صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب حفظ اللسان:
باب: زبان کی (غلط باتوں سے) حفاظت کرنا۔
حدیث نمبر: Q6474
وَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَقَوْلِهِ تَعَالَى: مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ سورة ق آية 18.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر چپ رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا «ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد» کہ ”انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے تو اس کے (لکھنے کے لیے) ایک چوکیدار فرشتہ تیار رہتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: Q6474]
حدیث نمبر: 6474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ".
ہم سے محمد بن ابوبکر مقدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا، انہوں نے ابوحازم سے سنا، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے لیے جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری دیتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6474]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6807
| من توكل لي ما بين رجليه ما بين لحييه توكلت له بالجنة |
صحيح البخاري |
6474
| من يضمن لي ما بين لحييه وما بين رجليه أضمن له الجنة |
جامع الترمذي |
2408
| من يتكفل لي ما بين لحييه وما بين رجليه أتكفل له بالجنة |
المعجم الصغير للطبراني |
1024
| من ضمن لي ما بين لحيته ورجليه ضمنت له الجنة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6474 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6474
حدیث حاشیہ:
(1)
انسانی اعضاء میں زبان کے علاوہ جس عضو کی حفاظت کو خاص اہمیت حاصل ہے وہ انسان کی شرمگاہ ہے، اس لیے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اعضاء کی ضمانت بیان فرمائی ہے کہ جو بندہ اس کا ذمہ لے لے کہ وہ اپنی زبان کی بھی حفاظت کرے گا اور شہوت نفس کو بھی لگام دے گا میں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا ذمہ لیتا ہوں۔
(2)
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے ارشادات کے مخاطب وہ اہل ایمان ہیں جو ایمان کے بنیادی مطالبات کو ادا کرتے ہیں، ایک دفعہ کسی صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”اپنی زبان پر قابو رکھو۔
“ (مسند أحمد: 259/5)
(1)
انسانی اعضاء میں زبان کے علاوہ جس عضو کی حفاظت کو خاص اہمیت حاصل ہے وہ انسان کی شرمگاہ ہے، اس لیے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اعضاء کی ضمانت بیان فرمائی ہے کہ جو بندہ اس کا ذمہ لے لے کہ وہ اپنی زبان کی بھی حفاظت کرے گا اور شہوت نفس کو بھی لگام دے گا میں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا ذمہ لیتا ہوں۔
(2)
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے ارشادات کے مخاطب وہ اہل ایمان ہیں جو ایمان کے بنیادی مطالبات کو ادا کرتے ہیں، ایک دفعہ کسی صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:
”اپنی زبان پر قابو رکھو۔
“ (مسند أحمد: 259/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6474]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2408
زبان کی حفاظت کا بیان۔
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2408]
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2408]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چونکہ زبان اورشرمگاہ گناہوں کے صدورکا اصل مرکزہیں،
اسی لیے ان کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے،
اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی حفاظت کی ضمانت دینے والوں کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے۔
وضاحت:
1؎:
چونکہ زبان اورشرمگاہ گناہوں کے صدورکا اصل مرکزہیں،
اسی لیے ان کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے،
اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی حفاظت کی ضمانت دینے والوں کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2408]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6807
6807. حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان (شرمگاہ) اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان (زبان) کی ضمانت دی تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6807]
حدیث حاشیہ:
انسان عام طور پر زبان اور شرمگاہ کے ذریعےسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے، ان دونوں کی ضمانت دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فحش کاری اور فحش کلامی کو ترک کر دے۔
ان دونوں سے بے حد گندے کاموں سے بچنے کی فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت میں جانے کی ضمانت دی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فواحش ومنکرات کو چھوڑنے کی فضیلت اس حدیث سے ثابت کی ہے۔
واللہ أعلم
انسان عام طور پر زبان اور شرمگاہ کے ذریعےسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے، ان دونوں کی ضمانت دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فحش کاری اور فحش کلامی کو ترک کر دے۔
ان دونوں سے بے حد گندے کاموں سے بچنے کی فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت میں جانے کی ضمانت دی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فواحش ومنکرات کو چھوڑنے کی فضیلت اس حدیث سے ثابت کی ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6807]
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي