الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
467. بَابُ
بلا عنوان
حدیث نمبر: 1014
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الأَفْنِيَةِ وَالصُّعُدَاتِ أَنْ يُجْلَسَ فِيهَا، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: لَا نَسْتَطِيعُهُ، لَا نُطِيقُهُ، قَالَ: ”أَمَّا لَا، فَأَعْطُوا حَقَّهَا“، قَالُوا: وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: ”غَضُّ الْبَصَرِ، وَإِرْشَادُ ابْنِ السَّبِيلِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَرَدُّ التَّحِيَّةِ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان کے سامنے کھلی جگہ پر، اور راستوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ مسلمانوں نے عرض کیا: ہم میں اس کی طاقت نہیں، یعنی ایسا کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسا نہیں کر سکتے تو راستے کا حق ادا کرو۔“ صحابہ نے عرض کیا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نگاہوں کو پست رکھنا، مسافر کی راہنمائی کرنا، چھینکنے والا «الحمد للہ» کہے تو اس کا جواب دینا، اور سلام کا جواب دینا۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث: «صحيح: سنن أبى داؤد، الأدب، ح: 4815»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1015
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا كِنَانَةُ مَوْلَى صَفِيَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَبْخَلُ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلاَمِ، وَالْمَغْبُونُ مَنْ لَمْ يَرُدَّهُ، وَإِنْ حَالَتْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَخِيكَ شَجَرَةٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْدَأَهُ بِالسَّلامِ لَا يَبْدَأُكَ فَافْعَلْ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام میں بخل کرے، اور نقصان میں وہ ہے جو سلام کا جواب نہ دے۔ اگر تیرے اور تیرے بھائی کے درمیان درخت حائل ہو جائے تو اگر طاقت رکھتا ہے کہ سلام میں پہل کرے تو کرنا۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1015]
تخریج الحدیث: «ضعيف الإسناد موقوفًا: تفرد المصف بهذا التفصيل»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوفًا
حدیث نمبر: 1016
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَمْرٍو إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ زَادَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ جَالِسٌ فَقُلْتُ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، قَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، وَطَيِّبُ صَلَوَاتِهِ.
سالم مولیٰ عبداللہ بن عمرو رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو جب سلام کہا جاتا تو سلام کے جواب میں زیادہ کلمات فرماتے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ تشریف فرما تھے تو میں نے کہا: «السلام علیکم» ! انہوں نے جواب دیا: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ» ! میں پھر ایک مرتبہ آیا اور کہا: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ» ! تو انہوں نے جواب دیا: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ» ! پھر ایک دفعہ ان کے پاس آیا تو میں نے کہا: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ» ! انہوں نے جواب دیا: «السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وطبیب صلواتہ» ! تجھ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات اور اس کی پاکیزہ صلوات ہوں۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1016]
تخریج الحدیث: «ضعيف الإسناد موقوفًا: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوفًا
468. بَابُ لا يُسَلَّمُ عَلَى فَاسِقٍ
فاسق کو سلام نہ کہا جائے
حدیث نمبر: 1017
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: لَا تُسَلِّمُوا عَلَى شُرَّابِ الْخَمْرِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: شراب پینے والوں کو سلام نہ کہو۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث: «أثر ضعيف: صحيح البخاري، الاستيذان، باب من لم يسلم على من اقترف ذنبًا ...... معلقًا»
قال الشيخ الألباني: أثر ضعيف
حدیث نمبر: 1018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، وَمُعَلَّى، وَعَارِمٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْفَاسِقِ حُرْمَةٌ.
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تمہارے اور فاسق کے درمیان کوئی احترام نہیں۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1018]
تخریج الحدیث: «صحيح: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْنُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رُزَيْقٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَكْرَهُ الأَسْبِرَنْجَ وَيَقُولُ: لَا تُسَلِّمُوا عَلَى مَنْ لَعِبَ بِهَا، وَهِيَ مِنَ الْمَيْسِرِ.
علی بن عبداللہ بن عباس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ شطرنج کو ناپسند کرتے تھے، اور کہتے تھے: جو آدمی شطرنج کے ساتھ کھیلے اس کو سلام نہ کہو۔ یہ جوا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1019]
تخریج الحدیث: «ضعيف الإسناد مقطوع: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
469. بَابُ مَنْ تَرَكَ السَّلامَ عَلَى الْمُتَخَلِّقِ وَأَصْحَابِ الْمَعَاصِي
خلوق استعمال کرنے والوں اور گناہگاروں کو سلام نہ کہنا
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ رَجُلٌ مُتَخَلِّقٌ بِخَلُوقٍ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَأَعْرَضَ عَنِ الرَّجُلِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعْرَضْتَ عَنِّي؟ قَالَ: ”بَيْنَ عَيْنَيْهِ جَمْرَةٌ.“
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن میں ایک شخص خلوق (زعفرانی رنگ کی خوشبو) لگائے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور سلام کہا اور اس شخص سے منہ پھیر لیا۔ اس آدمی نے عرض کیا: آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی آنکھوں کے درمیان آگ کا انگارہ ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1020]
تخریج الحدیث: «حسن: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 1021
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلُ كَرَاهِيَتَهُ ذَهَبَ فَأَلْقَى الْخَاتَمَ، وَأَخَذَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَلَبِسَهُ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ”هَذَا شَرٌّ، هَذَا حِلْيَةُ أَهْلِ النَّارِ“، فَرَجَعَ فَطَرَحَهُ، وَلَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس شخص نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح ناگواری دیکھی تو چلا گیا اور سونے کی انگوٹھی اتار کر لوہے کی انگوٹھی بنوا کر پہن لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ یہ جہنمیوں کا زیور ہے۔“ وہ گیا اور اس کو پھینک کر چاندی کی انگوٹھی پہن لی۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1021]
تخریج الحدیث: «حسن: مسند أحمد، حديث: 163/2»
قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 1022
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ - وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ حَرِيرٍ - فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ مَحْزُونًا، فَشَكَا إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ: لَعَلَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِبَّتَكَ وَخَاتَمَكَ، فَأَلْقِهِمَا ثُمَّ عُدْ، فَفَعَلَ، فَرَدَّ السَّلاَمَ، فَقَالَ: جِئْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي؟ قَالَ: ”كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرٌ مِنْ نَارٍ“، فَقَالَ: لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ، قَالَ: ”إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْزَأَ عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا“، قَالَ: فَبِمَاذَا أَتَخَتَّمُ بِهِ؟ قَالَ: ”بِحَلْقَةٍ مِنْ وَرِقٍ، أَوْ صُفْرٍ، أَوْ حَدِيدٍ.“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بحرین سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا۔ کیونکہ اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی، اور اس نے ریشمی جبہ بھی پہن رکھا تھا۔ وہ آدمی غمزدہ ہو کر چلا گیا اور اپنی بیوی کو جا کر بتایا تو اس نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے جبے اور انگوٹھی کی وجہ سے ناراض ہوئے ہوں، لہٰذا انہیں اتار کر پھر جاؤ۔ اس نے ایسے ہی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ اس نے عرض کیا: میں ابھی ابھی آیا تھا تو آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاتھ میں آگ کا انگارہ تھا۔“ اس نے کہا: تب تو میں بہت سارے انگارے لایا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم لائے ہو (یہاں) اس کی کسی کے نزدیک پتھریلی زمین کے پتھروں سے زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ لیکن یہ دنیاوی زندگی کا سامان ہے۔“ اس نے عرض کیا: تب میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی، پیتل یا لوہے کی انگوٹھی پہن لے۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1022]
تخریج الحدیث: «ضعيف: سنن النسائي، الزينة، حديث: 5209»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
470. بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى الأَمِيرِ
امیر کو سلام کہنا
حدیث نمبر: 1023
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَأَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: لِمَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ يَكْتُبُ: مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللهِ، ثُمَّ كَانَ عُمَرُ يَكْتُبُ بَعْدَهُ: مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَلِيفَةِ أَبِي بَكْرٍ، مَنْ أَوَّلُ مَنْ كَتَبَ: أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي الشِّفَاءُ - وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا هُوَ دَخَلَ السُّوقَ دَخَلَ عَلَيْهَا - قَالَتْ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى عَامِلِ الْعِرَاقَيْنِ: أَنِ ابْعَثْ إِلَيَّ بِرَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ نَبِيلَيْنِ، أَسْأَلُهُمَا عَنِ الْعِرَاقِ وَأَهْلِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ صَاحِبُ الْعِرَاقَيْنِ بِلَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، فَقَدِمَا الْمَدِينَةَ فَأَنَاخَا رَاحِلَتَيْهِمَا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلاَ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، فَقَالاَ لَهُ: يَا عَمْرُو، اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، فَوَثَبَ عَمْرٌو فَدَخَلَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا بَدَا لَكَ فِي هَذَا الِاسْمِ يَا ابْنَ الْعَاصِ؟ لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَدِمَ لَبِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَعَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، فَقَالاَ لِي: اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقُلْتُ: أَنْتُمَا وَاللَّهِ أَصَبْتُمَا اسْمَهُ، وَإِنَّهُ الأَمِيرُ، وَنَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ. فَجَرَى الْكِتَابُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابو بکر بن سلیمان بن ابی حثمہ رحمہ اللہ سے پوچھا: سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کیوں لکھتے تھے: «من ابی بکر خليفۃ رسول اللہ»، پھر ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لکھتے تھے: «عمر بن خطاب خلیفۃ ابوبکر» کی طرف سے، اور پھر سب سے پہلے امیر المومنین کس نے لکھنا شروع کیا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے میری دادی شفاء نے بتایا، اور وہ ابتدا میں ہجرت کرنے والیوں میں سے تھیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب بازار آتے تو ان کے ہاں ضرور حاضر ہوتے، وہ فرماتی ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ و بصرہ کے گورنروں کو لکھا کہ میرے پاس دو مضبوط اور سمجھ دار آدمی بھیجو تاکہ میں ان سے عراق اور وہاں کے باشندوں کے بارے میں دریافت کر سکوں۔ چنانچہ دونوں گورنروں نے سیدنا لبیڈ بن ربیعہ اور سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ وہ مدینہ طیبہ آئے اور دونوں نے اپنی سواریاں مسجد کے سامنے بٹھائیں، اور مسجد میں داخل ہوئے تو انہیں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ملے۔ دونوں نے ان سے کہا: اے عمرو! ہمارے لیے امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کیجیے۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ جلدی سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: «السلام عليك يا أمير المؤمنین» ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: عاص کے بیٹے! یہ نام تجھے کہاں سے سوجھا؟ جو تم نے کہا اس کی وجہ بیان کرو۔ انہوں نے کہا: ضرور، لبیڈ بن ربیعہ اور عدی بن حاتم آئے ہیں، اور انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ امیر المومنین سے ہمارے لیے اجازت طلب کرو۔ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم تم نے ان کا صحیح نام تجویز کیا ہے۔ وہ واقعی امیر ہیں اور ہم مومن ہیں۔ اسی دن سے یہ خطاب جاری ہو گیا۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث: «صحيح: التمهيد لابن عبدالبر: 76/10 و أسد الغابة»
قال الشيخ الألباني: صحيح