صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اگر احد پہاڑ کے برابر سونا میرے پاس ہو تو بھی مجھ کو یہ پسند نہیں۔
حدیث نمبر: 6444
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ، فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا تَمْضِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، ثُمَّ مَشَى، فَقَالَ: إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ: هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ، ثُمَّ قَالَ لِي: مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ"، ثُمَّ انْطَلَقَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَارَى، فَسَمِعْتُ صَوْتًا قَدِ ارْتَفَعَ، فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ، فَذَكَرْتُ قَوْلَهُ لِي: لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَتَانِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتًا تَخَوَّفْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ: وَهَلْ سَمِعْتَهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ".
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص (سلام بن سلیم) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے زید بن وہب نے کہ ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے علاقہ میں چل رہا تھا کہ احد پہاڑ ہمارے سامنے آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس سے بالکل خوشی نہیں ہو گی کہ میرے پاس اس احد کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گذر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوا اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑ دوں بلکہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح خرچ کروں اپنی دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا، زیادہ مال جمع رکھنے والے ہی قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوا اس شخص کے جو اس مال کو اس اس طرح دائیں طرف سے، بائیں طرف سے اور پیچھے سے خرچ کرے اور ایسے لوگ کم ہیں۔ پھر مجھ سے فرمایا، یہیں ٹھہرے رہو، یہاں سے اس وقت تک نہ جانا جب تک میں آ نہ جاؤں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی جو بلند تھی۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دشواری نہ پیش آ گئی ہو۔ میں نے آپ کی خدمت میں پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کا ارشاد یاد آیا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، جب تک میں نہ آ جاؤں۔ چنانچہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے میں وہاں سے نہیں ہٹا۔ پھر آپ آئے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک آواز سنی تھی، مجھے ڈر لگا لیکن پھر آپ کا ارشاد یاد آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے سنا تھا؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا خواہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو؟ انہوں نے کہا ہاں زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6444]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ طیبہ کے پتھریلے علاقے میں چل رہا تھا کہ ہمارے سامنے احد پہاڑ نمودار ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر رضی اللہ عنہ!“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس بات سے بالکل خوشی نہیں ہوگی کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گزر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوائے اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے چھوڑوں، مگر میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح خرچ کر دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں، بائیں اور پیچھے کی طرف اشارہ فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: ”بے شک زیادہ مال رکھنے والے قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوائے اس شخص کے جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح خرچ کیا۔۔۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں، بائیں اور پیچھے کی طرف اشارہ فرمایا: ”۔۔۔ اور ایسے بہت کم لوگ ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ٹھہرو اور میرے آنے تک یہاں ہی رہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں چلے گئے یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہو گئے، اس کے بعد میں نے ایک بلند آواز سنی تو مجھے خطرہ لاحق ہوا مبادا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد یاد آ گیا: ”تم اپنی جگہ ٹھہرو جب تک میں تمہارے پاس نہ آ جاؤں۔“ چنانچہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے میں وہاں سے نہیں ہٹا، (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو) میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک آواز سنی تھی جس سے مجھے خطرہ لاحق ہو گیا تھا لیکن آپ کی بات یاد آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کوئی آواز سنی تھی؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جبرئیل علیہ السلام تھے جو میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا: آپ کی امت میں سے جو شخص اس حالت میں فوت ہو جائے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا: اگرچہ اس نے چوری اور بدکاری بھی کی ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، اگرچہ وہ چوری اور بدکاری کا مرتکب ہوا ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6444]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6445
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا، لَسَرَّنِي أَنْ لَا تَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ، إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ".
مجھ سے احمد بن شبیب نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے اس میں خوشی ہو گی کہ تین دن بھی مجھ پر اس حال میں نہ گزرنے پائیں کہ اس میں سے میرے پاس کچھ بھی باقی بچے۔ البتہ اگر کسی کا قرض دور کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں تو یہ اور بات ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6445]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو مجھے یہ پسند ہے کہ تین راتیں بھی اس پر نہ گزرنے پائیں کہ اس میں سے میرے پاس کچھ باقی ہو، اگر کسی کا قرض دور کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں تو الگ بات ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6445]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
15. بَابُ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ:
باب: مالدار وہ ہے جس کا دل غنی ہو۔
حدیث نمبر: Q6446
وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ سورة المؤمنون آية 55، إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: مِنْ دُونِ ذَلِكَ هُمْ لَهَا عَامِلُونَ سورة المؤمنون آية 63، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: لَمْ يَعْمَلُوهَا لَا بُدَّ مِنْ أَنْ يَعْمَلُوهَا.
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مومنون میں) فرمایا «أيحسبون أنما نمدهم به من مال وبنين» ”کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو مال اور اولاد دے کر ان کی مدد کئے جاتے ہیں“ آخر آیت «من دون ذلك هم لها عاملون» تک۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ «هم لها عاملون» سے مراد یہ ہے کہ ابھی وہ اعمال انہوں نے نہیں کئے لیکن ضرور ان کو کرنے والے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: Q6446]
حدیث نمبر: 6446
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تونگری یہ نہیں ہے کہ سامان زیادہ ہو، بلکہ امیری یہ ہے کہ دل غنی ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6446]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”تونگری یہ نہیں کہ سامان زیادہ ہو بلکہ دولت مندی یہ ہے کہ دل غنی ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6446]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
16. بَابُ فَضْلِ الْفَقْرِ:
باب: فقر کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 6447
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ: مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ: هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ، وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ سے جو آپ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے، پوچھا کہ اس شخص (گزرے والے) کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ معزز لوگوں میں سے ہے اور اللہ کی قسم! یہ اس قابل ہے کہ اگر یہ پیغام نکاح بھیجے تو اس سے نکاح کر دیا جائے۔ اگر یہ سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کر لی جائے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے متعلق بھی پوچھا کہ ان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا، یا رسول اللہ! یہ صاحب مسلمانوں کے غریب طبقہ سے ہیں اور یہ ایسے ہیں کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجیں تو ان کا نکاح نہ کیا جائے، اگر یہ کسی کی سفارش کریں تو ان کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر کچھ کہیں تو ان کی بات نہ سنی جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ اللہ کے نزدیک یہ پچھلا محتاج شخص اگلے مالدار شخص سے، گو ویسے آدمی زمین بھر کر ہوں، بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6447]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے اپنے پاس بیٹھنے والے شخص سے فرمایا: ”اس آدمی کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”یہ معزز لوگوں میں سے ہے۔ اللہ کی قسم! یہ اس لائق ہے کہ اگر کسی کو پیغامِ نکاح بھیجے تو اس کا نکاح کر دیا جائے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو قبول کی جائے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے۔ پھر ایک اور آدمی وہاں سے گزرا تو آپ نے اس سے اس کے متعلق پوچھا: ”اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟“ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! یہ صاحب تو مسلمانوں کے غریب طبقے سے ہیں۔ یہ اس لائق ہے کہ اگر کسی کو پیغامِ نکاح بھیجے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے، اگر سفارش کرے تو قبول نہ کی جائے اور اگر بات کرے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں یہ (محتاج) پہلے مال دار سے بہتر ہے، خواہ ایسے (مال دار) لوگوں سے زمین بھری ہوئی ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6447]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6448
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: عُدْنَا خَبَّابًا، فَقَالَ" هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ نَمِرَةً، فَإِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الْإِذْخِرِ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا".
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا کہ میں نے ابووائل سے سنا، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی۔ چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ذمہ رہا۔ پس ہم میں سے کوئی تو گزر گیا اور اپنا اجر (اس دنیا میں) نہیں لیا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (انہی) میں سے تھے، وہ جنگ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے اور ایک چادر چھوڑی تھی (اس چادر کا ان کو کفن دیا گیا تھا) اس چادر سے ہم اگر ان کا سر ڈھکتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں اور کوئی ہم میں سے ایسے ہوئے جن کے پھل خوب پکے اور وہ مزے سے چن چن کر کھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6448]
حضرت ابو وائل سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم نے حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کی تو انہوں نے فرمایا: ”ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے ہجرت کی تو ہمارا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہو گیا۔ ہم میں سے کچھ ساتھی اللہ کو پیارے ہو گئے اور انہوں نے اپنے اجر سے کچھ نہ لیا۔ ان میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (تھے) جو غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ انہوں نے (ترکے میں) صرف ایک چادر چھوڑی تھی، جب ہم بطور کفن ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب پاؤں چھپاتے تو سر ننگا ہو جاتا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔ اور ہم میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کے پھل دنیا میں خوب پکے اور وہ مزے سے چن چن کر کھا رہے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6448]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6449
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ، فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ"، تَابَعَهُ أَيُّوبُ، وَعَوْفٌ، وَقَالَ صَخْرٌ، وَحَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
ہم سے ابوولید نے بیان کیا، کہا ہم سے سلم بن زریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے بیان کیا، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے جنت میں جھانکا تو اس میں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو اس کی رہنے والیاں اکثر عورتیں تھیں۔“ ابورجاء کے ساتھ اس حدیث کو ایوب سختیانی اور عوف اعرابی نے بھی روایت کیا ہے اور صخر بن جویریہ اور حماد بن نجیح دونوں اس حدیث کو ابورجاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6449]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”میں نے جنت میں نظر ڈالی تو اس میں رہنے والے اکثر فقراء اور غریب لوگ تھے اور میں نے دوزخ میں جھانکا تو اس میں اکثر عورتوں کو دیکھا۔“ ایوب اور عوف نے اس حدیث کے بیان کرنے میں ابو رجاء کی متابعت کی ہے۔ صخر اور حماد بن نجیع نے ابو رجاء سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6449]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6450
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمْ يَأْكُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ، وَمَا أَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتَّى مَاتَ".
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن محمد بن عمرو بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور نہ وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی باریک چپاتی تناول فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6450]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی دسترخوان (میز) پر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور نہ فوت ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی باریک چپاتی ہی تناول فرمائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6450]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6451
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ فَكِلْتُهُ، فَفَنِيَ".
ہم سے ابوبکر عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ خانہ میں کوئی غلہ نہ تھا جو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا، سوا تھوڑے سے جَو کے جو میرے توشہ خانہ میں تھے، میں ان میں ہی سے کھاتی رہی آخر اکتا کر جب بہت دن ہو گئے تو میں نے انہیں ناپا تو وہ ختم ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6451]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ دان میں کوئی غلہ نہ تھا جو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا، البتہ تھوڑے سے جو میرے توشہ دان میں تھے۔ میں انہی سے کھاتی رہی۔ آخر کار جب بہت دن گزر گئے تو میں نے ان کا وزن کیا، چنانچہ وہ ختم ہو گئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6451]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
17. بَابُ كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، وَتَخَلِّيهِمْ مِنَ الدُّنْيَا:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا سے کنارہ کشی کا بیان۔
حدیث نمبر: 6452
حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ بِنَحْوٍ مِنْ نِصْفِ هَذَا الْحَدِيثِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ يَقُولُ: أَللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ، فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ فَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي وَمَا فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا هِرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" الْحَقْ، وَمَضَى فَتَبِعْتُهُ فَدَخَلَ فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لِي فَدَخَلَ فَوَجَدَ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ: قَالُوا: أَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ أَوْ فُلَانَةُ، قَالَ: أَبَا هِرٍّ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الْحَقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَادْعُهُمْ لِي قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ، وَلَا عَلَى أَحَدٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ وَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ، كُنْتُ أَحَقُّ أَنَا أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا، فَإِذَا جَاءَ أَمَرَنِي فَكُنْتُ أَنَا أُعْطِيهِمْ وَمَا عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدٌّ، فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا، فَأَذِنَ لَهُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ، قَالَ: يَا أَبَا هِرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: خُذْ فَأَعْطِهِمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ فَأُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَيَّ الْقَدَحَ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمَ، فَقَالَ: أَبَا هِرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ، قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: اقْعُدْ فَاشْرَبْ، فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ، فَقَالَ: اشْرَبْ، فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ يَقُولُ اشْرَبْ حَتَّى قُلْتُ: لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا، قَالَ: فَأَرِنِي، فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ".
مجھ سے ابونعیم نے یہ حدیث آدھی کے قریب بیان کی اور آدھی دوسرے شخص نے، کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا، کہا ہم سے مجاہد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں (زمانہ نبوی میں) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا۔ ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے صحابہ نکلتے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گزرے اور میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، میرے پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ چلے گئے اور کچھ نہیں کیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت پوچھی اور پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور آپ نے جب مجھے دیکھا تو آپ مسکرا دئیے اور جو میرے دل میں اور جو میرے چہرے پر تھا آپ نے پہچان لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اباہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ اور آپ چلنے لگے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر گھر میں تشریف لے گئے۔ پھر میں نے اجازت چاہی اور مجھے اجازت ملی۔ جب آپ داخل ہوئے تو ایک پیالے میں دودھ ملا۔ دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ کہا فلاں یا فلانی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ میں بھیجا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اباہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا، اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی میرے پاس بلا لاؤ۔ کہا کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں، وہ نہ کسی کے گھر پناہ ڈھونڈھتے، نہ کسی کے مال میں اور نہ کسی کے پاس! جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ رکھتے۔ البتہ جب آپ کے پاس تحفہ آتا تو انہیں بلوا بھیجتے اور خود بھی اس میں سے کچھ کھاتے اور انہیں بھی شریک کرتے۔ چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری اور میں نے سوچا کہ یہ دودھ ہے ہی کتنا کہ سارے صفہ والوں میں تقسیم ہو، اس کا حقدار میں تھا کہ اسے پی کر کچھ قوت حاصل کرتا۔ جب صفہ والے آئیں گے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمائیں گے اور میں انہیں اسے دے دوں گا۔ مجھے تو شاید اس دودھ میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی حکم برداری کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچائی، وہ آ گئے اور اجازت چاہی۔ انہیں اجازت مل گئی پھر وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اباہر! میں نے عرض کیا لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا لو اور اسے ان سب حاضرین کو دے دو۔ بیان کیا کہ پھر میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک کو دینے لگا۔ ایک شخص دودھ پی کر جب سیراب ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر دوسرے شخص کو دیتا وہ بھی سیراب ہو کر پیتا پھر پیالہ مجھ کو واپس کر دیتا اور اسی طرح تیسرا پی کر پھر مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔ اس طرح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا لوگ پی کر سیراب ہو چکے تھے۔ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا، اباہر! میں نے عرض کیا، لبیک، یا رسول اللہ! فرمایا، اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے سچ فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو۔ میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے رہے کہ اور پیو آخر مجھے کہنا پڑا، نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب بالکل گنجائش نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر مجھے دے دو، میں نے پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور بسم اللہ پڑھ کر بچا ہوا خود پی گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6452]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: ”اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، میں بعض اوقات بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ میں اس راستے پر بیٹھ گیا جہاں صحابہ کرام کی آمد و رفت تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے متعلق پوچھا۔ میرے پوچھنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلائیں پلائیں لیکن وہ بغیر کچھ کیے وہاں سے چل دیے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت کے متعلق دریافت کیا اور دریافت کرنے کا مطلب صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلائیں پلائیں لیکن وہ بھی کچھ کیے بغیر چپکے سے گزر گئے۔ ان کے بعد ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو مسکرا دیے۔ میرے چہرے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاڑ لیا اور میرے دل کی بات سمجھ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ آ جاؤ۔“ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ پھر میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے تو آپ کو ایک پیالے میں دودھ ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟“ اہل خانہ نے کہا: ”یہ فلاں مرد یا عورت نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کی: ”لبیک اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی میرے پاس بلا لاؤ۔“ اہل صفہ اہل اسلام کے مہمان تھے، وہ گھر بار، اہل و عیال اور مال وغیرہ نہ رکھتے تھے اور نہ کسی کے پاس جاتے ہی تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو وہ ان کے پاس بھیج دیتے اور خود اس سے کچھ نہ کھاتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ آتا تو اس سے کچھ خود بھی کھا لیتے اور ان کے پاس بھی بھیج دیتے تھے اور انہیں اس میں شریک کر لیتے تھے۔ مجھے یہ بات ناگوار گزری۔ میں نے سوچا کہ اس دودھ کی مقدار کیا ہے جو وہ اہل صفہ میں تقسیم ہو؟ اس کا حق دار تو میں تھا اسے نوش کر کے کچھ قوت حاصل کرتا۔ جب (اہل صفہ) آئیں گے تو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہی فرمائیں گے تو) میں ان میں تقسیم کروں گا۔ مجھے تو شاید اس دودھ سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور ان کے حکم کی بجا آوری کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور انہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی) دعوت پہنچائی۔ وہ آئے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو انہیں اجازت مل گئی۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اپنی اپنی جگہ پر فروکش ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کی: ”لبیک اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیالہ لو اور سب حاضرین کو دودھ پلاؤ۔“ میں نے وہ پیالہ پکڑا اور ایک ایک کو پلانے لگا۔ ایک شخص جب پی کر سیراب ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔ پھر میں دوسرے شخص کو دیتا۔ وہ بھی سیر ہو کر پیتا پھر پیالہ مجھے واپس کر دیتا، اسی طرح تیسرا پی کر پھر پیالہ مجھے واپس کر دیتا، یہاں تک کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا جبکہ تمام اہل صفہ دودھ پی کر سیراب ہو چکے تھے۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر میری طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کی: ”لبیک اللہ کے رسول!“ فرمایا: ”میں اور آپ باقی رہ گئے ہیں۔“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ نے سچ فرمایا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ اور اسے نوش کرو۔“ چنانچہ میں بیٹھ گیا اور دودھ پینا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”اور پیو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اور پینے کا مسلسل کہتے رہے حتیٰ کہ مجھے کہنا پڑا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اب پینے کی بالکل گنجائش نہیں، اس کے لیے کوئی راہ نہیں پاتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مجھے دے دو۔“ میں نے وہ پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھ کر (ہم سب کا) بچا ہوا دودھ نوش فرمایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6452]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة