سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلاَةٍ فَقَدْ أَدْرَكَ:
جب کوئی کسی نماز کی ایک رکعت پا لے تو اس نے وہ نماز پا لی
حدیث نمبر: 1256
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ يُحَدِّثُونَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنْ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنْ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فجر کی نماز ایک رکعت سورج نکلنے سے پہلے پالے، اس نے فجر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا، اور جس نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی نماز کی ایک رکعت کو پا لیا اس نے عصر کی نماز (باجماعت کا ثواب) پا لیا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1256]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1258] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 579] ، [مسلم 608] ، [ابن حبان 1484]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 579] ، [مسلم 608] ، [ابن حبان 1484]
وضاحت: (تشریح احادیث 1253 سے 1256)
ان احادیث کا مطلب یہ ہے: اگر کسی سے بسببِ شرعی عذر نماز میں تاخیر ہو جائے اور اسے ایک رکعت ہی مل جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے پوری نماز باجماعت ادا کرنے کا ثواب عطا کرتے ہیں اور ایک رکعت پانے کے بعد بلا تردد انہیں باقی نماز پوری کرنی چاہئے۔
ان احادیث کا مطلب یہ ہے: اگر کسی سے بسببِ شرعی عذر نماز میں تاخیر ہو جائے اور اسے ایک رکعت ہی مل جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے پوری نماز باجماعت ادا کرنے کا ثواب عطا کرتے ہیں اور ایک رکعت پانے کے بعد بلا تردد انہیں باقی نماز پوری کرنی چاہئے۔
23. باب الْمُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَوَاتِ:
نماز کی پابندی کا بیان
حدیث نمبر: 1257
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا رَأَيْتُمْ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ، فَاشْهَدُوا لَهُ بِالْإِيمَانِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ سورة التوبة آية 18".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ وہ مسجد میں آنے جانے کی عادت رکھتا ہے تو اس کے ایمان کی شہادت دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مسجدوں کو وہی لوگ آباد رکھتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے۔“ [توبه: 18/9] [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف قال أحمد ((أحاديث دراج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد فيها ضعف))، [مكتبه الشامله نمبر: 1259] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ امام احمد نے فرمایا: دراج کی احادیث ابی الہیثم عن ابی سعید ضعیف ہیں۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [ترمذي 3093] ، [ابن ماجه 802] ، [صحيح ابن حبان 1721] ، [الموارد 310]
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ امام احمد نے فرمایا: دراج کی احادیث ابی الہیثم عن ابی سعید ضعیف ہیں۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [ترمذي 3093] ، [ابن ماجه 802] ، [صحيح ابن حبان 1721] ، [الموارد 310]
وضاحت: (تشریح حدیث 1256)
یعنی مسجد میں آنا جانا، نماز پڑھنا، مسجد کی خدمت اور درس و تدریس، تلاوتِ قرآن وغیرہ سارے امور مومن بندے کے اوصاف ہیں، جو شخص اپنی عادت ایسی بنا لے وہ صاحبِ ایمان ہے۔
یعنی مسجد میں آنا جانا، نماز پڑھنا، مسجد کی خدمت اور درس و تدریس، تلاوتِ قرآن وغیرہ سارے امور مومن بندے کے اوصاف ہیں، جو شخص اپنی عادت ایسی بنا لے وہ صاحبِ ایمان ہے۔
حدیث نمبر: 1258
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ. ح قَالَ: أَنْبأَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ، وَمَنْ صَلَّى الْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ".
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اس کو آدھی رات قیام کرنے کا ثواب ہے، اور جو شخص فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ ادا کرے اسے پوری رات قیام کرنے کا ثواب ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1260] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 656] ، [أبوداؤد 555] ، [ترمذي 221] ، [ابن حبان 2058]
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 656] ، [أبوداؤد 555] ، [ترمذي 221] ، [ابن حبان 2058]
وضاحت: (تشریح حدیث 1257)
اس حدیث سے نمازِ عشاء و فجر باجماعت ادا کرنے کا ثواب معلوم ہوا، نیز یہ کہ جماعت کے ساتھ فرض نماز ادا کرنے کا بہت ثواب ہے۔
ایک نماز کا ثواب 25 یا 27 نمازوں کے برابر ہے اور جماعت سے پیچھے رہ جانے پر بہت وعید آئی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے گھر جلا دینے کا ارادہ فرمایا جو نماز باجماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں جیسا کہ گزر چکا ہے۔
اس حدیث سے نمازِ عشاء و فجر باجماعت ادا کرنے کا ثواب معلوم ہوا، نیز یہ کہ جماعت کے ساتھ فرض نماز ادا کرنے کا بہت ثواب ہے۔
ایک نماز کا ثواب 25 یا 27 نمازوں کے برابر ہے اور جماعت سے پیچھے رہ جانے پر بہت وعید آئی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے گھر جلا دینے کا ارادہ فرمایا جو نماز باجماعت سے پیچھے رہ جاتے ہیں جیسا کہ گزر چکا ہے۔
24. باب اسْتِحْبَابِ الصَّلاَةِ في أَوَّلِ الْوَقْتِ:
اول وقت میں نماز پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1259
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: الْوَلِيدُ بْنُ عَيْزَارٍ أَخْبَرَنِي، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ أَوْ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: "الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا".
ابوبکر شیبانی کہتے ہیں اس گھر کے مالک نے مجھ سے حدیث بیان کی۔ اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ انہوں (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر یا سب سے زیاده محبوب عمل کونسا ہے؟ فرمایا: نماز کو اس کے (اول) وقت میں پڑھنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1261] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 527] ، [مسلم 86] ، [ترمذي 170] ، [أبويعلی 5256] ، [ابن حبان 1474]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 527] ، [مسلم 86] ، [ترمذي 170] ، [أبويعلی 5256] ، [ابن حبان 1474]
حدیث نمبر: 1260
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ سَبْعَةٌ: مِنَّا ثَلَاثَةٌ مِنْ عَرَبِنَا وَأَرْبَعَةٌ مِنْ مَوَالِينَا أَوْ أَرْبَعَةٌ مِنْ عَرَبِنَا وَثَلَاثَةٌ مِنْ مَوَالِينَا، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:"مَا يُجْلِسُكُمْ هَهُنَا؟"قُلْنَا: انْتِظَارُ الصَّلَاةِ، قَالَ: فَنَكَتَ بِإِصْبَعِهِ فِي الْأَرْضِ، وَنَكَسَ سَاعَةً. ثُمَّ رَفَعَ إِلَيْنَا رَأْسَهُ، فَقَالَ:"هَلْ تَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ؟"، قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: إِنَّهُ يَقُولُ: "مَنْ صَلَّى الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَأَقَامَ حَدَّهَا، كَانَ لَهُ بِهِ عَلَيَّ عَهْدٌ أُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَلَمْ يُقِمْ حَدَّهَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ، إِنْ شِئْتُ أَدْخَلْتُهُ النَّارَ، وَإِنْ شِئْتُ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ".
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، ہم سات اشخاص تھے تین عربی اور چار موالی (غلام) تھے، یا چار عربی اور تین موالی میں سے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے، فرمایا: ”یہاں کس وجہ سے بیٹھے ہو“، عرض کیا: نماز کا انتظار ہے۔ راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر سر جھکائے زمین کریدتے رہے، پھر اپنا سر مبارک اٹھاتے ہوئے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا: ”الله تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص نماز کو اس کے (اول) وقت میں پڑھے اور اس کے شروط و ارکان صحیح سے ادا کرے، تو میرا وعدہ ہے کہ اس کو جنت میں داخل کردوں گا، اور جو شخص نماز کو اس کے وقت میں نہ پڑ ھے نہ اس کے شروط و ارکان ادا کرے اس سے میرا کوئی عہد و پیمان نہیں ہے، اگر چاہوں تو اسے جہنم میں داخل کردوں یا چاہوں تو جنت میں پہنچا دوں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1262] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد تحقيق حسين الداراني 1701]
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد تحقيق حسين الداراني 1701]
وضاحت: (تشریح احادیث 1258 سے 1260)
ان احادیث سے فرض نمازیں اوّل وقت میں ادا کرنے کی فضیلت اور نماز کے شروط و ارکان صحیح طریق سے ادا کرنے کی ترغیب ہے جو جنت میں داخلے کا سبب ہے اور اس میں اس سے تحذیر بھی ہے کہ اگر نماز تعدیل اور ارکان کے ساتھ ادا نہ کی جائے یا بے وقت ادا کی جائے تو جہنم میں لے جاسکتی ہے۔
«(أعاذنا اللّٰه منه)»
ان احادیث سے فرض نمازیں اوّل وقت میں ادا کرنے کی فضیلت اور نماز کے شروط و ارکان صحیح طریق سے ادا کرنے کی ترغیب ہے جو جنت میں داخلے کا سبب ہے اور اس میں اس سے تحذیر بھی ہے کہ اگر نماز تعدیل اور ارکان کے ساتھ ادا نہ کی جائے یا بے وقت ادا کی جائے تو جہنم میں لے جاسکتی ہے۔
«(أعاذنا اللّٰه منه)»
25. باب الصَّلاَةِ خَلْفَ مَنْ يُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا:
جو امام فرض نماز تاخیر سے پڑھے اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1261
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ: الْبَرَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:"كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟"، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاخْرُجْ، فَإِنْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ مَعَهُمْ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”تم جب ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو تاخیر وقت سے پڑھیں گے تو تم کیا کرو گے؟“ عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا اور (ضرورت پڑے تو مسجد سے) نکل جانا پھر اگر نماز پڑھی جائے اور تم مسجد ہی میں موجود ہو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرنا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1263] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 648] ، [نسائي 777] ، [ابن حبان 1482]
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 648] ، [نسائي 777] ، [ابن حبان 1482]
حدیث نمبر: 1262
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أَدْرَكْتَ أُمَرَاءَ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟ قُلْتُ: مَا تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَهُمْ نَافِلَةً". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: ابْنُ الصَّامِتِ هُوَ: ابْنُ أَخِي أَبِي ذَرٍّ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے امیر ہوں گے جو نماز آخر وقت میں پڑھیں گے؟“ عرض کیا: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ”تم نماز اس کے (اول) وقت میں ادا کر لینا، اور ان کے ساتھ نفلی نماز کی نیت سے نماز پڑھ لیا کرنا۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: عبداللہ بن الصامت ابوذر کے بھتیجے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1264] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 648، وما قبله وبعده] ، [أبوداؤد 431] ، [نسائي 858] ، [ابن ماجه 1252]
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 648، وما قبله وبعده] ، [أبوداؤد 431] ، [نسائي 858] ، [ابن ماجه 1252]
وضاحت: (تشریح احادیث 1260 سے 1262)
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ نماز اوّل وقت میں ادا کی جائے، اگر امام یا امیر اس کو آخر وقت میں تاخیر سے پڑھیں تو اگر مسجد میں ہوں تو ان کے ساتھ نفلی نماز کی نیت سے دوبارہ نماز پڑھ لیں۔
مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ یہ نہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لئے کہ اس سے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ نماز اوّل وقت میں ادا کی جائے، اگر امام یا امیر اس کو آخر وقت میں تاخیر سے پڑھیں تو اگر مسجد میں ہوں تو ان کے ساتھ نفلی نماز کی نیت سے دوبارہ نماز پڑھ لیں۔
مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ یہ نہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لئے کہ اس سے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔
26. باب مَنْ نَامَ عَنْ صَلاَةٍ أَوْ نَسِيَهَا:
کوئی کسی نماز سے سوتا رہ جائے یا بھول جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1263
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کوئی شخص کسی نماز کو بھول جائے یا سوتا رہ جائے تو جس وقت یاد آئے فوراً وہ نماز ادا کر لے، الله تعالیٰ فرماتا ہے: اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔“ [طه 14/20 ] [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف سعيد بن عامر متأخر السماع من سعيد بن أبي عروبة. ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1265] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 597] ، [مسلم 684] ، [مسند أبى يعلی 2854] ، لیکن مذکورہ بالا سند سعید بن عامر کی وجہ سے ضعیف ہے، دوسرے راوی سعید ابن ابی عروبہ ہیں۔ واللہ اعلم۔
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 597] ، [مسلم 684] ، [مسند أبى يعلی 2854] ، لیکن مذکورہ بالا سند سعید بن عامر کی وجہ سے ضعیف ہے، دوسرے راوی سعید ابن ابی عروبہ ہیں۔ واللہ اعلم۔
وضاحت: (تشریح حدیث 1262)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی کبھی کبھار سوتا رہ جائے تو جب آنکھ کھلے فوراً نماز پڑھ لے، اسی طرح اگر بھول جائے تو جیسے ہی یاد آئے وہ نماز پڑھ لے۔
واضح رہے کہ یہ حکم صرف فرض نماز کے لئے ہے۔
فجر کی سنتوں اور وتر کے علاوہ کسی نفلی نماز کی قضا ضروری نہیں۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی کبھی کبھار سوتا رہ جائے تو جب آنکھ کھلے فوراً نماز پڑھ لے، اسی طرح اگر بھول جائے تو جیسے ہی یاد آئے وہ نماز پڑھ لے۔
واضح رہے کہ یہ حکم صرف فرض نماز کے لئے ہے۔
فجر کی سنتوں اور وتر کے علاوہ کسی نفلی نماز کی قضا ضروری نہیں۔
واللہ اعلم۔
27. باب في الذي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ:
جس کی نماز عصر فوت ہو جائے اس کا کتنا گناہ ہے
حدیث نمبر: 1264
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ يَرْفَعُهُ، قَالَ:"إِنَّ الَّذِي تَفُوتُهُ الصَّلَاةُ: صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ".
سالم نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے مرفوعاً روایت کیا کہ: جس کی نماز عصر چھوٹ جائے گویا کہ اس کے اہل خانہ اور مال سب لٹ گئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1266] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 552] ، [مسلم 626] ، [مسند أبى يعلی 5447] و [ابن حبان 1469]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 552] ، [مسلم 626] ، [مسند أبى يعلی 5447] و [ابن حبان 1469]
حدیث نمبر: 1265
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَوَلَدَهُ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَوْ مَالَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی نماز عصر چھوٹ جائے گویا کہ اس کے اہل و اولاد مار ڈالے (یا لوٹ لئے) گئے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا «أو ماله» یعنی اولا د کی جگہ «مال» ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1265]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1267] »
یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ تخریج اور گزر چکی ہے۔
یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ تخریج اور گزر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1263 سے 1265)
یعنی جو شخص عصر کی نماز نہ پڑھے گویا اس کے اہل و عیال مار ڈالے گئے، اور یہ انسان کے لئے بہت ہی خوفناک اور پریشان کن بات ہوگی، معلوم ہوا کہ نمازِ عصر کی اتنی بڑی فضلیت ہے کہ اگر نمازِ عصر ایک بار فوت ہو جائے تو اس کے اہل و عیال، مال و دولت سب فنا ہو گئے، لہٰذا کسی مسلمان کو اس میں سستی اور تاخیر نہیں کرنی چاہیے، الله تعالیٰ سب کو پنج وقتہ نماز کی ادائیگی کی توفیق بخشے۔
آمین
یعنی جو شخص عصر کی نماز نہ پڑھے گویا اس کے اہل و عیال مار ڈالے گئے، اور یہ انسان کے لئے بہت ہی خوفناک اور پریشان کن بات ہوگی، معلوم ہوا کہ نمازِ عصر کی اتنی بڑی فضلیت ہے کہ اگر نمازِ عصر ایک بار فوت ہو جائے تو اس کے اہل و عیال، مال و دولت سب فنا ہو گئے، لہٰذا کسی مسلمان کو اس میں سستی اور تاخیر نہیں کرنی چاہیے، الله تعالیٰ سب کو پنج وقتہ نماز کی ادائیگی کی توفیق بخشے۔
آمین