سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب التَّوْبِيخِ لِمَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ:
بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
حدیث نمبر: 391
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: "لَا تُطْعِمْ طَعَامَكَ مَنْ لَا يَشْتَهِيهِ".
مطرف نے کہا: اپنا کھانا ایسے آدمی کو نہ کھلاؤ جس کو اس کی اشتہاء نہ ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 391]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 392] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 843] ، [الجامع لأخلاق الراوي 738]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 843] ، [الجامع لأخلاق الراوي 738]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 392
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ: قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ:"يَا بُنَيَّ، لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ، وَلَا تَتْرُكْ الْعِلْمَ زَهَادَةً فِيهِ، وَرَغْبَةً فِي الْجَهَالَةِ، وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ، فَاجْلِسْ مَعَهُمْ، إِنْ تَكُنْ عَالِمًا يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ، وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا عَلَّمُوكَ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِرَحْمَتِهِ فَيُصِيبَكَ بِهَا مَعَهُمْ، وَإِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَلَا تَجْلِسْ مَعَهُمْ، إِنْ تَكُنْ عَالِمًا لَمْ يَنْفَعْكَ عِلْمُكَ، وَإِنْ تَكُنْ جَاهِلًا زَادُوكَ غَيًّا أَوْ عِيًّا وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ بِسَخَطٍ فَيُصِيبَكَ بِهِ مَعَهُمْ".
داؤد بن سابور نے شہر بن حوشب کو کہتے سنا: لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے! علم اس لئے نہ سیکھو کہ اس کے ذریعہ ریاکاری کرو، علم سے بےرغبتی اور جہالت میں رغبت کرتے ہوئے علم کو نہ چھوڑو، اور جب تم کسی جماعت کو دیکھو جو الله کو یاد کرتی ہے تو ان کے ساتھ بیٹھو، اگر تم علم والے ہو گے تو تمہارا علم تمہیں فائدہ دے گا، اور اگر جاہل ہو گے تو وہ تمہیں آگاہ کریں گے، اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کی نظر ڈالے اور ان کے ساتھ تمہیں بھی اس سے کچھ حصہ نصیب ہو جائے۔ اور اگر تم ایسی جماعت کو دیکھو جو اللہ کے ذکر سے غافل ہیں تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو، کیونکہ تمہارے پاس علم ہو تو بھی تمہارا علم فائدہ نہ دے گا، اور اگر جاہل ہو تو وہ تمہاری گمراہی یا بیچارگی میں اضافہ ہی کریں گے، اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر ناراض ہو تو تم بھی اس ناراضگی میں شامل ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 392]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى شهر بن حوشب ولكنه معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 393] »
شہر بن حوشب تک اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن موقوف بلکہ معضل ہے۔ دیکھئے: [الزهد لابن المبارك 952] ، [حلية الأولياء 62/6] ، [جامع بيان العلم 679] ، نیز دیکھئے: الرقم (388)۔
شہر بن حوشب تک اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن موقوف بلکہ معضل ہے۔ دیکھئے: [الزهد لابن المبارك 952] ، [حلية الأولياء 62/6] ، [جامع بيان العلم 679] ، نیز دیکھئے: الرقم (388)۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى شهر بن حوشب ولكنه معضل
حدیث نمبر: 393
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:"يَا حَمَلَةَ الْعِلْمِ، اعْمَلُوا بِهِ، فَإِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَوَافَقَ عِلْمُهُ عَمَلَهُ، وَسَيَكُونُ أَقْوَامٌ يَحْمِلُونَ الْعِلْمَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يُخَالِفُ عَمَلُهُمْ عِلْمَهُمْ، وَتُخَالِفُ سَرِيرَتُهُمْ عَلَانِيَتَهُمْ، يَجْلِسُونَ حِلَقًا فَيُبَاهِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَغْضَبُ عَلَى جَلِيسِهِ أَنْ يَجْلِسَ إِلَى غَيْرِهِ وَيَدَعَهُ، أُولَئِكَ لَا تَصْعَدُ أَعْمَالُهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ تِلْكَ إِلَى اللَّهِ تعَالَيَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے علم کے حاصل کرنے والو! اس پر عمل کرو، بیشک عالم وہی ہے جس نے اپنے علم کے مطابق عمل کیا، اور اس کے علم و عمل میں موافقت ہو، عنقریب ایسے لوگ (پیدا) ہوں گے جو علم کے حامل ہوں گے لیکن وہ علم ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، ان کا عمل ان کے علم کے خلاف ہو گا اور ان کا اندرونی معاملہ ظاہر کے خلاف ہوتا ہے، حلقوں میں بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں یہاں تک کہ آدمی اپنے ہم نشین سے بھی اگر وہ اس کو چھوڑ کر کسی اور کے پاس بیٹھے تو ناراض ہو جاتا ہے، یہ لوگ ایسے ہیں جن کے اعمال ان کی مجالس سے اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھ کر جاتے ہی نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 393]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «بشر بن سلم منكر الحديث وثوير بن أبي فاخته ضعيف ويحيى بن جعدة ما عرفنا له رواية عن علي فيما نعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 394] »
اس روایت میں بشر بن سلمہ منکر الحدیث ہیں، ثویر بن فاختہ ضعف، یحییٰ بن جعدہ غیر معروف ہیں، لہٰذا یہ اثر ضعیف ہے، گرچہ [اقتضاء العلم 9] و [الجامع لأخلاق الراوي 321] میں یہ اثر موجود ہے۔
اس روایت میں بشر بن سلمہ منکر الحدیث ہیں، ثویر بن فاختہ ضعف، یحییٰ بن جعدہ غیر معروف ہیں، لہٰذا یہ اثر ضعیف ہے، گرچہ [اقتضاء العلم 9] و [الجامع لأخلاق الراوي 321] میں یہ اثر موجود ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: بشر بن سلم منكر الحديث وثوير بن أبي فاخته ضعيف ويحيى بن جعدة ما عرفنا له رواية عن علي فيما نعلم
حدیث نمبر: 394
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: "كَفَى بِالْمَرْءِ عِلْمًا أَنْ يَخْشَى اللَّهَ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَنْ يُعْجَبَ بِعِلْمِهِ".
مسروق رحمہ اللہ نے کہا: آدمی کے علم کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور آدمی کی جہالت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے علم پر گھمنڈ کرے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 394]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 395] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے اثر نمبر (322)۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے اثر نمبر (322)۔
وضاحت: (تشریح احادیث 383 سے 394)
یعنی آدمی عالم ہو کر اللہ سے ڈرتا ہے اور جاہل اپنے علم پر گھمنڈ کرتا ہے۔
یعنی آدمی عالم ہو کر اللہ سے ڈرتا ہے اور جاہل اپنے علم پر گھمنڈ کرتا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 395
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُجَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: "لَوْ أَنَّ أَدْنَى هَذِهِ الْأُمَّةِ عِلْمًا أَخَذَتْ أُمَّةٌ مِنْ الْأُمَمِ بِعِلْمِهِ، لَرَشَدَتْ تِلْكَ الْأُمَّةُ".
معاویہ بن قرة رحمہ اللہ نے فرمایا: دیگر امم میں سے کوئی بھی امت اگر اس امت کے ادنیٰ عالم کی پیروی کرے تو وہ امت ہدایت یافتہ ہو جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 395]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 396] »
اس قول کی سند حسن ہے مگر کسی مرجع میں نہیں مل سکی۔
اس قول کی سند حسن ہے مگر کسی مرجع میں نہیں مل سکی۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 396
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُصِيبُ الْبَابَ مِنْ الْعِلْمِ فَيَعْمَلُ بِهِ، فَيَكُونُ خَيْرًا لَهُ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، لَوْ كَانَتْ لَهُ فَجَعَلَهَا فِي الْآخِرَةِ"..
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر آدمی کو علم کا باب حاصل ہو اور وہ اس پر عمل کرے تو یہ اس کے لئے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اگر دنیا اس کے پاس ہو تو اسے آخرت کے لئے رکھ چھوڑے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 396]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «ثلاثة أحاديث بإسناد واحد وهو إسناد صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 397] »
اس قول کی تخریج آگے آرہی ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 17050] ، [جامع بيان العلم 273، 315]
اس قول کی تخریج آگے آرہی ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 17050] ، [جامع بيان العلم 273، 315]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: ثلاثة أحاديث بإسناد واحد وهو إسناد صحيح
حدیث نمبر: 397
قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ:"كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَبَ الْعِلْمَ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ يُرَى ذَلِكَ فِي بَصَرِهِ، وَتَخَشُّعِهِ، وَلِسَانِهِ، وَيَدِهِ، وَصِلاتِهِ، وَزُهْدِهِ"..
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: (اسلاف میں سے) جب آدمی علم طلب کرتا تھا تو اس کی آنکھ، خشوع، زبان، ہاتھ، نماز اور زہد میں اس کا اثر دیکھا جاتا تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 397]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 398] »
دیکھئے: [الزهد لابن المبارك 79] ، [جامع بيان العلم 315] و [الزهد لأحمد ص: 261]
دیکھئے: [الزهد لابن المبارك 79] ، [جامع بيان العلم 315] و [الزهد لأحمد ص: 261]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
حدیث نمبر: 398
قَالَ: وقَالَ مُحَمَّدٌ:"انْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَإِنَّمَا هُوَ دِينُكُمْ"..
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث کس سے لیتے ہو دیکھ لو، اس لئے کہ یہی تمہارا دین ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 398]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 399] »
یہ تینوں اثر ایک سند سے صحیح اور امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے اقوال ہیں۔ امام مسلم نے مقدمہ صحیح مسلم میں باب باندھا ہے «باب بيان أن الاسناد من الدين» ، نیز خطیب نے اس اثر کو [الفقيه 96/2] ابونعیم نے [الحلية 278/2] اور الخطيب نے [الكفاية ص: 121] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [العلل المتناهية 188] ، [كشف الخفاء 796] وغيرها۔
یہ تینوں اثر ایک سند سے صحیح اور امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے اقوال ہیں۔ امام مسلم نے مقدمہ صحیح مسلم میں باب باندھا ہے «باب بيان أن الاسناد من الدين» ، نیز خطیب نے اس اثر کو [الفقيه 96/2] ابونعیم نے [الحلية 278/2] اور الخطيب نے [الكفاية ص: 121] میں ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [العلل المتناهية 188] ، [كشف الخفاء 796] وغيرها۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
حدیث نمبر: 399
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: "مَا ازْدَادَ عَبْدٌ عِلْمًا، فَازْدَادَ فِي الدُّنْيَا رَغْبَةً، إِلَّا ازْدَادَ مِنْ اللَّهِ بُعْدًا".
بشر بن حکم نے خبر دی کہ میں نے سفیان رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: جس بندے نے علم میں اضافے کے ساتھ دنیا میں رغبت زیادہ کی اس نے الله تعالیٰ سے دوری میں اضافہ کیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 399]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 400] »
اس روایت کی سند صحیح ہے لیکن کہیں مل نہ سکی۔
اس روایت کی سند صحیح ہے لیکن کہیں مل نہ سکی۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 400
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ، قَالَ: "مَا ازْدَادَ عَبْدٌ بِاللَّهِ عِلْمًا، إِلَّا ازْدَادَ النَّاسُ مِنْهُ قُرْبًا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ"..
حسان نے کہا: جس بندے نے علم الٰہی میں جتنی پیش قدمی کی، اللہ کی رحمت سے لوگ اس سے اتنے ہی زیادہ قریب ہوں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 400]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 401] »
ابوالمغيرة کا نام عبدالقدوس بن الحجاج ہے، اور اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 74/6] و [جامع بيان العلم 1508]
ابوالمغيرة کا نام عبدالقدوس بن الحجاج ہے، اور اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 74/6] و [جامع بيان العلم 1508]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح