Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
140. بَابُ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ
اچھا مال اچھے آدمی کے لیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 299
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ‏:‏ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ‏:‏ بَعَثَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ عَلَيَّ ثِيَابِي وَسِلاَحِي، ثُمَّ آتِيهِ، فَفَعَلْتُ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَصَعَّدَ إِلَيَّ الْبَصَرَ ثُمَّ طَأْطَأَ، ثُمَّ قَالَ‏:‏ ”يَا عَمْرُو، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُغْنِمُكَ اللَّهُ، وَأَرْغَبُ لَكَ رَغْبَةً مِنَ الْمَالِ صَالِحَةً“، قُلْتُ‏:‏ إِنِّي لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ، إِنَّمَا أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الإِسْلاَمِ فَأَكُونُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ‏:‏ ”يَا عَمْرُو، نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحِ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ‏.‏“
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ جنگی لباس پہن کر اور اسلحہ لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤ۔ چنانچہ میں نے ایسے ہی کیا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نظر اٹھا کر دیکھا، اور سر جھکا لیا۔ پھر فرمایا: اے عمرو! میں چاہتا ہوں کہ تجھے ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجوں اور اللہ تعالیٰ تجھے غنیمت عطا کرے۔ میں تیرے لیے اچھے مال کی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: میں مال کی غرض سے اسلام نہیں لایا۔ میں تو صرف دین اسلام کی چاہت رکھتے ہوئے اسلام لایا ہوں تاکہ اللہ کے رسول کا ساتھ نصیب ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! اچھا مال نیک آدمی کے لیے اچھی چیز ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أحمد: 17802 و أبويعلي: 7336 و ابن حبان: 3210 و الحاكم: 236/20 و الطبراني فى الأوسط: 3213»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
141. بَابُ مَنْ أَصْبَحَ آمِنًا فِي سِرْبِهِ
جو شخص اپنے نفس اور اہل و عیال میں امن کی حالت میں صبح کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي شُمَيْلَةَ الأَنْصَارِيِّ الْقُبَائِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مِحْصَنٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَنْ أَصْبَحَ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ طَعَامُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا‏.‏“
سیدنا عبیداللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح اس حال میں کرے کہ وہ اپنے اور اہل و عیال کے بارے میں بے خوف ہو، جسمانی طور پر عافیت میں ہو، ایک دن کا کھانا بھی اس کے پاس ہو تو وہ ایسے ہے جیسے وہ ساری دنیا کا مالک ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه البخاري فى التاريخ الكبير: 372/5، بالإسناد نفسه و الترمذي: 2346 و ابن ماجه: 4141 - الصحيحة: 174»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
142. بَابُ طِيْبِ النَّفْسِ
طيب نفس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 301
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَعَلَيْهِ أَثَرُ غُسْلٍ، وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ، فَقُلْنَا‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أَجَلْ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ“، ثُمَّ ذُكِرَ الْغِنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”إِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى، وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى، وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ‏.‏“
سیدنا عبیدہ بن عبدالحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غسل کے اثرات تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے خوش تھے۔ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ سے تعلقات قائم کر کے آئے ہیں، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج آپ بڑے خوش و خرم دکھائی دے رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمد للہ ایسے ہی ہے۔ پھر غنا اور خوشحالی کا ذکر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تقویٰ کے ساتھ مالداری میں کوئی حرج نہیں، اور متقی آدمی کے لیے صحت مالداری سے زیادہ بہتر ہے، اور طیبِ نفس اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 301]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن ماجه، كتاب التجارات، باب الحض على المكاسب: 2141 - الصحيحة: 174»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 302
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالإِثْمِ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ ”الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالإِثْمُ مَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ‏.‏“
سیدنا نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 302]
تخریج الحدیث: «صحيح: انظر الحديث: 295»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ يَقُولُ‏:‏ ”لَنْ تُرَاعُوا، لَنْ تُرَاعُوا“، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ، مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، فَقَالَ‏:‏ ”لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ‏.‏“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت، سب لوگوں سے زیادہ سخی اور بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ خوفزدہ ہوئے تو لوگ آواز کی جانب چلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے سے آتا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے پہلے اکیلے ہی اس جانب چلے گئے جس طرف سے آواز آئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ڈرنے کی کوئی بات نہیں، خوفزدہ مت ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر بغیر زین کے سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں تلوار تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس گھوڑے کو سمندر (کی طرح تیز رفتار) پایا ہے۔ یا وہ تو یقیناً سمندر ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 303]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب حسن الخلق و السخاء ............: 6033 و مسلم: 2307 و الترمذي: 1687 و ابن ماجه: 2772»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، إِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ‏.‏“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نیکی صدقہ ہے، اور یہ بھی نیکی ہے کہ تو اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملے، اور تو اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں ڈالے یہ بھی نیکی ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: «حسن: اخرجه الترمذي، كتاب البر و الصلة، باب ماجاء فى طلاقة الوجه: 1970 و أحمد: 14877 - صحيح الترغيب: 2684»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
143. بَابُ مَا يَجِبُ مِنْ عَوْنِ الْمَلْهُوْفِ
لاچار اور مجبور انسان کی مدد کرنا واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا الأُوَيْسِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ‏:‏ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ أَيُّ الأَعْمَالِ خَيْرٌ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ“، قَالَ‏:‏ فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أَغْلاَهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا“، قَالَ‏:‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ بَعْضَ الْعَمَلِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”تُعِينُ ضَائِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ“، قَالَ‏:‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقَهَا عَلَى نَفْسِكَ‏.‏“
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے اعمال سب سے بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ سائل نے کہا: کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زیادہ قیمتی ہو اور مالکوں کی نظر میں سب سے اچھا ہو۔ سائل نے کہا: اگر میں بعض اعمال نہ کر سکوں تو آپ کے خیال میں کیا کرنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کسی ایسے شخص کی معاونت کرو جو ضائع ہو رہا ہو، یا تو کسی بے وقوف کا کام کر دے۔ سائل نے کہا: اگر میں یہ کام کرنے سے بھی عاجز ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو تکلیف دینے سے باز رہو تو یہ بھی صدقہ ہے جو تو اپنی جان پر صدقہ کرے گا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: «صحيح: انظر الحديث: 220»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّي، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ“، قَالَ‏:‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَجِدْ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”فَلْيَعْمَلْ، فَلْيَنْفَعْ نَفْسَهُ، وَلْيَتَصَدَّقْ“، قَالَ‏:‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، أَوْ لَمْ يَفْعَلْ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”لِيُعِنْ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ“، قَالَ‏:‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، أَوْ لَمْ يَفْعَلْ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”فَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ“، قَالَ‏:‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، أَوْ لَمْ يَفْعَلْ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”يُمْسِكْ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا لَهُ صَدَقَةٌ‏.‏“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان پر (ہر روز) صدقہ کرنا ضروری ہے۔ عرض کیا: اگر وہ صدقہ نہ کر سکتا ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ محنت مزدوری کرے، خود کو بھی نفع پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ عرض کیا: بتائیے اگر وہ ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو یا نہ کرے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی لاچار ضرورت مند کی معاونت کر دے۔ سائل نے عرض کیا: بتائیے اگر وہ اس کی استطاعت بھی نہ رکھے یا ایسا نہ کرے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ نیکی کا حکم دے۔ عرض کیا: اگر وہ اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو یا ایسا بھی نہ کرے تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ اور شر پہنچانے سے باز رہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 306]
تخریج الحدیث: «صحيح: انظر الحديث: 225»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
144. اللہ تعالیٰ سے اچھے اخلاق کی دعا کرنے کا بیان
اللہ تعالیٰ سے اچھے اخلاق کی دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ‏:‏ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ، وَالْعِفَّةَ، وَالأَمَانَةَ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ‏.‏“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعَفَافَ وَالْأَمَانَةَ وَحُسْنَ الْخُلُقِ وَالرِّضَا بِالْقَدَرِ» اے اللہ! میں تجھ سے صحت کا سوال کرتا ہوں، پاک دامنی، امانت اور حسنِ اخلاق کی التجا کرتا ہوں، اور تقدیر پر راضی رہنے کا سوالی ہوں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه الطبراني فى الدعاءِ: 1406 و البزار: 3187 و الخرائطي فى مكارم الاخلاق: 71/1 و البيهقي فى الشعب: 60/11 - انظر المشكاة: 2500، التحقيق الثاني»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ قَالَ‏:‏ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا‏:‏ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا كَانَ خُلُقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟‏ قَالَتْ‏:‏ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ، تَقْرَؤُونَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ‏؟‏ قَالَتِ‏:‏ اقْرَأْ‏:‏ ‏ ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ‏﴾ [المؤمنون: 1]، قَالَ يَزِيدُ‏:‏ فَقَرَأْتُ‏:‏ ‏ ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ‏﴾ إِلَى ﴿‏لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ‏﴾ [المؤمنون: 1-5]، قَالَتْ‏:‏ هَكَذَا كَانَ خُلُقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.‏
یزید بن بابنوس سے روایت ہے کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ام المؤمنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا۔ تم نے سورہ مومنون پڑھی ہے؟ پھر فرمایا: پڑھو! یقیناً مومن فلاح پا گئے۔ یزید کہتے ہیں میں نے پڑھا: « ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ﴾ » سے « ﴿حَافِظُونَ لِفُرُوجِهِمْ﴾ » [المؤمنون: 1-5] تک۔ انہوں نے فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق تھا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 308]
تخریج الحدیث: «ضعيف: رواه النسائي فى الكبرىٰ: 193/10 و الحاكم: 426/2 و البيهقي فى الدلائل: 309/1 و أبوالشيخ فى أخلاق النبى صلى الله عليه وسلم: 124/1»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں