🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
236. بَابُ فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ
مریض کی تیمار داری کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، قَالَ: ”مَنْ عَادَ أَخَاهُ كَانَ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ“، قُلْتُ لأَبِي قِلابَةَ: مَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: جَنَاهَا، قُلْتُ لأَبِي قِلابَةَ: عَنْ مَنْ حَدَّثَهُ أبوأَسْمَاءَ؟ قَالَ: عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا ابْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبوأُسَامَةَ، عَنِ الْمُثَنَّى أَظُنُّهُ: ابْنَ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أبوقِلابَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ابو اسماء رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جس نے اپنے مسلمان بھائی کی تیمارداری کی تو وہ جنت کے باغوں میں ہے۔“ میں نے ابو قلابہ سے پوچھا: جنت میں ہونے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: مطلب یہ ہے کہ اسے اس کے بدلے میں جنت کے پھل ملیں گے۔ میں نے مزید پوچھا کہ ابو اسماء یہ حدیث کس سے بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، كتاب البر و الصلة و الأدب: 2568 و الترمذي: 967 - انظر صحيح أبى داؤد: 2714»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
237. بَابُ الْحَدِيثِ لِلْمَرِيضِ وَالْعَائِدِ
مریض اور عیادت کرنے والوں کا حدیث بیان کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَزْمٍ،وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، فِي نَاسٍ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ، عَادُوا عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ بْنِ رَافِعٍ الأَنْصَارِيَّ، قَالُوا: يَا أَبَا حَفْصٍ، حَدِّثْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ”مَنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ، حَتَّى إِذَا قَعَدَ اسْتَقَرَّ فِيهَا.“
ابو بکر بن حزم رحمہ اللہ، محمد بن منکدر رحمہ اللہ اور مسجد کے کچھ نمازیوں نے عمر بن حکم بن رافع انصاری رحمہ اللہ کی عیادت کی تو انہوں نے عمر سے کہا: اے ابو حفص! ہمیں کوئی حدیث سنائیں۔ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کسی مریض کی تیمار داری کی وہ رحمت میں پوری طرح گھس گیا یہاں تک کہ جب مریض کے پاس بیٹھ گیا تو گویا اس نے رحمت میں مستقل قرار پکڑ لیا۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «صحح: أخرجه أحمد: 14260 و ابن حبان: 2956 و الحاكم: 501/1 و البيهقي فى الكبريٰ: 533/3 - انظر الصحيحة: 1929»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
238. بَابُ مَنْ صَلَّى عِنْدَ الْمَرِيضِ
مریض کے ہاں نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: عَادَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَفْوَانَ، فَسیدنا الصَّلاةُ، فَصَلَّى بِهِمُ ابْنُ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: إِنَّا سَفْرٌ.
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو نماز کا وقت ہو گیا، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں دو رکعت نماز پڑھائی اور کہا: ہم مسافر ہیں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه عبدالرزاق: 4372»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
239. بَابُ عِيَادَةِ الْمُشْرِكِ
مشرک کی تیمار داری کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ غُلامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ: ”أَسْلِمْ“، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ، وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ.“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سرہانے بیٹھ کر فرمایا: ”اسلام قبول کر لو۔“ اس لڑکے نے یہ سن کر سرہانے کھڑے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لو، چنانچہ وہ لڑکا مسلمان ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے باہر تشریف لائے تو فرما رہے تھے: ”ہر قسم کی تعریف اس ذات کے لیے ہے جس نے اسے آگ سے بچا لیا۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الجنائز، باب إذا أسلم الصبي فمات: 1356، 5657 و أبوداؤد: 3095»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
240. بَابُ مَا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ
مریض سے کیا کہا جائے، یعنی کیسے حال پوچھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أبوبَكْرٍ وَبِلالٌ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، قُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلالُ، كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: وَكَانَ أبوبَكْرٍ، إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى، يَقُولُ: (بحر الرجز)
كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ
وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ
وَكَانَ بِلالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ، يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ، فَيَقُولُ: (البحرالطویل)
أَلا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً
بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ
وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجَنَّةٍ
وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ
قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ.“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہو گیا۔ وہ فرماتی ہیں: میں ان کی تیمارداری کے لیے گئی تو میں نے کہا: اے ابا جان! کیا حال ہے؟ اور اے بلال! آپ کیسے ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جب بخار ہوتا تو کہتے: ہر شخص کو اس کے گھر والوں میں ”تمہاری صبح خیر یت کے ساتھ ہو“ کہا جاتا ہے جبکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوتا تو بآواز بلند کہتے: کاش مجھے پتہ چل جاتا کیا کوئی رات ایسی وادی میں گزاروں گا کہ میرے اردگرد اذخر و جلیل نامی گھاس ہو گی، اور کیا کسی دن میں جحفہ کے پانیوں پر وارد ہوں گا، اور کیا کبھی مجھے شامہ اور طفیل پہاڑ نظر آئیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ» ”اے اللہ! مدینہ ہمیں اسی طرح محبوب بنا دے جس طرح ہمیں مکہ محبوب ہے، یا اس سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ اس کی آب و ہوا کو صحت افزا بنا دے، اور ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما، اور اس کے بخار کو یہاں سے جحفہ منتقل کر دے۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب فضائل المدينة: 889، 5677 و مسلم: 1376»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
حَدَّثَنَا مُعَلَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، قَالَ: ”لا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“، قَالَ: ذَاكَ طَهُورٌ، كَلا بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ أَوْ تَثُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”فَنَعَمْ إِذًا.“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی تیمارداری کرتے تو دعا پڑھتے تھے: «لا بأس طهور إن شاء الله» ”کوئی حرج نہیں، یہ بیماری پاک کرنے والی ہے، ان شاء اللہ۔“ اس دیہاتی نے کہا: یہ پاک کرنے والی ہے؟ ہرگز نہیں یہ تو بخار ہے جو بوڑھے پر چڑھ دوڑا ہے تاکہ اسے قبرستان پہنچا دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایسا ہی ہو گا۔“ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب المناقب: 3616، 5656، 5662، 7470 - تقدم، برقم: 514»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْقُرَشِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ، إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ، يَسْأَلُهُ: كَيْفَ هُوَ؟ فَإِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ: خَارَ اللَّهُ لَكَ، وَلَمْ يَزِدْهُ عَلَيْهِ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی مریض کی تیمارداری کرتے تو اس سے پوچھتے: وہ کیسا ہے؟ اور جب وہاں سے اٹھتے تو فرماتے: اللہ تیرے لیے خیر کر دے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتے تھے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه البيهقي فى شعب الإيمان: 8775 و أبوالعباس الإصم: 349/1»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
241. بَابُ مَا يُجِيبُ الْمَرِيضُ
مریض کیا جواب دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ هُوَ؟ قَالَ: صَالِحٌ، قَالَ: مَنْ أَصَابَكَ؟ قَالَ: أَصَابَنِي مَنْ أَمَرَ بِحَمْلِ السِّلاحِ فِي يَوْمٍ لا يَحِلُّ فِيهِ حَمْلُهُ، يَعْنِي: الْحَجَّاجَ.
سعید بن عمرو رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حجاج بن یوسف سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں بھی وہیں تھا۔ اس نے پوچھا: آپ کا کیا حال ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ٹھیک ہوں۔ حجاج نے کہا: کس نے آپ کو زخمی کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اس نے زخمی کیا ہے جس نے اس دن اسلحہ اٹھانے کا حکم دیا، جس دن اسلحہ اٹھانا جائز نہ تھا، یعنی حجاج نے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب العيدين، باب يكره من حمل السلاح فى العيد و الحرم: 966، 967»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
242. بَابُ عِيَادَةِ الْفَاسِقِ
فاسق کی عیادت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 529
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لا تَعُودُوا شُرَّابَ الْخَمْرِ إِذَا مَرِضُوا.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: شرابی جب بیمار ہوں تو ان کی تیمارداری نہ کرو۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: «ضعيف:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
243. بَابُ عِيَادَةِ النِّسَاءِ الرَّجُلَ الْمَرِيضَ
عورتوں کا بیمار آدمی کی عیادت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ، هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْد اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ: رَأَيْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، عَلَى رِحَالِهَا أَعْوَادٌ لَيْسَ عَلَيْهَا غِشَاءٌ، عَائِدَةً لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ مِنَ الأَنْصَارِ.
حارث بن عبیداللہ انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کو ایک ایسے کجاوے پر دیکھا جو لکڑی سے بنا ہوا تھا اور اس پر پردہ نہیں تھا، وہ اہل مسجد میں سے ایک انصاری کی عیادت کے لیے تشریف لائی تھیں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه المصنف فى تاريخه الكبير بنفس الإسناد: 275/2 و ابن عساكر فى تاريخه: 448/11»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں