سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ:
عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1246
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:"أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ أَنْ يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ قَرِيبُهُ، فَجَاءَ وَفِي النَّاسُ رُقَّدٌ، وَهُمْ عِزُونَ، وَهُمْ حِلَقٌ، فَغَضِبَ، فَقَالَ: "لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَدَى النَّاسَ وَقَالَ عَمْرٌو: نَدَبَ النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ، لَأَجَابُوا إِلَيْهِ، وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، لَهَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا لِيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَتَخَلَّفَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الدُّورِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، فَأُضْرِمَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کی کہ تقر یباً رات کا ایک تہائی حصہ گزرنے لگا، پھر آپ تشریف لائے اس حال میں کہ نمازی ٹولیوں اور حلقوں میں بیٹھے اونگھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خفا ہوتے ہوئے فرمایا: ”اگر کوئی آدمی لوگوں کو ایک ہڈی یا دو کھر کے واسطے بلائے تو وہ دوڑے آئیں، لیکن اس نماز سے (عشاء کی نماز) وہ پیچھے رہ جاتے ہیں، میں نے ارادہ کر لیا کہ کسی شخص سے کہوں کہ وہ نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے گھروں کی طرف جاؤں جو نماز (جماعت) سے پیچھے رہ جاتے ہیں، اور ان پر ان کے گھروں میں آگ لگا دوں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1248] »
اس سند و سیاق سے یہ حدیث حسن کے درجے میں ہے، لیکن اس کی اصل صحیحین میں موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 644] ، [مسلم 651] ، [مسند أبى يعلی 6338] ، [صحيح ابن حبان 2096] ، [مسند الحميدي 986]
اس سند و سیاق سے یہ حدیث حسن کے درجے میں ہے، لیکن اس کی اصل صحیحین میں موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 644] ، [مسلم 651] ، [مسند أبى يعلی 6338] ، [صحيح ابن حبان 2096] ، [مسند الحميدي 986]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن ولكن الحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1247
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ". وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک رات) عشاء کی نماز میں تاخیر کی یہاں تک کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کو پکارا کہ عورتیں اور بچے سو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور فرمایا: ”تمہارے علاوہ اہل زمین میں سے کوئی یہ نماز نہیں پڑھتا“، اور مدینہ کے سوا اس وقت اور کہیں مسلمان نہ تھے یا کہ ایسی شان والی نماز کے انتظار کا ثواب اللہ نے صرف امت محمدیہ کی قسمت میں رکھا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1247]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1249] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 566] ، [ مسلم 638] ، [نسائي 534] ، [صحيح ابن حبان 1535]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 566] ، [ مسلم 638] ، [نسائي 534] ، [صحيح ابن حبان 1535]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1248
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَنْبأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنْبأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَتْ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَرَقَدَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ، فَصَلَّاهَا، فَقَالَ:"إِنَّهَا لَوَقْتُهَا، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات (نماز عشاء) میں تاخیر کی حتی کہ رات کا بڑا حصہ گزر گیا، اور مسجد میں جو لوگ تھے سو گئے، پھر آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اگر اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خیال نہ ہوتا تو یہی اس (نماز) کا وقت ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1248]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1250] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أحمد 150/6] ، [مسلم 638] ، [نسائي 537] ، [بيهقي 450/1]
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أحمد 150/6] ، [مسلم 638] ، [نسائي 537] ، [بيهقي 450/1]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1249
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، أَنْبأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: "هُوَ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز عشاء کو مؤخر کیا، عرض کیا گیا: نماز اے اللہ کے رسول، عورتیں اور بچے سو چکے ہیں، لہٰذا آپ باہر تشریف لائے اور آپ کے پہلو سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یہی (اس نماز کا) وقت ہے اگر میری امت پر مشقت نہ ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1249]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وابن جريج قد صرح بالتحديث عند مسلم، [مكتبه الشامله نمبر: 1251] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 571] ، [مسلم 642] ، [أبويعلی 2398] ، [ابن حبان 1098] ، [الحميدي 499]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 571] ، [مسلم 642] ، [أبويعلی 2398] ، [ابن حبان 1098] ، [الحميدي 499]
وضاحت: (تشریح احادیث 1245 سے 1249)
ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ عشاء کی نماز میں تاخیر افضل ہے، لیکن قربان جایئے نبیٔ رحمت پر کہ اُمّت پر مشقت کے خیال سے اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء بھی اوّل وقت میں پڑھی۔
نمازِ عشاء کا وقت غيابِ شفق سے رات کے پہلے ایک تہائی حصہ تک ہے، لہٰذا نمازِ عشاء آدھی رات میں یا آخر اللیل تک مؤخر کرنا درست نہیں، ایسی صورت میں وہ قضا نماز ہوگی، ہاں وتر اور تہجد طلوعِ صبح سے پہلے پڑھنا افضل ہے۔
ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ عشاء کی نماز میں تاخیر افضل ہے، لیکن قربان جایئے نبیٔ رحمت پر کہ اُمّت پر مشقت کے خیال سے اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء بھی اوّل وقت میں پڑھی۔
نمازِ عشاء کا وقت غيابِ شفق سے رات کے پہلے ایک تہائی حصہ تک ہے، لہٰذا نمازِ عشاء آدھی رات میں یا آخر اللیل تک مؤخر کرنا درست نہیں، ایسی صورت میں وہ قضا نماز ہوگی، ہاں وتر اور تہجد طلوعِ صبح سے پہلے پڑھنا افضل ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وابن جريج قد صرح بالتحديث عند مسلم
20. باب التَّغْلِيسِ في الْفَجْرِ:
فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "كُنَّ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ قَبْلَ أَنْ يُعْرَفْنَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پڑھتی تھیں، پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی واپس لوٹتی تھیں، اس وقت سے پہلے کہ وہ پہچان لی جائیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1250]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1252] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 372] ، [مسلم 645] ، [مسند أبى يعلی 4415] ، [ابن حبان 1498] ، [الحميدي 174 وغيرهم]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 372] ، [مسلم 645] ، [مسند أبى يعلی 4415] ، [ابن حبان 1498] ، [الحميدي 174 وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1249)
یعنی اتنے سویرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے تھے کہ واپسی میں بھی اندھیرے کی وجہ سے عورتیں پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
یعنی اتنے سویرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے تھے کہ واپسی میں بھی اندھیرے کی وجہ سے عورتیں پہچانی نہیں جاتی تھیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
21. باب الإِسْفَارِ بِالْفَجْرِ:
صبح واضح ہو جانے پر نماز فجر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1251
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہو جانے پر فجر کی نماز پڑھو کیونکہ یہ باعثِ اجر عظیم ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1251]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن ابن إسحاق قد عنهن ولكنه متابع كما في الرواية التالية، [مكتبه الشامله نمبر: 1253] »
اس حدیث میں ابن اسحاق کا عنعنہ ہے، لیکن متابعت موجود ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 154] ، [نسائي 547] ، [ابن حبان 1489] ، [الموارد 263]
اس حدیث میں ابن اسحاق کا عنعنہ ہے، لیکن متابعت موجود ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 154] ، [نسائي 547] ، [ابن حبان 1489] ، [الموارد 263]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أن ابن إسحاق قد عنهن ولكنه متابع كما في الرواية التالية
حدیث نمبر: 1252
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَوِّرُوا بِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نماز فجر کو روشنی میں پڑھو یہی باعث اجر عظیم ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1252]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان، [مكتبه الشامله نمبر: 1254] »
اس روایت کی سند میں محمد بن عجلان متکلم فیہ ہیں، لیکن اس کے شواہد ہیں۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1490/1489] ، [موارد الظمآن 263] ، [مصنف عبدالرزاق 2159]
اس روایت کی سند میں محمد بن عجلان متکلم فیہ ہیں، لیکن اس کے شواہد ہیں۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1490/1489] ، [موارد الظمآن 263] ، [مصنف عبدالرزاق 2159]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان
حدیث نمبر: 1253
ابن عجلان کے طرق سے اسی طرح مروی ہے۔ نیز اس میں «أسفروا» کے ساتھ مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1253]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1255] »
اس حدیث کی تخریج اوپر مذکور ہے۔
اس حدیث کی تخریج اوپر مذکور ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1250 سے 1253)
«أَسْفِرُوْا» یا «نَوِّرُوْا» دونوں کا معنی ایک ہی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ صبح واضح ہو جائے تو نمازِ فجر پڑھی جائے، لیکن اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ نمازِ فجر میں اتنی تاخیر کی جائے کہ سورج طلوع ہونے لگ جائے۔
ایک روایتِ صحیحہ میں ہے کہ «غلس» یعنی اندھیرے میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر ادا کرتے اور جب عورتیں واپسی گھروں کو لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم 60 سے سو آیات تک کی نماز میں قرأت کرتے تھے۔
جیسا کہ حدیث نمبر (1250) پرگذر چکا ہے۔
بعض حضرات صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا عدم رفع الیدین کا فعل تو بڑے شدّ و مدّ سے بیان کرتے ہیں اور ان کی بہت سی احادیث کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔
[بخاري شريف 527] میں اور اس کتاب کی حدیث نمبر (1259) میں ہے، سب سے محبوب عمل نماز اوّل وقت میں پڑھنا ہے، لیکن ہمارے یہ بھائی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مخالفت کرتے ہوئے اس وقت نمازِ فجر ادا کرتے ہیں جب سورج نکلنے میں چند منٹ باقی رہ جاتے ہیں۔
اسی طرح عصر کی نماز اس وقت پڑھتے ہیں جب سورج غروب ہونے میں بہت تھوڑا وقت باقی رہ جاتا ہے۔
«(هدانا اللّٰه و إياهم)»
«أَسْفِرُوْا» یا «نَوِّرُوْا» دونوں کا معنی ایک ہی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ صبح واضح ہو جائے تو نمازِ فجر پڑھی جائے، لیکن اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ نمازِ فجر میں اتنی تاخیر کی جائے کہ سورج طلوع ہونے لگ جائے۔
ایک روایتِ صحیحہ میں ہے کہ «غلس» یعنی اندھیرے میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر ادا کرتے اور جب عورتیں واپسی گھروں کو لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم 60 سے سو آیات تک کی نماز میں قرأت کرتے تھے۔
جیسا کہ حدیث نمبر (1250) پرگذر چکا ہے۔
بعض حضرات صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا عدم رفع الیدین کا فعل تو بڑے شدّ و مدّ سے بیان کرتے ہیں اور ان کی بہت سی احادیث کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔
[بخاري شريف 527] میں اور اس کتاب کی حدیث نمبر (1259) میں ہے، سب سے محبوب عمل نماز اوّل وقت میں پڑھنا ہے، لیکن ہمارے یہ بھائی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مخالفت کرتے ہوئے اس وقت نمازِ فجر ادا کرتے ہیں جب سورج نکلنے میں چند منٹ باقی رہ جاتے ہیں۔
اسی طرح عصر کی نماز اس وقت پڑھتے ہیں جب سورج غروب ہونے میں بہت تھوڑا وقت باقی رہ جاتا ہے۔
«(هدانا اللّٰه و إياهم)»
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
22. باب مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةٍ فَقَدْ أَدْرَكَ:
جب کوئی کسی نماز کی ایک رکعت پا لے تو اس نے وہ نماز پا لی
حدیث نمبر: 1254
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةٍ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی نماز کی ایک رکعت پا لی اس نے نماز (با جماعت) کو پا لیا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1254]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف غير أن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1256] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 580] ، [مسلم 607] ، [أبويعلي 5962] ، [ابن حبان 1483] ، [الحميدي 976]
اس روایت کی سند ضعیف لیکن حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 580] ، [مسلم 607] ، [أبويعلي 5962] ، [ابن حبان 1483] ، [الحميدي 976]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف غير أن الحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1255
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1255]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1257] »
تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح والحديث متفق عليه