🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
477. بَابُ السَّلامِ عَلَى الصِّبْيَانِ
بچوں کو سلام کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1044
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَنْبَسَةَ قَالَ‏:‏ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُسَلِّمُ عَلَى الصِّبْيَانِ فِي الْكُتَّابِ‏.‏
عنبسہ بن عمار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ مکتب میں بچوں کو سلام کہتے تھے۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: «صحيح: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
478. بَابُ تَسْلِيمِ النِّسَاءِ عَلَى الرِّجَالِ
عورتوں کا مردوں کو سلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1045
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئِ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ تَقُولُ‏:‏ ذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَغْتَسِلُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ‏:‏ ”مَنْ هَذِهِ‏؟“‏ قُلْتُ‏:‏ أُمُّ هَانِئٍ، قَالَ‏:‏ ”مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ.“
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گئی تو وہ غسل فرما رہے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: ام ہانی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش آمدید۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث: «صحيح: صحيح البخاري، الصلاة، حديث: 357»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1046
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ‏:‏ كُنَّ النِّسَاءُ يُسَلِّمْنَ عَلَى الرِّجَالِ‏.‏
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: عورتیں مردوں کو سلام کہا کرتی تھیں۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث: «حسن: شعب الإيمان للبيهقي: 460/6، حديث: 8899»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
479. بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى النِّسَاءِ
عورتوں کو سلام کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ، وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، قَالَ بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلاَمِ، فَقَالَ‏: ”إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ، إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنْعِمِينَ“، قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ‏:‏ نَعُوذُ بِاللَّهِ، يَا نَبِيَّ اللهِ، مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ، قَالَ‏:‏ ”بَلَى إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَقُولُ‏:‏ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ سَاعَةً خَيْرًا قَطُّ، فَذَلِكَ كُفْرَانُ نِعَمِ اللهِ، وَذَلِكَ كُفْرَانُ نِعَمِ الْمُنْعِمِينَ‏.‏“
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے گزرے تو وہاں عورتوں کا جتھا بیٹھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور فرمایا: ”احسان کرنے والوں کی ناشکری سے بچو، احسان کرنے والوں کی ناشکری مت کرو۔“ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے اللہ کی پناہ چاہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یقیناً ایسا کرتی ہو، تم میں سے کسی کے کنوارے پن کا زمانہ طویل ہو جاتا ہے (اور پھر شادی ہوتی ہے) اور شوہر پر غصہ آتا ہے تو کہتی ہے: اللہ کی قسم! میں نے اس سے کبھی لمحہ بھر بھی خیر نہیں پائی۔ یہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری ہے، اور یہ احسان کرنے والوں کی احسان فراموشی ہے۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: «صحيح: مسند أحمد: 457/6»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّةِ، مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي جِوَارِ أَتْرَابٍ لِي، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ‏: ”إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ“، وَكُنْتُ مِنْ أَجْرَئِهِنَّ عَلَى مَسْأَلَتِهِ، فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ‏؟‏ قَالَ‏: ”لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا مِنْ أَبَوَيْهَا، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ زَوْجًا، وَيَرْزُقُهَا مِنْهُ وَلَدًا، فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَكْفُرُ فَتَقُولُ‏:‏ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ‏.‏“
سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنی ہم عمر سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کہا اور فرمایا: ”انعام و اکرام والوں کی ناشکری سے بچو۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے میں ان سب سے زیادہ جری تھی۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! منعمین کی ناشکری کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا ماں باپ کے درمیان بے شوہر رہنے کا زمانہ طویل ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کو شوہر دیتا ہے اور اس سے اولاد دیتا ہے، پھر غصہ میں آجاتی ہے تو ناشکری کرتے ہوئے کہتی ہے: میں نے تجھ میں کبھی خیر نہیں دیکھی۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: «صحيح: مسند أحمد: 452/6»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
480. بَابُ مَنْ كَرِهَ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ
مخصوص لوگوں کو سلام کہنا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1049
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ طَارِقٍ قَالَ‏:‏ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ جُلُوسًا، فَجَاءَ آذِنُهُ فَقَالَ‏:‏ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ، فَرَأَى النَّاسَ رُكُوعًا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، فَكَبَّرَ وَرَكَعَ، وَمَشَيْنَا وَفَعَلْنَا مِثْلَ مَا فَعَلَ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُسْرِعٌ فَقَالَ‏:‏ عَلَيْكُمُ السَّلاَمُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ‏:‏ صَدَقَ اللَّهُ، وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَلَمَّا صَلَّيْنَا رَجَعَ، فَوَلَجَ عَلَى أَهْلِهِ، وَجَلَسْنَا فِي مَكَانِنَا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَخْرُجَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ‏:‏ أَيُّكُمْ يَسْأَلُهُ‏؟‏ قَالَ طَارِقٌ‏:‏ أَنَا أَسْأَلُهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ‏:‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ‏:‏ تَسْلِيمُ الْخَاصَّةِ، وَفُشُوُّ التِّجَارَةِ حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ، وَقَطْعُ الأَرْحَامِ، وَفُشُوُّ الْقَلَمِ، وَظُهُورُ الشَّهَادَةِ بِالزُّورِ، وَكِتْمَانُ شَهَادَةِ الْحَقِّ‏.“
طارق بن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ اطلاع دینے والے نے آ کر کہا کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما اٹھے اور ہم بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا مسجد کے اگلے حصے میں لوگ رکوع میں تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے گئے اور ہم بھی آگے بڑھے اور ایسے ہی کیا۔ پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) ایک شخص جلدی سے گزرا اور کہا: «السلام علیکم» اے ابو عبدالرحمٰن۔ انہوں نے فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے صحیح صحیح پہنچا دیا۔ پھر ہم نماز سے فارغ ہو کر واپس آگئے اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما اپنے گھر چلے گئے۔ ہم اپنی جگہ بیٹھ کر ان کا انتظار کرنے لگے یہاں تک کہ وہ باہر آجائیں۔ ہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ کون ان سے سوال کرے گا (کہ انہوں نے سلام کا جواب دینے کے بجائے یہ کیوں کہا کہ اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسول نے پہنچا دیا)، طارق نے کہا: میں سوال کروں گا، چنانچہ انہوں نے سوال کیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے قریب سلام خاص لوگوں کو کہا جائے گا، تجارت عام ہو جائے گی حتی کہ بیوی تجارت کے معاملات میں خاوند کی معاونت کرے گی، قطع رحمی کی جائے گی، علم پھیل جائے گا، جھوٹی گواہی عام ہوگی، اور سچی گواہی کو چھپایا جائے گا۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: «صحيح: مسند أحمد: 407/1»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1050
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ أَيُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ‏؟‏ قَالَ‏: ”تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ‏.‏“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بہترین اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھانا کھلاؤ، اور ہر جان پہچان والے اور اجنبی کو سلام کہو۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: «صحيح: صحيح البخاري، الإيمان، حديث: 12»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں