🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب الْحَدِيثِ عَنِ الثِّقَاتِ:
صرف ثقہ راویوں سے حدیث روایت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: "مَا حَدَّثْتَنِي، فَلَا تُحَدِّثْنِي عَنْ رَجُلَيْنِ، فَإِنَّهُمَا لَا يُبَالِيَانِ عَمَّنْ أَخَذَا حَدِيثَهُمَا"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد عَبْدُ اللَّهِ: لَا أَظُنُّهُ سَمِعَهُ.
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: جو حدیث تم نے مجھ سے بیان کی، اب ان دو آدمیوں کے طریق سے بیان نہ کرنا کیونکہ یہ دونوں اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ حدیث کس سے لے رہے ہیں۔ امام دارمی نے فرمایا: مجھے یقین نہیں کہ جریر نے عاصم سے یہ سنا ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 431]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 431] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: تخریج مذکورہ بالا (430)۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: "إِذَا حَدَّثْتَنِي، فَحَدِّثْنِي، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي بِحَدِيثٍ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسَنَةٍ فَمَا خَرَمَ مِنْهُ حَرْفًا".
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم مجھ سے حدیث بیان کرو تو ابوزرعۃ رحمہ اللہ کے طریق سے بیان کرو، اس لئے کہ انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی، پھر میں نے ایک سال کے بعد ان سے اسی حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس میں ایک حرف کی بھی کمی نہیں کی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 432] »
اس روایت کی سند محمد بن حمید کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [سنن الترمذي 51/5]
وضاحت: (تشریح احادیث 429 سے 432)
یعنی من وعن ویسی ہی بیان کر دی، اس سے ابوزرعہ رحمہ اللہ کے حفظ و اتقان کا پتہ چلتا ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف من أجل محمد بن حميد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 433
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: "إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَلْيَنْظُرْ الرَّجُلُ عَمَّنْ يَأْخُذُ دِينَهُ".
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ علم (حدیث) دین ہے، آدمی کو خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنا دین کیسے آدمی سے لے رہا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 433]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 433] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور تخریج اثر رقم (398) میں گذرچکی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 434
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "كَانُوا إِذَا أَتَوْا الرَّجُلَ لِيَأْخُذُوا عَنْهُ، نَظَرُوا إِلَى صَلَاتِهِ، وَإِلَى سَمْتِهِ، وَإِلَى هَيْئَتِهِ".
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: (سلف صالحین) جب کسی کے پاس علم حدیث لینے جاتے تو اس کی نماز، طور طریقہ اور ہیئت کو غور سے دیکھتے تھے۔ پھر اس سے حدیث لیتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 434]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 434] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 225/4] و [الجامع لأخلاق الراوي 136]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "كَانُوا إِذَا أَتَوْا الرَّجُلَ يَأْخُذُونَ عَنْهُ الْعِلْمَ، نَظَرُوا إِلَى صَلَاتِهِ، وَإِلَى سَمْتِهِ، وَإِلَى هَيْئَتِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُونَ عَنْهُ"..
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب وہ (یعنی سلف صالحین) کسی ایسے آدمی کے پاس آتے جس سے علم لینا ہوتا تو اس کی نماز، چال چلن، صورت شکل دیکھتے، پھر اس سے علم اخذ کرتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 435] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجرح والتعديل 16/2] و [الكفاية 157]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَوْحٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ..
حسن بصری رحمہ اللہ نے بھی ابراہیم رحمہ اللہ کی طرح بیان کیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 436]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 436] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: مذکورہ بالا تخریج، اس روایت میں روح سے مراد ابن عبادہ اور ہشام سے مراد ہشام بن حسان ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى الحسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: "كُنَّا نَأْتِي الرَّجُلَ لِنَأْخُذَ عَنْهُ، فَنَنْظُرُ إِذَا صَلَّى، فَإِنْ أَحْسَنَهَا، جَلَسْنَا إِلَيْهِ وَقُلْنَا: هُوَ لِغَيْرِهَا أَحْسَنُ، وَإِنْ أَسَاءَهَا، قُمْنَا عَنْهُ وَقُلْنَا: هُوَ لِغَيْرِهَا أَسْوَأُ"، قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: لَفْظُهُ نَحْوُ هَذَا.
ابوالعالیہ نے فرمایا کہ: ہم آدمی کے پاس جاتے تھے کہ اس سے روایت لیں، تو جب وہ نماز پڑھتا ہم دیکھتے تھے، اگر ٹھیک طرح سے نماز پڑھی ہے تو بیٹھ جاتے اور کہتے وہ نماز کے علاوہ (اعمال) میں بھی اچھا ہو گا، اور اگر اچھی طرح نماز نہیں پڑھتا تو اس کے پاس سے اٹھ آتے اور کہتے وہ نماز کے علاوہ میں اور زیادہ خراب ہو گا۔ ابومعمر نے کہا: اس کے لفظ اسی طرح ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 437]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 437] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 430] ، [حلية الأولياء 220/2]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ، أَوْ لَابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ"إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ".
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ علم (علم اسناد الحديث) دین ہے، تو تم دیکھو کیسے آدمی سے اپنا دین حاصل کر رہے ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثر صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 438] »
یہ اثر صحیح ہے۔ اس کی تخریج بھی اثر رقم (399، 433) میں گذر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: أثر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ: إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: "فَإِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا، فَخُذْ عَنْهُ".
سلیمان بن موسیٰ نے کہا: میں نے امام طاؤوس رحمہ اللہ سے کہا کہ فلاں آدمی نے اس طرح سے حدیث بیان کی، انہوں نے فرمایا: اگر تمہارا یہ حدیث بیان کرنے والا غنی ہے تو اس سے روایت لے لو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 439] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھے رقم (428)۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَعِدْ عَلَيَّ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ، قَالَ لَهُ بُشَيْرٌ: مَا أَدْرِي عَرَفْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَأَنْكَرْتَ هَذَا، أَوْ عَرَفْتَ هَذَا وَأَنْكَرْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ؟، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "إِنَّا كُنَّا نُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ لَمْ يَكُنْ يُكْذَبُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَة وَالذَّلُولَ تَرَكْنَا الْحَدِيثَ عَنْهُ".
امام طاؤوس رحمہ اللہ نے کہا: بشیر بن کعب سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور حدیث بیان کرنے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پہلی حدیث مجھے دوبارہ سناؤ، بشیر نے ان سے کہا: پتہ نہیں آپ نے میری تمام احادیث کو صحیح جانا اور پہلی حدیث پر انکار کیا، یا اس پہلی حدیث کو صحیح سمجھا اور باقی کو صحیح نہیں جانا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت حدیث بیان کرتے تھے جس وقت آپ پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا، پھر جب لوگ نرم و گرم میں پڑ گئے (یعنی جھوٹ سچ میں) تو ہم نے آپ سے روایت حدیث ترک کر دی۔ (یعنی جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنا شروع کر دیا تو ہم احتیاط کرنے لگے اور کہنے والے کے بارے میں چھان بین ہونے لگی)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 440] »
اس روایت کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: مقدمہ [صحيح مسلم 12/1] ، [تاريخ أبى زرعة 1486] ، [الكامل لابن عدي 61/1]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں