🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. باب كَيْفَ الْعَمَلُ بِالْقِرَاءَةِ في الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ:
ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کس طرح ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1326
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِسُورَتَيْنِ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى".
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز کی پہلی دو رکعت میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے (یعنی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور ایک سورہ کما في البخاری) اور کبھی کبھی ہمیں آیت سنا دیتے تھے اور پہلی رکعت میں قرأت لمبی کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1326]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1328] »
اس سند میں ابوالمغيرة کا نام عبدالقدوس بن حجاج ہے۔ سند صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 759] ، [مسلم 451] ، [نسائي 978] ، [أبوعوانة 152/2]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1327
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
ابوعاصم (ضحاک بن مخلد) نے خبر دی، اوزاعی سے انہوں نے یحییٰ سے اپنی سند سے ایسا ہی روایت کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1329] »
اس روایت کی تخریج گذر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1328
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَبِسُورَتَيْنِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ، وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ".
عبداللہ بن ابوقتادہ نے بیان کیا کہ ان کے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعت میں سورۂ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور آخری دو رکعت میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے، اور کبھی کبھی ہم کو آیت سنا دیتے تھے، اور پہلی رکعت لمبی کرتے، دوسری رکعت اتنی لمبی نہ کرتے، اسی طرح عصر کی نماز میں اور اسی طرح فجر کی نماز میں قرأت لمبی کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1330] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 776] ، [مسلم 155، 451] ، [أبوداؤد 799] و [ابن حبان 1829]
وضاحت: (تشریح احادیث 1325 سے 1328)
ان روایات سے فجر، ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت لمبی کرنے کا ثبوت ملا، نیز یہ کہ ظہر کی پہلی رکعت میں لمبی قرأت اور دوسری میں اس سے کم، تیسری اور چوری میں صرف سورۂ فاتحہ کی قرأت کرنی چاہئے، کبھی کبھی سرّی نماز میں ایک آدھ جملہ یا آیت بآواز بلند کہنا بھی درست ہے، نیز یہ کہ نماز اور قرأت منظم طریقے سے پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. باب قَدْرِ الْقِرَاءَةِ في الْمَغْرِبِ:
مغرب کی نماز میں قراءۃ کی مقدار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1329
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبأَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ: وَالْمُرْسَلَاتِ".
سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۂ مرسلات پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1331] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 763] ، [مسلم 462] ، [أبويعلی 7071] ، [ابن حبان 1832] ، [الحميدي 340]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1330
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِوَالطُّورِ".
حمد بن جبیر بن مطعم نے اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۂ والطّور پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1332] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 765] ، [مسلم 463] ، [أبويعلی 7393] ، [ابن حبان 1833] ، [الحميدي 566]
وضاحت: (تشریح احادیث 1328 سے 1330)
مغرب کی نماز کا وقت تھوڑا ہوتا ہے اس لئے چھوٹی سورتیں جنہیں قصار کہا جاتا ہے پڑھنا چاہئے، کبھی کوئی سورت طوال مفصل سے یعنی بڑی سورتوں میں سے بھی قرأت کی جائے تو مسنون ہے خصوصاً سورهٔ مرسلات یا سورۂ طور پڑھنا، جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث میں ہے، تو یہ سنّت طریقہ ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح ولكن الحديث متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. باب قَدْرِ الْقِرَاءَةِ في الْعِشَاءِ:
عشاء میں قرأت کی مقدار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1331
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ، فَجَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ، وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّى، ثُمَّ ذَهَبَ، فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا يَنَالُ مِنْهُ، فَشَكَى ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ: "فَاتِنًا، فَاتِنًا، فَاتِنًا، أَوْ فَتَّانًا، فَتَّانًا، فَتَّانًا، ثُمَّ أَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: نَأْخُذُ بِهَذَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر واپس آ کر اپنی قوم (قبیلے کے لوگوں) کو نماز پڑھاتے، ایک رات آ کر عشاء کی نماز میں سورۂ بقرۃ پڑھ ڈالی تو انصار میں سے ایک آدمی آیا اور نماز پڑھی (صحیح بخاری میں ہے کہ اس نے نماز توڑی اور الگ نماز پڑھی) پھر اسے معلوم ہوا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کو برا بھلا کہا ہے، لہٰذا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”فتنہ میں ڈالنے والے ہو، فتنے میں ڈالنے والے ہو، فتنے میں ڈالنے والے ہو“ ( «فاتنًا» کہا یا «فتانًا»)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اوساط مفصل سے بس دو سورتیں پڑھا کریں، یعنی: « ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾، ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ كما فى البخاري»، ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ہم اسی کے قائل ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1333] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 701، 705] ، [مسلم 465] ، [أبويعلی 1827] ، [ابن حبان 1840] ، [الحميدي 1283، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1330)
پیچھے گذر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرأت پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی بڑی سرزنش کی اور فرمایا تھا کہ ”تمہارے پیچھے بوڑھے بڑے اور صاحبِ حاجت لوگ نماز پڑھتے ہیں ان کا خیال کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھا کرو۔
“ اس روایت میں اوساط مفصل جیسے الاعلیٰ، الشّمس اور سورۃ اللیل جیسی سورتیں عشاء کی نماز میں پڑھنے کی تاکید ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. باب قَدْرِ الْقِرَاءَةِ في الْفَجْرِ:
فجر کی نماز میں قرأت کی مقدار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1332
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي يَقُولُ: إِنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ "يَقْرَأُ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ الصُّبْحِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ". قَالَ شُعْبَةُ: وَسَأَلْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بـقَ.
زیاد بن علاقہ نے کہا: میں نے اپنے چچا سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں « ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ﴾ » [ق: 10] پڑھی، شعبہ نے کہا: میں نے زیاد سے دوبارہ پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے آپ کو سورۂ قاف پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1334] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 457] ، [نسائي 949] ، [أبويعلی 6841] ، [ابن حبان 1814]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1333
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ".
سیدنا قطبۃ بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نماز فجر کی پہلی رکعت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو « ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ﴾ » [ق: 10/50] پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1335] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 166، 457] ، [ترمذي 306] ، [نسائي 949] ، [ابن ماجه 816]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1334
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ سورة التكوير آية 17، جَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي: مَا اللَّيْلُ إِذَا عَسْعَسَ؟.
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں «‏‏‏‏ ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ » ‏‏‏‏ پڑھتے ہوئے سنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت « ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ﴾ » پر پہنچے تو میں اپنے دل میں سوچنے لگا « ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ﴾ » کا مطلب کیا ہے؟ (رات جب ڈھل جائے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1336] »
اس روایت کی سند عبدالرحمٰن المسعودی کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 456] ، [ترمذي 306] ، [نسائي 954] ، [ابن ماجه 816] ، [أبويعلی 1457] ، [ابن حبان 1819] ، [الحميدي 577]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1335
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، بِنَحْوِهِ.
ابونعیم نے خبر دی کہ ہم سے مسعر نے حدیث بیان کی ولید سے اور انہوں نے سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے اسی کی طرح۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1337] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف من أجل عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي ولكن الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں