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5721]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ حَرْقِ الْحَصِيرِ لِيُسَدَّ بِهِ الدَّمُ:
باب: زخموں کا خون روکنے کے لیے بوریا جلا کر زخم پر لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5722
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: لَمَّا كُسِرَتْ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْضَةُ وَأُدْمِيَ وَجْهُهُ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَكَانَ عَلِيٌّ يَخْتَلِفُ بِالْمَاءِ فِي الْمِجَنِّ وَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُ، عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام الدَّمَ يَزِيدُ عَلَى الْمَاءِ كَثْرَةً عَمَدَتْ إِلَى حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا عَلَى جُرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَقَأَ الدَّمُ.
مجھ سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر (احد کے دن) خود ٹوٹ گیا آپ کا مبارک چہرہ خون آلود ہو گیا اور سامنے کے دانت ٹوٹ گئے تو علی رضی اللہ عنہ ڈھال بھربھر کر پانی لاتے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں۔ پھر جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون پانی سے بھی زیادہ آ رہا ہے تو انہوں نے ایک بوریا جلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگایا اور اس سے خون رکا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5722]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خود ٹوٹ گیا اور آپ کا چہرہ مبارک خون آلود ہو گیا، نیز سامنے کے دو دانت بھی ٹوٹ گئے تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی بھر بھر کر لاتے تھے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں۔ پھر جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون پانی سے بھی زیادہ آ رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلا کر اس کی راکھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگائی تو خون رک گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الطب/حدیث: 5722]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں