سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب اجْتِنَابِ أَهْلِ الأَهْوَاءِ وَالْبِدَعِ وَالْخُصُومَةِ:
اہل ہوس بدعتی اور متکلمین سے بچنے کا بیان
حدیث نمبر: 411
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ عَلَى ابْنِ سِيرِينَ، فَقَالَا: يَا أَبَا بَكْرٍ، نُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ؟، قَالَ: لَا، قَالَا: فَنَقْرَأُ عَلَيْكَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ؟، قَالَ: لَا، لِتَقُومَانِ عَنِّي أَوْ لَأَقُومَنَّ، قَالَ: فَخَرَجَا، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا أَبَا بَكْرٍ، وَمَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ يَقْرَآ عَلَيْكَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تعَالَى قَالَ: "إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْرَآ عَلَيَّ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَيُحَرِّفَانِهَا، فَيَقِرُّ ذَلِكَ فِي قَلْبِي".
اسماء بن عبید نے کہا کہ اہل ہوس (متکلمین و فلاسفہ) میں سے دو آدمی امام ابن سیرین رحمہ اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے ابوبکر! ہم آپ کے لئے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نہیں (اس کی ضرورت نہیں)، انہوں نے کہا: پھر ہم آپ کو قرآن پاک کی کوئی آیت سناتے ہیں، فرمایا: نہیں، یا تم میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ یا میں خود چلا جاؤں گا۔ راوی نے کہا: لہٰذا وہ دونوں نکل گئے، اہل مجلس میں سے کسی نے کہا: اے ابوبکر! کیا برائی تھی اگر وہ قرآن پاک کی کوئی آیت سنا دیتے؟ فرمایا: مجھے ڈر تھا کہ وہ کوئی آیت سنائیں اور اس میں تحریف کر دیں اور وہ میرے دل میں بیٹھ جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 411] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة 398] ، [شرح أصول 242] ، [الشريعة ص: 64] و [البدع 150]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة 398] ، [شرح أصول 242] ، [الشريعة ص: 64] و [البدع 150]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 412
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، قَالَ لِأَيُّوبَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَسْأَلُكَ عَنْ كَلِمَةٍ؟، قَالَ: "فَوَلَّى وَهُوَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ وَلَا نِصْفَ كَلِمَةٍ"، وَأَشَارَ لَنَا سَعِيدٌ بِخِنْصِرِهِ الْيُمْنَى.
سلام بن ابی مطیع سے مروی ہے کہ «أهل الأهواء» (بدعتیوں) میں سے ایک آدمی نے ایوب (السختیانی رحمہ اللہ) سے کہا: اے ابوبکر! میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں، راوی نے کہا: ایوب رحمہ اللہ نے پیٹھ پھیر لی اور انگلی سے اشارہ کیا کہ آدھی بات بھی نہیں۔ سعید بن عامر نے سیدھے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 412] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة 402] ، [شرح أصول اعتقاد أهل السنة 291] ، [الحلية 9/3]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة 402] ، [شرح أصول اعتقاد أهل السنة 291] ، [الحلية 9/3]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 413
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: "أَزِيشَانْ".
کلثوم بن جبر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا، جب ان سے اس (اعراض) کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا: یہ انہیں میں سے ہے (یعنی بدعتی ہے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 413] »
اس قول کی سند صحیح ہے، «وانفرد به الدارمي» ۔
اس قول کی سند صحیح ہے، «وانفرد به الدارمي» ۔
وضاحت: (تشریح احادیث 409 سے 413)
«أَزِيشَان» : یہ کلمہ فارسی زبان کا ہے جس کے معنی ہیں: انہیں (یعنی بدعتیوں) میں سے ہے۔
«أَزِيشَان» : یہ کلمہ فارسی زبان کا ہے جس کے معنی ہیں: انہیں (یعنی بدعتیوں) میں سے ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 414
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: "لَا تُجَالِسُوا أَصْحَابَ الْخُصُومَاتِ، فَإِنَّهُمْ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ".
ابوجعفر محمد بن علی سے مروی ہے، انہوں نے کہا: اہل کلام (منطق و فلسفہ والے) کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو الله تعالیٰ کی آیات میں کلام کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الليث هو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 414] »
اس روایت میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [الإبانة 383، 405، 543، 808]
اس روایت میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [الإبانة 383، 405، 543، 808]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف الليث هو: ابن أبي سليم
حدیث نمبر: 415
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ، أنهما قَالَا: "لَا تُجَالِسُوا أَصْحَابَ الْأَهْوَاءِ، وَلَا تُجَادِلُوهُمْ، وَلَا تَسْمَعُوا مِنْهُمْ".
امام حسن اور امام محمد بن سیرین رحمہم اللہ نے فرمایا: اہل کلام کے ساتھ نہ بیٹھو، نہ ان سے بحث مباحثہ کرو، اور نہ ان سے سماع کرو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 415]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 415] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة 395، 458] ، [جامع بيان العلم 1803] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 240]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانة 395، 458] ، [جامع بيان العلم 1803] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 240]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 416
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أُمَيٍّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِنَّمَا سُمُّوا أَصْحَابَ الْأَهْوَاءِ، لِأَنَّهُمْ يَهْوُونَ فِي النَّارِ".
امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہویٰ و ہوس اور نفس کے بندے یہ اس لئے نام زد کئے گئے کیونکہ یہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 416]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل شريك، [مكتبه الشامله نمبر: 416] »
اس قول کی سند حسن ہے، احمد سے مراد: احمد بن عبدالله بن یونس، اور امی: ابن ربیعہ ہیں، اس روایت کو لالکائی نے [شرح اصول اعتقاد أهل السنة 229] میں ذکر کیا ہے، نیز اس معنی کی روایت (409) میں گذر چکی ہے۔
اس قول کی سند حسن ہے، احمد سے مراد: احمد بن عبدالله بن یونس، اور امی: ابن ربیعہ ہیں، اس روایت کو لالکائی نے [شرح اصول اعتقاد أهل السنة 229] میں ذکر کیا ہے، نیز اس معنی کی روایت (409) میں گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 413 سے 416)
«الأهواء: هَوَي» کی جمع ہے اور «هَوَيٰ يَهْوِي» کے معنی نیچے گرنا، پس اصحاب الاہواء خواہشِ نفس کے سامنے گر جاتے ہیں اور اسی طرح جہنم میں گر جائیں گے، جیسا کہ مثل مشہور ہے: «الجزاء من جنس العمل» (جیسی کرنی ویسی بھرنی)۔
ان تمام آثار سے یہ ثابت ہوا کہ اہلِ بدعت، فلسفی، نفس پرست، خواہشات کے اسیر لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا چاہیے اور نہ ان کی بات سننی چاہیے۔
«الأهواء: هَوَي» کی جمع ہے اور «هَوَيٰ يَهْوِي» کے معنی نیچے گرنا، پس اصحاب الاہواء خواہشِ نفس کے سامنے گر جاتے ہیں اور اسی طرح جہنم میں گر جائیں گے، جیسا کہ مثل مشہور ہے: «الجزاء من جنس العمل» (جیسی کرنی ویسی بھرنی)۔
ان تمام آثار سے یہ ثابت ہوا کہ اہلِ بدعت، فلسفی، نفس پرست، خواہشات کے اسیر لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا چاہیے اور نہ ان کی بات سننی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن من أجل شريك
36. باب التَّسْوِيَةِ في الْعِلْمِ:
علم میں مساوات و برابری کا بیان
حدیث نمبر: 417
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: "مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ الشَّرِيفُ وَالْوَضِيعُ عِنْدَهُ سَوَاءٌ غَيْرَ طَاوُسٍ وَهُوَ يَحْلِفُ عَلَيْهِ".
ابراہیم بن میسرہ نے کہا: میں نے لوگوں میں سے کسی کو امام طاؤوس رحمہ اللہ کے علاوہ ایسا نہیں دیکھا جس کے نزدیک شریف و کمین برابر ہوں۔ (ابراہیم) ابن میسرہ اس پر قسم کھاتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 417]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 417] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 16/4]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 16/4]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 418
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "كُنَّا نَكْرَهُ كِتَابَةَ الْعِلْمِ حَتَّى أَكْرَهَنَا عَلَيْهِ السُّلْطَانُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَمْنَعَهُ أَحَدًا".
امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم علم کو لکھانا ناپسند کرتے تھے، لیکن سلطان نے ہمیں اس پر مجبور کر دیا، اور اب ہم کتابت علم سے کسی کو روکنا ناپسند کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 418]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 418] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 439، 1096] ، [مصنف عبدالرزاق 20486] ، [تقييد العلم للخطيب ص: 107] ، [المعرفة والتاريخ للفسوي633/1]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 439، 1096] ، [مصنف عبدالرزاق 20486] ، [تقييد العلم للخطيب ص: 107] ، [المعرفة والتاريخ للفسوي633/1]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 419
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَلَّمُوا مُحَمَّدًا فِي رَجُلٍ يَعْنِي: يُحَدِّثُهُ فَقَالَ: "لَوْ كَانَ رَجُلًا مِنْ الزِّنْجِ، لَكَانَ عِنْدِي، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا سَوَاءً".
عبداللہ بن عون رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں عرض کیا کہ وہ (خصوصیت کے ساتھ) اس کو حدیث کا درس دیں، تو انہوں نے فرمایا: اگر وہ آدمی حبشی ہو تب بھی وہ اور (میرا بیٹا) عبدالله بن محمد اس سلسلے میں برابر ہیں۔ (یعنی قدر و منزلت میں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 419]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 419] »
اس قول کی سند صحیح ہے، لیکن امام دارمی کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس قول کی سند صحیح ہے، لیکن امام دارمی کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 420
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ رَاشِدٍ، أَنَّه سَأَلَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ طَاوُسًا عَنْ مَسْأَلَةٍ فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: "ذَلِكَ أَهْوَنُ لَهُ عَلَيَّ".
صلت بن راشد نے کہا: سلم بن قتیبہ نے کسی مسئلہ میں امام طاؤوس رحمہ اللہ سے سوال کیا، جس کا انہوں نے جواب نہیں دیا، عرض کیا گیا: یہ سلم بن قتیبہ ہیں، فرمایا: یہ اور بھی میرے اوپر آسان ہے۔ یعنی بڑے چھوٹے علم کے سلسلے میں سب برابر ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 420]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 420] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کسی اور مرجع و مصدر میں نہیں مل سکی۔ اس میں سلم بن قتیبہ الباہلی کا ذکر ہے جو امیر بصرہ تھے، جنہیں خلیفہ المنصور نے معزول کر دیا تھا، اور وہ بڑے رعب و دبدبہ کے مالک تھے۔ دیکھئے: [الكامل لابن اثير 106/4]
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کسی اور مرجع و مصدر میں نہیں مل سکی۔ اس میں سلم بن قتیبہ الباہلی کا ذکر ہے جو امیر بصرہ تھے، جنہیں خلیفہ المنصور نے معزول کر دیا تھا، اور وہ بڑے رعب و دبدبہ کے مالک تھے۔ دیکھئے: [الكامل لابن اثير 106/4]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح