Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
136. بَابُ سَخَاوَةِ النَّفْسِ
دلی سخاوت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 279
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ‏:‏ مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ‏:‏ لَا‏.‏
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس بھی چیز کے متعلق سوال کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ نہیں فرمایا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب حسن الخلق و السخاء و ما يكره من البخل: 6034 و مسلم: 2311 - انظر مختصر الشمائل: 302»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 280
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ‏:‏ مَا رَأَيْتُ امْرَأَتَيْنِ أَجْوَدَ مِنْ عَائِشَةَ، وَأَسْمَاءَ، وَجُودُهُمَا مُخْتَلِفٌ، أَمَّا عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَجْمَعُ الشَّيْءَ إِلَى الشَّيْءِ، حَتَّى إِذَا كَانَ اجْتَمَعَ عِنْدَهَا قَسَمَتْ، وَأَمَّا أَسْمَاءُ فَكَانَتْ لاَ تُمْسِكُ شَيْئًا لِغَدٍ‏.‏
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے عورتوں میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے زیادہ سخی عورت نہیں دیکھی اور ان کی سخاوت کی کیفیت جدا جدا تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مال جمع کرتی تھیں، جب ان کے پاس کچھ مال جمع ہو جاتا تو اسے خرچ کر دیتیں جبکہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کل کے لیے کچھ نہیں روکتی تھیں (جو ہوتا خرچ کر دیتیں)۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 280]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه اللالكائي فى الاعتقاد: 2763 و ابن عساكر فى تاريخه: 19/69»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
137. بَابُ الشُّحِّ
بخل کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلاَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”لاَ يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا، وَلاَ يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ میں پڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے، اسی طرح بخل اور ایمان بھی کسی بندے کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 281]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه النسائي، الجهاد، فضل من عمل فى سبيل الله على قدمه: 3112 و روى ابن ماجة شطره الأول: 2774 - المشكاة: 3838»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى هُوَ أَبُو الْمُغِيرَةِ السُّلَمِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ غَالِبٍ هُوَ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”خَصْلَتَانِ لاَ يَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ‏:‏ الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ‏.‏“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مومن میں دو خصلتیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں: بخل اور بداخلاقی۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 282]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه الترمذي، البر و الصلة، باب ماجاء فى البخل: 1962 - الضعيفة: 1119»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 283
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ‏:‏ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرُوا رَجُلاً، فَذَكَرُوا مِنْ خُلُقِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ‏:‏ أَرَأَيْتُمْ لَوْ قَطَعْتُمْ رَأْسَهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تُعِيدُوهُ‏؟‏ قَالُوا‏:‏ لاَ، قَالَ‏:‏ فَيَدُهُ‏؟‏ قَالُوا‏:‏ لاَ، قَالَ‏:‏ فَرِجْلُهُ‏؟‏ قَالُوا‏:‏ لاَ، قَالَ‏:‏ فَإِنَّكُمْ لاَ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تُغَيِّرُوا خُلُقَهُ حَتَّى تُغَيِّرُوا خَلْقَهُ، إِنَّ النُّطْفَةَ لَتَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ تَنْحَدِرُ دَمًا، ثُمَّ تَكُونُ عَلَقَةً، ثُمَّ تَكُونُ مُضْغَةً، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُكْتَبُ رِزْقَهُ وَخُلُقَهُ، وَشَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا‏.‏
عبداللہ بن ربیعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ انہوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا تو اس کے اخلاق کی بھی بات کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو! اگر تم اس کا سر کاٹ دو تو کیا اسے دوبارہ جوڑ سکتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو اس کا ہاتھ؟ وہ کہنے لگے: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اس کی ٹانگ؟ انہوں نے کہا: نہیں! سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم اس کی خلقت کو نہیں بدل سکتے تو اس کا اخلاق بھی نہیں بدل سکتے، بلاشبہ نطفہ رحم میں چالیس راتوں تک قرار پکڑتا ہے، پھر وہ خون کی شکل اختیار کر لیتا ہے، پھر علقہ (جما ہوا خون) بن جاتا ہے، پھر گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق، اس کا اخلاق اور اس کا بدبخت یا سعادت مند ہونا لکھتا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 283]
تخریج الحدیث: «حسن الإسناد موقوفًا لكن قوله (إن النطفة) ....... الخ فى حكم المرفوع، وقد صح مرفوعًا: الإرواء: 2143 - أخرجه الطبراني فى الكبير: 8884 و البيهقي فى القضاء و القدر: 479 و ابن بطة فى الإبانة: 37/4»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد موقوفًا لكن قوله (إن النطفة) ....... الخ فى حكم المرفوع، وقد صح مرفوعًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
138. بَابُ حُسْنِ الْخُلُقِ إِذَا فَقِهُوا
دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے کے لیے حسن اخلاق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْقَائِمِ بِاللَّيْلِ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ آدمی اپنے حسنِ اخلاق کی وجہ سے رات کو مسلسل قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 284]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري فى التاريخ الكبير: 276/4 و الحاكم: 60/1 و المزي فى تهذيب الكمال: 37/13 و أبوداؤد: 4798، من حديث عائشه نحوه، صحيح الترغيب: 2645 و الصحيحة: 794، 795»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”خَيْرُكُمْ إِسْلاَمًا أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاَقًا إِذَا فَقِهُوا‏.“‏
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کے اعتبار سے تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں جبکہ ان میں دین کی سوجھ بوجھ بھی ہو۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 285]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أحمد: 10066 و ابن حبان: 91 - الصحيحة: 1846»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ‏:‏ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَجَلَّ إِذَا جَلَسَ مَعَ الْقَوْمِ، وَلاَ أَفْكَهَ فِي بَيْتِهِ، مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ‏.‏
ثابت بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے دوستوں کی مجلس میں پروقار اور گھر میں مزاح کے ساتھ رہنے والا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی شخص نہیں دیکھا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 25328 و ابن أبى الدنيا فى النفقة على العيال: 570 و البيهقي فى شعب الإيمان: 490/10»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ أَيُّ الأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ‏.‏“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ عزوجل کو ادیان میں سے کون سا دین زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو یکسوئی اور سادگی والا ہو۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 287]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره: أخرجه أحمد: 2107 و الطبراني فى الكبير: 181/11 و معمر بن راشد: 194/11 و عبد بن حميد: 569 و الضياء فى المختارة: 362/11 - الصحيحة: 881»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 288
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ‏:‏ أَرْبَعُ خِلاَلٍ إِذَا أُعْطِيتَهُنَّ فَلاَ يَضُرُّكَ مَا عُزِلَ عَنْكَ مِنَ الدُّنْيَا‏:‏ حُسْنُ خَلِيقَةٍ، وَعَفَافُ طُعْمَةٍ، وَصِدْقُ حَدِيثٍ، وَحِفْظُ أَمَانَةٍ‏.‏
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: چار باتیں اگر تجھ کو مل جائیں تو اس کا کوئی نقصان نہیں کہ دنیا کی باقی چیزیں تجھ سے جاتی رہیں: حسنِ اخلاق، حلال کا کھانا، بات کا سچا ہونا اور امانت کی حفاظت کرنا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 288]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا وصح مرفوعًا: أخرجه أحمد: 6652 و ابن المبارك فى الزهد: 1204 و ابن وهب فى جامعه: 546 و الخرائطي فى مكارم الأخلاق: 31 و الطبراني فى الكبير: 57/13 و البيهقي فى شعب الإيمان: 449/6 - الصحيحة: 733»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوفًا وصح مرفوعًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں