🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ الصَّبْرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ:
باب: اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6471
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ أَوْ تَنْتَفِخَ قَدَمَاهُ، فَيُقَالُ لَهُ، فَيَقُولُ:" أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر بن کدام نے بیان کیا، کہا ہم سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی نماز پڑھتے کہ آپ کے قدموں میں ورم آ جاتا یا کہا کہ آپ کے قدم پھول جاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی جاتی کہ آپ تو بخشے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6471]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر پڑھتے کہ آپ کے دونوں قدموں پر ورم آ جاتا، آپ سے کہا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا» کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6471]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: {وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ}:
باب: جو اللہ پر بھروسہ کرے گا اللہ بھی اس کے لیے کافی ہو گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6472
قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ: مِنْ كُلِّ مَا ضَاقَ عَلَى النَّاسِ.
ربیع بن خثیم تابعی نے بیان کیا کہ مراد ہے کہ تمام انسانی مشکلات میں اللہ پر بھروسہ اختیار کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: Q6472]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6472
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ".
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حصین بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں سعید بن جبیر کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے ستر ہزار لوگ بے حساب جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے نہ شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6472]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے ستر ہزار انسان حساب و کتاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے اور نہ شگون لیتے ہیں بلکہ اپنے رب پر ہی بھروسا کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6472]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ قِيلَ وَقَالَ:
باب: بےفائدہ بات چیت کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6473
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُغِيرَةُ، وَفُلَانٌ، وَرَجُلٌ ثَالِثٌ أَيْضًا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ، أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَمَنْعٍ، وَهَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدِ الْبَنَاتِ"، وَعَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَرَّادًا، يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ایک سے زیادہ کئی آدمیوں نے خبر دی جن میں مغیرہ بن مقسم اور فلاں نے (مجالد بن سعید، ان کی روایت کو ابن خزیمہ نے نکالا) اور ایک تیسرے صاحب داود بن ابی ہند بھی ہیں، انہیں شعبی نے، انہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد نے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ کو لکھا کہ کوئی حدیث جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو وہ مجھے لکھ بھیجو۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے «لا إله إلا الله،‏‏‏‏ وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير» کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ یہ تین مرتبہ پڑھتے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےفائدہ بات چیت کرنے، زیادہ سوال کرنے، مال ضائع کرنے، اپنی چیز بچا کر رکھنے اور دوسروں کی مانگتے رہنے، ماؤں کی نافرمانی کرنے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع فرماتے تھے۔ اور ہشیم سے روایت ہے، انہیں عبدالملک ابن عمیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے وراد سے سنا، وہ یہ حدیث مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6473]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ کوئی حدیث جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو مجھے لکھ بھیجو، چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فراغت کے بعد یہ پڑھتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے بادشاہت ہے اور وہی حمد و ثنا کا سزاوار ہے۔ اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ یہ تین مرتبہ پڑھتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم فضول گفتگو، زیادہ سوال کرنے، مال کے ضیاع، اپنی چیز بچا کر رکھنے، دوسروں کی چیز مانگنے، ماؤں کی نافرمانی کرنے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع کرتے تھے۔ ہشیم کہتے ہیں کہ ہمیں عبدالملک بن عمیر نے بتایا، انہوں نے کہا: میں نے وراد سے سنا، وہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6473]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ:
باب: زبان کی (غلط باتوں سے) حفاظت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6474
وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَقَوْلِهِ تَعَالَى: مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ سورة ق آية 18.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر چپ رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا «ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد» کہ انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے تو اس کے (لکھنے کے لیے) ایک چوکیدار فرشتہ تیار رہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: Q6474]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ".
ہم سے محمد بن ابوبکر مقدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا، انہوں نے ابوحازم سے سنا، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لیے جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6474]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان، ٹانگوں کے درمیان کی ضمانت دے دے، میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6474]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6475
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ".
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6475]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا اللہ پر ایمان اور قیامت پر یقین ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو کوئی اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جس شخص کا اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6475]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6476
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعَ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ جَائِزَتُهُ، قِيلَ: مَا جَائِزَتُهُ، قَالَ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوشریح خزاعی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا مہمانی تین دن کی ہوتی ہے مگر جو لازمی ہے وہ تو پوری کرو۔ پوچھا گیا لازمی کتنی ہے؟ فرمایا کہ ایک دن اور ایک رات اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کی خاطر کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ چپ رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6476]
حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: مہمانی تین دن ہوتی ہے اور اس کا جائزہ بھی پوچھا گیا: اس کا جائز کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن رات اور فرمایا: جو کوئی اللہ پر ایمان اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ پر ایمان اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6476]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6477
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ فِيهَا، يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ الْمَشْرِقِ".
مجھ سے ابرہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے عیسیٰ بن طلحہ تیمی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں (کتنی کفر اور بےادبی کی بات ہے) جس کی وجہ سے وہ دوزخ کے گڑھے میں اتنی دور گر پڑتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6477]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بے شک بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اور اس کے متعلق غور وفکر نہیں کرتا، اس کی وجہ سے وہ دوزخ کے گڑھے میں اتنی دور جا گرتا ہے جس قدر مشرق اور مغرب کے درمیان مسافت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6477]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6478
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْني ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ".
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے ابوالنضر سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ یعنی ابن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کر دیتا ہے اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6478]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک بندہ اللہ کی رضا جوئی کے لیے بات منہ سے نکالتا ہے، اسے وہ کچھ اہمیت بھی نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے اللہ اس کے درجات بلند کر دیتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضی کا باعث ہوتا ہے، اس کے ہاں اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم چلا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6478]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں