الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
470. بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى الأَمِيرِ
امیر کو سلام کہنا
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا حَجَّتَهُ الأُولَى وَهُوَ خَلِيفَةٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَأَنْكَرَهَا أَهْلُ الشَّامِ وَقَالُوا: مَنْ هَذَا الْمُنَافِقُ الَّذِي يُقَصِّرُ بِتَحِيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَبَرَكَ عُثْمَانُ عَلَى رُكْبَتِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ هَؤُلاَءِ أَنْكَرُوا عَلَيَّ أَمْرًا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ حَيَّيْتُ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَمَا أَنْكَرَهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِمَنْ تَكَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ: عَلَى رِسْلِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ بَعْضُ مَا يَقُولُ، وَلَكِنَّ أَهْلَ الشَّامِ قَدْ حَدَثَتْ هَذِهِ الْفِتَنُ، قَالُوا: لاَ تُقَصَّرُ عِنْدَنَا تَحِيَّةُ خَلِيفَتِنَا، فَإِنِّي إِخَالُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ تَقُولُونَ لِعَامِلِ الصَّدَقَةِ: أَيُّهَا الأمِيرُ.
عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بننے کے بعد پہلا حج کرنے کے لیے آئے تو سیدنا عثمان بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ ان سے ملنے آئے، تو انہوں نے کہا: «السلام عليك أيها الأمير ورحمة الله» . ابلِ شام کو یہ انداز برا لگا اور انہوں نے کہا: یہ منافق کون ہے جو امیر المومنین کے سلام میں نقص پیدا کرتا ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے، پھر فرمایا: امیر المومنین! یہ لوگ مجھ سے ایسی بات پر ناراض ہو رہے جسے آپ ان سے زیادہ جانتے ہیں۔ اللہ کی قسم میں نے سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کو اسی طرح سلام کہا تو کسی نے ان میں سے اسے ناپسند نہیں کیا۔ اہلِ شام میں سے جس نے یہ بات کی تھی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ٹھہر جاؤ۔ انہوں نے وہی بات کی ہے جو وہ کہتے تھے۔ لیکن شام والوں کو جب یہ فتنہ پیش آیا تو کہنے لگے کہ ہمارے پاس ہمارے خلیفہ کے سلام میں کوتاہی نہ کی جائے۔ اے اہلِ مدینہ! میرا خیال ہے کہ تم صدقہ وصول کرنے والے عامل کو أیها الأمير کہتے ہو (اس لیے انہوں نے برا محسوس کیا ہے۔) [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1024]
تخریج الحدیث: «صحيح: المصنف لعبدالرزاق: 390/15، ح: 19454»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ فَمَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حجاج کے پاس آیا تو میں نے اسے سلام نہیں کہا۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1025]
تخریج الحدیث: «صحيح: المستدرك للحاكم: 653/3»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ حَذْلَمٍ قَالَ: إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ مَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ بِالإِمْرَةِ بِالْكُوفَةِ، خَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ بَابِ الرَّحَبَةِ، فَفَجَأَهُ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، زَعَمُوا أَنَّهُ: أَبُو قُرَّةَ الْكِنْدِيُّ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللهِ، السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَكَرِهَهُ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا الأَمِيرُ وَرَحْمَةُ اللهِ، السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، هَلْ أَنَا إِلاَّ مِنْهُمْ، أَمْ لاَ؟ قَالَ سِمَاكٌ: ثُمَّ أَقَرَّ بِهَا بَعْدُ.
تمیم بن حذلم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے کس کو امیر کے لقب سے سلام کہا گیا۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ رحبہ کے دروازے سے نکلے تو ایک شخص کندہ سے آیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ابو قرہ کندی تھا۔ اس نے سلام کہا اور یہ الفاظ بولے: «السلام عليك أيها الأمير ورحمة الله، السلام علیکم» ! سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے یہ انداز ناپسند کیا اور فرمایا: «السلام عليكم أيها الأمير، السلام علیکم» ! (یہ کیا انداز ہوا) کیا میں ان لوگوں میں شامل ہوں کے نہیں (پھر مجھے الگ سلام کی کیا ضرورت؟) سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں: بعد ازاں سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس کو مان لیا۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث: «صحيح: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1027
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ عُبَيْدٍ، بَطْنٌ مِنْ حِمْيَرٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رُوَيْفِعٍ، وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى أَنْطَابُلُسَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الأَمِيرُ، فَقَالَ لَهُ رُوَيْفِعٌ: لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْنَا لَرَدَدْنَا عَلَيْكَ السَّلاَمَ، وَلَكِنْ إِنَّمَا سَلَّمْتَ عَلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ، وَكَانَ مَسْلَمَةُ عَلَى مِصْرَ، اذْهَبْ إِلَيْهِ فَلْيَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلاَمَ.
زیاد بن عبید حمیری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا رویفع بن سکن انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ وہ انطابلس کے امیر تھے، ہم وہاں موجود تھے کہ ایک آدمی آیا اور سلام کہتے ہوئے یہ الفاظ بولے: «السلام عليك أيها الأمير» ! تو سیدنا رویفع رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اگر تم ہمیں سلام کہتے تو ہم تیرے سلام کا جواب دیتے، لیکن تم نے تو مسلمہ بن مخلد پر سلام کیا ہے (سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ ان دنوں مصر کے گورنر تھے)۔ ان کے پاس جاؤ وہی تیرے سلام کا جواب دیں گے۔ زیاد کہتے ہیں کہ جب وہ کسی مجلس میں ہوتے اور ہم آ کر سلام کرتے تو یوں کہتے: «السلام علیکم» ۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1027]
تخریج الحدیث: «ضعيف الإسناد موقوفًا: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوفًا
471. بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى النَّائِمِ
سوئے ہوئے کو سلام کہنا
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ نَائِمًا، وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ.
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے تو اس طرح سلام کہتے کہ سونے والا نہ جاگتا اور جاگنے والا سن لیتا۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1028]
تخریج الحدیث: «صحيح: صحيح مسلم، الأشربة، حديث: 2055»
قال الشيخ الألباني: صحيح
472. بَابُ حَيَّاكَ اللَّهُ
حَيَّاكَ اللَّهُ کہنا
حدیث نمبر: 1029
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ: حَيَّاكَ اللَّهُ مِنْ مَعْرِفَةٍ.
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو پہچان کر فرمایا: «حَيَّاكَ اللَّهُ» ”اللہ تجھے زندہ رکھے۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1029]
تخریج الحدیث: «ضعيف: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
473. بَابُ مَرْحَبًا
مرحبا کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1030
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مَشْيُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ”مَرْحَبًا بِابْنَتِي“، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو ان کی چال ایسی تھی جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چال ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری بیٹی کو خوش آمدید۔“ پھر انہیں اپنے دائیں یا بائیں بٹھا لیا۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1030]
تخریج الحدیث: «صحيح: صحيح البخاري، المناقب، حديث: 3624»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1031
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَفَ صَوْتَهُ، فَقَالَ: ”مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ.“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان کر فرمایا: ”اچھے اور عمدہ شخص کو خوش آمدید۔“ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1031]
تخریج الحدیث: «صحيح: جامع الترمذي، المناقب، حديث: 3798»
قال الشيخ الألباني: صحيح
474. بَابُ كَيْفَ رَدُّ السَّلامِ؟
سلام کا جواب کیسے دیا جائے
حدیث نمبر: 1032
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ أَجْلَفِ النَّاسِ وَأَشَدِّهِمْ فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا: ”وَعَلَيْكُمُ.“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک درخت کے سائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک بداخلاق اور سخت مزاج بدوی آیا تو اس نے کہا: «السلام علیکم» ! انہوں نے کہا: ”وعلیکم“۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث: «صحيح: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1033
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ يَقُولُ: وَعَلَيْكَ، وَرَحْمَةُ اللهِ.
ابو جمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جب انہیں سلام کہا جاتا تو جواب دیتے: «وعلیک ورحمۃ الله» ۔ [الادب المفرد/كتاب السلام/حدیث: 1033]
تخریج الحدیث: «صحيح: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: صحيح