🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
512. بَابُ إِذَا كَتَبَ الذِّمِّيُّ فَسَلَّمَ، يُرَدُّ عَلَيْهِ
جب ذمی خط میں سلام لکھے تو اس کا جواب دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ‏:‏ كَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى رُهْبَانٍ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ، فَقِيلَ لَهُ‏:‏ أَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ كَافِرٌ‏؟‏ قَالَ‏:‏ إِنَّهُ كَتَبَ إِلَيَّ فَسَلَّمَ عَلَيَّ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ‏.‏
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک غیر مسلم چوہدری (یا راہب) کو خط لکھا تو اسے سلام بھی لکھا۔ ان سے کہا گیا: آپ اس کو سلام کرتے ہیں حالانکہ وہ کافر ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس نے مجھے اپنے خط میں سلام لکھا تھا؟ میں نے اس کا جواب دیا۔ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1101]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسدد فى مسنده كما فى المطالب العالية: 2653 و اتحاف الخيرة المهرة: 5292 - أنظر الصحيحة: 704»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
513. بَابُ لا يَبْدَأُ أَهْلَ الذِّمَّةِ بِالسَّلامِ
ذمیوں کو سلام میں پہل نہ کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1102
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودَ، فَلاَ تَبْدَأُوهُمْ بِالسَّلاَمِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا‏:‏ وَعَلَيْكُمْ‏.“‏
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کل صبح یہودیوں کی طرف جارہا ہوں، لہٰذا انہیں سلام میں پہل نہ کرنا، اور اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو جواب میں «وعلیکم» کہنا۔“
ایک دوسرے طریق سے سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے، مگر اس میں ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1102]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 25764 و أحمد: 27235 و النسائي فى الكبرىٰ: 10148 و ابن ماجه: 3699 من حديث أبى عبدالرحمٰن الجهني»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1103
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”أَهْلُ الْكِتَابِ لاَ تَبْدَأُوهُمْ بِالسَّلاَمِ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ کتاب کو سلام میں (کسی صورت بھی) پہل نہ کرو، اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔“ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1103]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، كتاب السلام: 2167 و أبوداؤد: 5205 و الترمذي: 1602»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
514. بَابُ مَنْ سَلَّمَ عَلَى الذِّمِّيِّ إِشَارَةً
ذمی کو اشارے سے سلام کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1104
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ‏:‏ إِنَّمَا سَلَّمَ عَبْدُ اللهِ عَلَى الدَّهَاقِينَ إِشَارَةً‏.‏
علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ذمی چوہدریوں کو اشارے سے سلام کیا۔ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1104]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 25866 - أنظر الصحيحة: 704»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1105
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ مَرَّ يَهُودِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَرَدَّ أَصْحَابُهُ السَّلاَمَ، فَقَالَ‏:‏ ”قَالَ‏:‏ السَّامُ عَلَيْكُمْ“، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، قَالَ‏:‏ ”رُدُّوا عَلَيْهِ مَا قَالَ‏.‏“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: «السام علیکم» (تمہیں موت آئے)، صحابہ کرام نے سلام کا جواب دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے تو «السام علیکم» کہا ہے۔“ یہودی کو پکڑا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی اس کے جواب میں ایسے ہی کہو۔“ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1105]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه الترمذي، كتاب تفسير القرآن: 3301 و مسلم: 2163 و أبوداؤد: 5207 و النسائي فى الكبرىٰ: 10147 و ابن ماجه: 3697 مختصرًا»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
515. بَابُ‏:‏ كَيْفَ الرَّدُّ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ‏؟‏
ذمیوں کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1106
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ، فَإِنَّمَا يَقُولُ‏:‏ السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُولُوا‏:‏ وَعَلَيْكَ‏.‏“
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہودیوں میں سے کوئی تمہیں سلام کہتا ہے تو وہ کہتا ہے: «السام علیک» (تمہیں موت آئے)، تم بھی جواب میں «وعلیک» (تجھے موت پڑے) کہا کرو۔“ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1106]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الاستئذان: 6257 و مسلم: 2164 و أبوداؤد: 5206 و الترمذي: 1603 و النسائي فى الكبرىٰ: 10138»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ رُدُّوا السَّلاَمَ عَلَى مَنْ كَانَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا، أَوْ مَجُوسِيًّا، ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ‏:‏ ﴿‏وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ ‏ [النساء: 86] .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہودی، عیسائی اور مجوسی ہر ایک کو سلام کا جواب دو کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”جب تمہیں تحفہ سلام پیش کیا جائے تو اس کا اچھے اور بہتر طریقے سے جواب دو یا اتنا ہی لوٹا دو۔“ [سورہ النساء: 86] [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه ابن أبى شيبة: 25765 و ابن أبى الدنيا فى الصمت: 307 و ابن أبى حاتم فى تفسيره: 5729 و أبويعلي: 1527 - أنظر الصحيحة: 329/2»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
516. بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْلِمُ وَالْمُشْرِكُ
مسلمانوں اور مشرکوں کی ملی جلی مجلس کو سلام کہنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1108
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ، يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولٍ - وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللهِ - فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلاَطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ وَعَبْدَةِ الأَوْثَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ‏.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس کے کجاوے پر فدک کی بنی ہوئی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا، یہ اس اللہ کے دشمن کے اظہارِ اسلام سے پہلے کا واقعہ ہے، مجلس میں مسلمان، مشرک اور بت پرست ملے جلے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہا۔ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1108]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب: 6207 و مسلم: 1798 و النسائي فى الكبرىٰ: 7460»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
517. بَابُ‏:‏ كَيْفَ يَكْتُبُ إِلَى أَهْلِ الْكِتَابِ‏؟‏
اہلِ کتاب کی طرف خط کس طرح لکھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1109
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ‏:‏ أَرْسَلَ إِلَيْهِ هِرَقْلُ مَلِكُ الرُّومِ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أُرْسِلَ بِهِ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ هِرَقْلُ فَقَرَأَهُ، فَإِذَا فِيهِ‏:‏ ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلاَّمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ وَ ﴿‏يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ‏﴾ إِلَى قَوْلِهِ‏: ﴿‏اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 64] .“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ روم کے بادشاہ ہرقل نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا جو اس کی طرف بھیجا گیا تھا۔ یہ خط آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو بصری کے حاکم کو دینے کا حکم دیا، تو اس نے اسے ہرقل کو پہنچایا، اس نے اسے پڑھا، اس میں تھا: «بسم الله الرحمن الرحیم» ...... اللہ کے بندے اور رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کی طرف، سلام ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ بلاشبہ میں تم کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں۔ اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گے، اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا دوہرا اجر عطا فرمائے گا، اور اگر تم نے انکار کیا تو رعایا کا گناه بھی تم پر ہوگا۔ اور اے اہلِ کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے ...... تم اس کے گواہ رہو گے کہ ہم مسلمان ہیں۔ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1109]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب بدء الوحي: 7 و مسلم: 1773»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
518. بَابُ إِذَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابِ‏:‏ السَّامُ عَلَيْكُمْ
جب کافر السام علیکم کہے تو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1110
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ‏:‏ سَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا‏:‏ السَّامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ‏:‏ ”وَعَلَيْكُمْ“، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ‏:‏ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، نُجَابُ عَلَيْهِمْ، وَلا يُجَابُونَ فِينَا‏.‏“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو کہا: «السام علیکم» ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وعلیکم» ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بہت غصہ آیا تو انہوں نے کہا: (اللہ کے رسول!) آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، میں نے سنا ہے اور وہ الفاظ انہی پر لوٹا دیے ہیں۔ ہماری دعا ان کے خلاف قبول ہوتی ہے، اور ان کی ہمارے خلاف کی گئی دعا قبول نہیں ہوتی۔“ [الادب المفرد/كتاب أهل الكتاب/حدیث: 1110]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، كتاب السلام: 2166»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»