🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. بَابُ الأَبْوَابِ وَالْغَلَقِ لِلْكَعْبَةِ وَالْمَسَاجِدِ:
باب: کعبہ اور مساجد میں دروازے اور زنجیر رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q468
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: يَا عَبْدَ الْمَلِكِ،" لَوْ رَأَيْتَ مَسَاجِدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبْوَابَهَا"
‏‏‏‏ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبدالملک ابن جریج کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ اے عبدالملک! اگر تم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مساجد اور ان کے دروازوں کو دیکھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: Q468]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَفَتَحَ الْبَابَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، ثُمَّ أَغْلَقَ الْبَابَ فَلَبِثَ فِيهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجُوا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَبَدَرْتُ فَسَأَلْتُ بِلَالًا، فَقَالَ: صَلَّى فِيهِ، فَقُلْتُ: فِي أَيٍّ، قَالَ: بَيْنَ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَذَهَبَ عَلَيَّ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی کے واسطہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے (اور مکہ فتح ہوا) تو آپ نے عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا۔ (جو کعبہ کے متولی، چابی بردار تھے) انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال، اسامہ بن زید اور عثمان بن طلحہ چاروں اندر تشریف لے گئے۔ پھر دروازہ بند کر دیا گیا اور وہاں تھوڑی دیر تک ٹھہر کر باہر آئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر بلال سے پوچھا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر کیا کیا) انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز پڑھی تھی۔ میں نے پوچھا کس جگہ؟ کہا کہ دونوں ستونوں کے درمیان۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ پوچھنا مجھے یاد نہ رہا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 468]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (چابی بردار) حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا، انہوں نے بیت اللہ کا دروازہ کھولا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت بلال، حضرت اسامہ بن زید اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم اندر گئے۔ بعد ازیں دروازہ بند کر لیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تھوڑی دیر رہے، پھر سب باہر نکلے، خود حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں جلد اٹھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھا تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے کے اندر نماز پڑھی ہے۔ میں نے پوچھا: کس مقام پر؟ تو انہوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ بات پوچھنے سے رہ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات پڑھی تھیں؟ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. بَابُ دُخُولِ الْمُشْرِكِ الْمَسْجِدَ:
باب: مشرک کا مسجد میں داخل ہونا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 469
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے سعید بن ابی سعید مقبری کے واسطہ سے بیان کیا انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد کی طرف بھیجا تھا۔ وہ لوگ بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو (بطور جنگی قیدی) پکڑ لائے اور مسجد میں ایک ستون سے باندھ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 469]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سواروں کو نجد کی طرف روانہ فرمایا، وہ لوگ بنوحنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اُثال کو پکڑ لائے اور مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 469]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ فِي الْمَسَاجِدِ:
باب: مساجد میں آواز بلند کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِي رَجُلٌ فَنَظَرْتُ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ، فَجِئْتُهُ بِهِمَا، قَالَ: مَنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، قَالَ:" لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ لَأَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا، انہوں نے سائب بن یزید سے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں کھڑا ہوا تھا، کسی نے میری طرف کنکری پھینکی۔ میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سامنے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ سامنے جو دو شخص ہیں انہیں میرے پاس بلا کر لاؤ۔ میں بلا لایا۔ آپ نے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلہ سے ہے یا یہ فرمایا کہ تم کہاں رہتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم مدینہ کے ہوتے تو میں تمہیں سزا دئیے بغیر نہ چھوڑتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آواز اونچی کرتے ہو؟ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 470]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مسجد نبوی میں کھڑا تھا کہ کسی نے مجھے کنکری ماری۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا: جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو بلا کر لاؤ، چنانچہ میں انہیں بلا کر لایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: تم کس قبیلے سے ہو یا کس جگہ کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے بتایا: ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم مدینہ منورہ کے باشندے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازوں کو اتنا بلند کر رہے ہو! [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 471
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ،" فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ وَنَادَى يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: يَا كَعْبُ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ ضَعِ الشَّطْرَ مِنْ دَيْنِكَ، قَالَ كَعْبٌ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ فَاقْضِهِ".
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے یونس بن یزید نے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب زہری کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا، ان کو ان کے باپ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انھوں نے عبداللہ ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے ایک قرض کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی کے اندر تقاضا کیا۔ دونوں کی آواز کچھ اونچی ہو گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حجرہ سے سن لیا۔ آپ اٹھے اور حجرہ پر پڑے ہوئے پردہ کو ہٹایا۔ آپ نے کعب بن مالک کو آواز دی، اے کعب! کعب بولے۔ یا رسول اللہ! حاضر ہوں۔ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ اپنا آدھا قرض معاف کر دے۔ کعب نے عرض کی یا رسول اللہ! میں نے معاف کر دیا۔ آپ نے ابن ابی حدرد سے فرمایا اچھا اب چل اٹھ اس کا قرض ادا کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 471]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں، مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں ان دونوں کی آوازیں اس قدر بلند ہوئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آوازوں کو اپنے حجرے میں سنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا اور باہر تشریف لائے۔ بعد ازاں آواز دی اور فرمایا: ”اے کعب!“ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنے قرض سے آدھا چھوڑ دو۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے حکم کی تعمیل کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: ”جاؤ اور ان کا قرض ادا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 471]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. بَابُ الْحِلَقِ وَالْجُلُوسِ فِي الْمَسْجِدِ:
باب: مسجد میں حلقہ باندھ کر بیٹھنا اور یوں ہی بیٹھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، مَا تَرَى فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ؟ قَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى، وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ وِتْرًا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِهِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہ کہا ہم سے بشر بن مفضل نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (جبکہ) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ رات کی نماز (یعنی تہجد) کس طرح پڑھنے کے لیے آپ فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو دو رکعت کر کے پڑھ اور جب صبح قریب ہونے لگے تو ایک رکعت پڑھ لے۔ یہ ایک رکعت اس ساری نماز کو طاق بنا دے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ رات کی آخری نماز کو طاق رکھا کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ منبر پر تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے آپ سے دریافت کیا: رات کی نماز کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو رکعت پڑھو، پھر جب (کسی کو) صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت اور پڑھ لے، وہ سابقہ ساری نماز کو وتر کر دے گی۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: رات کی نماز کے آخر میں وتر پڑھا کرو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ"، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا کہ کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ دے رہے تھے آنے والے نے پوچھا کہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو دو رکعت پھر جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر کی پڑھ لے تاکہ تو نے جو نماز پڑھی ہے اسے یہ رکعت طاق بنا دے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ولید بن کثیر نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ عمری نے بیان کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 473]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ (اس وقت) آپ خطبہ دے رہے تھے۔ اس نے عرض کیا: رات کی نماز کس طرح ادا کی جائے؟ آپ نے فرمایا: ”دو دو رکعت۔ پھر جب تمہیں طلوع فجر کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لو۔ وہ تمہاری پڑھی ہوئی سابقہ نماز کو طاق عدد میں تبدیل کر دے گی۔“ ولید بن کثیر اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 474
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فَجَلَسَ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الثَّلَاثَةِ، أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہ کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ کے واسطے سے کہ عقیل بن ابی طالب کے غلام ابومرہ نے انہیں خبر دی ابوواقد لیثی حارث بن عوف صحابی کے واسطہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ تین آدمی باہر سے آئے۔ دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضری کی غرض سے آگے بڑھے لیکن تیسرا چلا گیا۔ ان دو میں سے ایک نے درمیان میں خالی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گیا۔ دوسرا شخص پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا تو واپس ہی جا رہا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ان تینوں کے متعلق ایک بات نہ بتاؤں۔ ایک شخص تو اللہ کی طرف بڑھا اور اللہ نے اسے جگہ دی (یعنی پہلا شخص) رہا دوسرا تو اس نے (لوگوں میں گھسنے سے) شرم کی، اللہ نے بھی اس سے شرم کی، تیسرے نے منہ پھیر لیا۔ اس لیے اللہ نے بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 474]
حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ تین آدمی آئے۔ ان میں سے دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مسجد میں) آ گئے اور ایک واپس چلا گیا۔ ان دونوں میں سے ایک نے حلقے میں کچھ خالی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا تمام لوگوں کے پیچھے جا بیٹھا۔ رہا تیسرا، تو وہ واپس چلا گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے تو فرمایا: ”میں تمہیں ان تینوں آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ ان میں سے ایک نے اللہ کے قریب جگہ تلاش کی تو اللہ نے اسے جگہ عطا کر دی۔ دوسرا انسان اللہ سے شرمایا تو اللہ نے بھی اس سے شرم کی۔ رہا تیسرا تو اس نے (اللہ تعالیٰ) سے روگردانی کی تو اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. بَابُ الاِسْتِلْقَاءِ فِي الْمَسْجِدِ وَمَدِّ الرِّجْلِ:
باب: مسجد میں چت لیٹنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 475
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ،" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى"، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک کے واسطہ سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے، انہوں نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ) سے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چت لیٹے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے ہوئے تھے۔ ابن شہاب زہری سے مروی ہے، وہ سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح لیٹتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 475]
حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے اور پاؤں پر پاؤں رکھے ہوئے دیکھا تھا۔ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ، حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی ایسے کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. بَابُ الْمَسْجِدِ يَكُونُ فِي الطَّرِيقِ مِنْ غَيْرِ ضَرَرٍ بِالنَّاسِ:
باب: عام راستوں پر مسجد بنانا جب کہ کسی کو اس سے نقصان نہ پہنچے (جائز ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q476
وَبِهِ قَالَ الْحَسَنُ، وَأَيُّوبُ وَمَالِكٌ.
‏‏‏‏ اور امام حسن (بصریٰ) اور ایوب اور امام مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: Q476]