سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
207. باب في الْوِتْرِ:
وتر کا بیان
حدیث نمبر: 1616
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيَّ ثُمَّ الْجُمَحِيَّ أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَسْكُنُ بِالشَّامِ، وَكَانَ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ الْمُخْدَجِيَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الشَّامِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَرَاحَ الْمُخْدَجِيُّ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ، مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ، جَاءَ وَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ، أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ".
ابن محیریز قرشی جمحی نے جو کہ ملک شام میں رہتے تھے، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا۔ انہوں نے خبر دی کہ بنوکنانہ کے ایک آدمی مخدجی نے انہیں بتایا کہ ملک شام میں ایک شخص جن کی کنیت ابومحمد تھی اور جو صحابی تھے، انہوں نے کہا کہ وتر واجب ہے، مخدجی سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہ بات ان سے ذکر کی تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابومحمد نے جھوٹ کہا، میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا، جو شخص ان نمازوں کو لے کر آئے گا اس حال میں کہ ان کا پورا حق ادا کیا ہو، کسی قسم کی ادائیگی میں کمی نہ کی ہو، تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا عہد ہے کہ اس کو جنت میں داخل کر دے، اور جو شخص ان نمازوں کو نہیں لے کر آیا (یعنی اہمیت نہ سمجھتے ہوئے نمازوں کو ترک کیا) تو الله تعالیٰ کا کوئی عہد و قرار نہیں ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1616]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1618] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1420] ، [نسائي 460] ، [ابن ماجه 1401] ، [الطيالسي 254]
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1420] ، [نسائي 460] ، [ابن ماجه 1401] ، [الطيالسي 254]
وضاحت: (تشریح حدیث 1615)
یعنی تارک صلاة تحت مشيۃ الله تعالیٰ ہے، اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو عذاب میں مبتلا کر دے، مطلب یہ کہ وہ بڑے خطرے میں ہے، حدیث صحیح میں ہے: جو جان بوجھ کر نماز ترک کر دے اس نے کفر کیا، اور کافر جنّت میں نہیں جائے گا۔
یعنی تارک صلاة تحت مشيۃ الله تعالیٰ ہے، اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو عذاب میں مبتلا کر دے، مطلب یہ کہ وہ بڑے خطرے میں ہے، حدیث صحیح میں ہے: جو جان بوجھ کر نماز ترک کر دے اس نے کفر کیا، اور کافر جنّت میں نہیں جائے گا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
حدیث نمبر: 1617
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ؟ قَالَ: "الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَالصِّيَامَ"، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ".
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے میرے اوپر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ فرمایا: ”پانچ نمازیں اور روزه (بھی) فرض کیا ہے“، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دین کے احکام بتلائے، پس اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت بخشی میں ان فرائض میں کوئی کمی و بیشی نہیں کروں گا، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے باپ کی قسم اگر اس نے سچے دل سے یہ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا۔“ ... یا یہ فرمایا: ”قسم اس کے باپ کی اگر سچ کہا ہے تو جنت میں داخل ہو گیا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1617]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1619] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 46 وغيرها] ، [مسلم: الايمان 11] ، [أبوداؤد 391] ، [نسائي 457] ، [ابن حبان 1724، 3262] ، [ابن خزيمه 306، وغيرهم]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 46 وغيرها] ، [مسلم: الايمان 11] ، [أبوداؤد 391] ، [نسائي 457] ، [ابن حبان 1724، 3262] ، [ابن خزيمه 306، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 1616)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ارکانِ اسلام میں صرف فرائض پر عمل کیا اور ان میں کوئی کمی و زیادتی نہ کی تو کامرانی سے ہمکنار ہو کر جنّت میں داخل ہو گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کی قسم کھا کر تاکیداً ایسا فرمایا حالانکہ باپ کی قسم کھانے سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ صحیحین بخاری و مسلم میں صرف «أفلح أن صدق» اور «دخل الجنة أن صدق» آیا ہے، یہ قسم اصح الروایات میں نہیں، نیز یہ کہ ہو سکتا ہے یہ قسم ممانعت سے پہلے کی ہو، بہرحال اللہ کے سوا باپ یا کسی کی بھی قسم کھانا حرام ہے، امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا: یہ قسم نہیں بلکہ عربی کا محاورہ ہے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاورةً ایسا کہا تھا۔
(واللہ اعلم)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ارکانِ اسلام میں صرف فرائض پر عمل کیا اور ان میں کوئی کمی و زیادتی نہ کی تو کامرانی سے ہمکنار ہو کر جنّت میں داخل ہو گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ کی قسم کھا کر تاکیداً ایسا فرمایا حالانکہ باپ کی قسم کھانے سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ صحیحین بخاری و مسلم میں صرف «أفلح أن صدق» اور «دخل الجنة أن صدق» آیا ہے، یہ قسم اصح الروایات میں نہیں، نیز یہ کہ ہو سکتا ہے یہ قسم ممانعت سے پہلے کی ہو، بہرحال اللہ کے سوا باپ یا کسی کی بھی قسم کھانا حرام ہے، امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا: یہ قسم نہیں بلکہ عربی کا محاورہ ہے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاورةً ایسا کہا تھا۔
(واللہ اعلم)
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1618
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ:"إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ، فَلَا تَدَعُوهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وتر (فرض) نماز کی طرح واجب نہیں ہے، لیکن یہ سنت ہے اور اسے چھوڑو نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1618]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى علي، [مكتبه الشامله نمبر: 1620] »
یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر موقوف اور صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1416] ، [ترمذي 453] ، [نسائي 1676] ، [أبويعلی 317]
یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر موقوف اور صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1416] ، [ترمذي 453] ، [نسائي 1676] ، [أبويعلی 317]
وضاحت: (تشریح حدیث 1617)
ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ فرض نمازیں صرف پانچ ہیں، ان کے علاوہ سب سنن و نوافل ہیں، اور فرض نماز کی طرح وتر یا کوئی اور نماز واجب نہیں جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لیکن وتر کی نماز کو چھوڑنا نہیں چاہئے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر و حضر میں کبھی وتر کو چھوڑا نہیں ہے، پس پیرویٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے کہ ہمیشہ وتر کی ادائیگی پر مداومت کی جائے، اگر اخیر رات میں ہو تو افضل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ تر آخر اللیل ہی میں پڑھا ہے، اور اگر عشاء کے بعد پڑھ لیں تو بھی جائز ہے۔
ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ فرض نمازیں صرف پانچ ہیں، ان کے علاوہ سب سنن و نوافل ہیں، اور فرض نماز کی طرح وتر یا کوئی اور نماز واجب نہیں جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لیکن وتر کی نماز کو چھوڑنا نہیں چاہئے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر و حضر میں کبھی وتر کو چھوڑا نہیں ہے، پس پیرویٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے کہ ہمیشہ وتر کی ادائیگی پر مداومت کی جائے، اگر اخیر رات میں ہو تو افضل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ تر آخر اللیل ہی میں پڑھا ہے، اور اگر عشاء کے بعد پڑھ لیں تو بھی جائز ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى علي
208. باب الْحَثِّ عَلَى الْوِتْرِ:
وتر کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 1619
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالىٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1619]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1621] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6410] ، [مسلم 2677] ۔ نیز دیکھئے: [ترمذي 453] ، [ابن ماجه 1169] ، [أحمد 107/1] ، [أبويعلی 618] ، [ابن خزيمه 1067]
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6410] ، [مسلم 2677] ۔ نیز دیکھئے: [ترمذي 453] ، [ابن ماجه 1169] ، [أحمد 107/1] ، [أبويعلی 618] ، [ابن خزيمه 1067]
وضاحت: (تشریح حدیث 1618)
اللہ تعالىٰ وتر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ فردِ واحد اور وحدہ لاشریک ہے اور وحدت کو پسند کرتا ہے، اس سے وتر کی فضیلت معلوم ہوئی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وتر واجب ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ تمام ائمہ کرام کا یہی مسلک ہے۔
اللہ تعالىٰ وتر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ فردِ واحد اور وحدہ لاشریک ہے اور وحدت کو پسند کرتا ہے، اس سے وتر کی فضیلت معلوم ہوئی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وتر واجب ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ تمام ائمہ کرام کا یہی مسلک ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
209. باب كَمِ الْوِتْرُ:
وتر کتنی رکعت ہے؟
حدیث نمبر: 1620
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهِ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَتْ صَلَاتُهُ مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ، فَيُسَلِّمَ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعتیں تھیں جن میں پانچ رکعت وتر پڑھتے اور بیٹھتے نہیں، بس آخری رکعت میں تشہد کرتے اور سلام پھیر دیتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1622] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1140] ، [مسلم 736] ، [أبوداؤد 1338] ، [ترمذي 459]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1140] ، [مسلم 736] ، [أبوداؤد 1338] ، [ترمذي 459]
وضاحت: (تشریح حدیث 1619)
یعنی پانچ رکعت ایک تشہد سے پڑھتے، اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تشہد پڑھتے اور سلام پھیرتے۔
یعنی پانچ رکعت ایک تشہد سے پڑھتے، اور صرف آخری رکعت میں بیٹھتے تشہد پڑھتے اور سلام پھیرتے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1621
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَوْتِرْ بِخَمْسٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلَاثٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ، فَبِوَاحِدَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِيمَاءً".
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ”پانچ رکعت وتر پڑھو، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو تین رکعت پڑھ لو، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ایک رکعت ہی پڑھ لو، اس کی قوت نہ ہو تو اشارے سے پڑھ لو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1621]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «سفيان بن حسين ثقة في غير الزهري وروايته عن الزهري ضعيفة. ولكنه لم ينفرد بهذه الرواية وإنما توبع عليها كما في الطريق التاليه فصح الحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 1623] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1422] ، [نسائي 1712] ، [ابن ماجه 1190] ، [ابن حبان 2407]
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1422] ، [نسائي 1712] ، [ابن ماجه 1190] ، [ابن حبان 2407]
وضاحت: (تشریح حدیث 1620)
اس صحیح حدیث میں ایک رکعت وتر پڑھنے کا واضح ثبوت ہے، اس لئے ایک رکعت وتر کا انکار کرنا حدیث کی مخالفت ہے۔
اس صحیح حدیث میں ایک رکعت وتر پڑھنے کا واضح ثبوت ہے، اس لئے ایک رکعت وتر کا انکار کرنا حدیث کی مخالفت ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: سفيان بن حسين ثقة في غير الزهري وروايته عن الزهري ضعيفة. ولكنه لم ينفرد بهذه الرواية وإنما توبع عليها كما في الطريق التاليه فصح الحديث
حدیث نمبر: 1622
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل سابق روایت کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1622]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1624] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1623
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: "مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ، مَا قَدْ صَلَّى". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَأْخُذُ بِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دو دو رکعت ہے، پھر جب کوئی صبح ہو جانے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کو طاق بنا دے گی۔“ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ بھی یہ کہتے ہیں؟ کہا: ہاں۔ (یعنی ایک رکعت وتر پڑھنا درست ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1625] »
اس روایت کی سند جید اور یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور (1498) نمبر پر گذر چکی ہے۔
اس روایت کی سند جید اور یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور (1498) نمبر پر گذر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1621 سے 1623)
یعنی دو دو رکعت کر کے جتنی رکعت چاہے پڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحدید نہیں کی کہ کتنی رکعت پڑھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ سے زیادہ 13 رکعت پڑھی ہیں جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں گذر چکا ہے، لہٰذا اسی پر اکتفا کیا جائے تو سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق ہے، اور زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وسلم 11 رکعت ہی پڑھتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث میں بھی مذکور ہے۔
یعنی دو دو رکعت کر کے جتنی رکعت چاہے پڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحدید نہیں کی کہ کتنی رکعت پڑھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ سے زیادہ 13 رکعت پڑھی ہیں جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں گذر چکا ہے، لہٰذا اسی پر اکتفا کیا جائے تو سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق ہے، اور زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وسلم 11 رکعت ہی پڑھتے تھے، جیسا کہ اگلی حدیث میں بھی مذکور ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد ولكن الحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 1624
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعت نماز پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1626] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 626] ، [مسلم 736] ، [أبوداؤد 1336] ، [ترمذي 440] ، [نسائي 1695] ، [أبويعلی 4650] ، [ابن حبان 2431، 2467]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 626] ، [مسلم 736] ، [أبوداؤد 1336] ، [ترمذي 440] ، [نسائي 1695] ، [أبويعلی 4650] ، [ابن حبان 2431، 2467]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1625
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:"كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر میں «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى»، «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» اور «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» پڑھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1627] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 462] ، [نسائي 1701] ، [ابن ماجه 1172] ، [أبویعلی 2555]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 462] ، [نسائي 1701] ، [ابن ماجه 1172] ، [أبویعلی 2555]
وضاحت: (تشریح احادیث 1623 سے 1625)
ان احادیث سے پانچ، تین اور ایک رکعت وتر پڑھنا ثابت ہوا، لیکن پانچ وتر ایک سلام سے اور تین رکعت ایک تسلیم ایک تشہد سے پڑھتے تھے، اور دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیتے پھر ایک رکعت پڑھنے کا بھی ثبوت ہے، لیکن تین رکعت ملاکر دو تشہد ایک تسلیم سے پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔
نیز تین رکعت وتر میں مذکورہ بالا سورتیں پڑھنا سنّت ہے۔
ان احادیث سے پانچ، تین اور ایک رکعت وتر پڑھنا ثابت ہوا، لیکن پانچ وتر ایک سلام سے اور تین رکعت ایک تسلیم ایک تشہد سے پڑھتے تھے، اور دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیتے پھر ایک رکعت پڑھنے کا بھی ثبوت ہے، لیکن تین رکعت ملاکر دو تشہد ایک تسلیم سے پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔
نیز تین رکعت وتر میں مذکورہ بالا سورتیں پڑھنا سنّت ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح