🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
امتِ محمدیہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 967
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهِ.
ابن ابی خالد نے اس اسناد سے اسی مثل روایت کیا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: «صحيح ابن حبان، رقم: 5764 . مسند احمد: 440/2 . صحيح ترغيب وترهيب، رقم: 2560 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ پڑھنے کی فضٰلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 968
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ عَلَيَّ زَكَاةٌ لَكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ قَالَ: فَسُئِلَ عَنِ الْوَسِيلَةِ أَوْ أَخْبَرَهُمْ بِهَا، قَالَ: هِيَ أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ وَلَا يَبْلُغُهَا أَحَدٌ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر صلوٰۃ پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا مجھ پر صلوٰۃ پڑھنا تمہارے لیے پاکیزگی کا باعث ہے، اور اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو۔“ راوی نے بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وسیلے کے متعلق پوچھا: گیا یا آپ نے اس کے متعلق انہیں بتایا، فرمایا: ”وہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے، وہاں تک صرف ایک ہی شخص کی رسائی ہو گی، مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 365/2 . قال شعيب الارناوط، اسناده ضعيف .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 969
أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ وَهِيَ أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يُدْرِكُهَا أَوْ قَالَ: لَا يَبْلُغُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر صلوٰۃ بھیجو، کیونکہ وہ تمہارے لیے پاکیزگی ہے، اور اللہ سے میرے لیے وسیلے کی درخواست کرو وہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے، وہاں تک صرف ایک ہی آدمی کی رسائی ہو گی اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: «السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بھوک اور خیانت سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 970
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ أَوْ قَالَ: الْعَلَامَةُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، کیونکہ وہ برا ساتھی ہے، اور میں خیانت سے تیری پناہ چاہتا ہوں کیونکہ وہ برا راز دان ہے یا فرمایا بری نشانی ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 970]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب سجود القرآن، باب فى الاستعاذه، رقم: 1547 قال الالباني: حسن . سنن نسائي، رقم: 5468 . صحيح ابن حبان، رقم: 1029 . صحيح ترغيب وترهيب، رقم: 3002 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جنت کی تعمیر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 971
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي الْمُجَاهِدِ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُدِلَّةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بِنَاءُ الْجَنَّةِ، قَالَ: ( (لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ، وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ وَحَصْبَتُهَا اللُّؤْلُؤُ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ وَلَا يَخْرَقُ ثِيَابُهُ، وَلَا يَبْلَى شَبَابُهُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جنت کی تعمیر کس طرح کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے، اس کا گارا کستوری کا ہے، اس کی مٹی زعفران ہے، اس کے سنگریزے موتیوں کے ہیں، جو اس میں داخل ہو گا، وہ خوش گوار رہے گا مایوس نہیں ہو گا، اس کی پوشاک بوسیدہ ہو گی نہ اس کی جوانی ڈھلے گی۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 971]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 445/2 . قال شعيب الارناوط ـ صحيح .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جنتیوں کے جماع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 972
أَخْبَرَنَا عِيسَى، نا الْأَفْرِيقِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيَمَسُّ أَهْلُ الْجَنَّةِ النِّسَاءَ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، بِذَكَرٍ لَا يَمَلُّ، وَفَرْجٍ لَا يُجْفَا، وَشَهْوَةٍ لَا تَنْقَطِعُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا جنتی عورتوں سے مس (جماع) کریں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں (مرد کی) ایسی شرمگاہ کے ساتھ جو تھکے گی نہیں، ایسی شرمگاہ جو گھسے گی نہیں اور ایسی شہوت جو ختم نہیں ہو گی۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 972]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 973
أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، نا الْأَفْرِيقِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ رَاشِدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَمَسُّ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَزْوَاجَهُمْ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ بِذَكَرٍ لَا يَمَلُّ وَفَرْجٍ لَا يُجْفَا وَشَهْوَةٍ لَا يَنْقَطِعُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: گیا: کیا جنتی اپنی بیویوں سے جماع کریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ایسے ذکر (شرمگاہ) کے ساتھ جو تھکے گی نہیں، ایسی شرمگاہ جو گھسے گی نہیں اور ایسی شہوت جو ختم نہیں ہو گی۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 973]
تخریج الحدیث: «مسند بزار، رقم: 3524 . مطالب العالية، رقم: 4678 . اسناده ضعيف .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جہنم کہاں ہوگی؟ کا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 974
أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، نا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَرَأَيْتَ جَنَّةً عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ، فَأَينَ النَّارُ؟ قَالَ: ( (أَرَأَيْتَ هَذَا اللَّيْلَ الَّذِي قَدْ كَانَ أَلْبَسَ عَلَيْكَ كُلَّ شَيْءٍ، أَيْنَ جُعِلَ؟) ) فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (فَإِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں جنت میں جس کی عرض (چوڑائی) آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، تو پھر جہنم کہاں ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ یہ جو رات ہے جس نے تم پر ہر چیز مخفی کر دی تھی، اس کا کیا بنے گا؟“ اس نے کہا: واللہ اعلم (اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: «صحيح ابن حبان، رقم: 103 . قال شعيب الارناوط: اسناده صحيح . مستدرك حاكم: 92/1، رقم: 103 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جنتی حسن و جمال اور قد و قامت میں سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 975
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَهُوَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ وَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الْيَوْمَ) ) .
اسی (سابقہ) سند سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنت میں داخل ہو گا۔ وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہو گا، (آدم علیہ السلام کے بعد) انسانوں میں اب تک قد چھوٹے ہوتے رہے ہیں۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الاستذان، باب بدء السلام، رقم: 6227 . مسلم، رقم: 2841 . مسند احمد: 3015/2 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جنت اور جہمن کو کن چیزوں کے ساتھ گھیر دیا گیا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 976
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْجَنَّةُ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، وَالنَّارُ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ) ) .
اسی سند (سابقہ) سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کو ناپسندیدہ چیزوں کے ساتھ گھیر دیا گیا ہے، جبکہ جہنم کو شہوات کے ساتھ گھیر دیا گیا ہے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الرقاق، باب حجبت النار بالشهوات، رقم: 6487 . مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها، رقم: 2823 . سنن ابوداود، رقم: 4744 . سنن ترمذي، رقم: 2560 . مسند احمد: 260/2 . صحيح ابن حبان، رقم: 716 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں