🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب: «لاَ حِلْفَ في الإِسْلاَمِ» :
اسلام میں ظلم و ستم کا عہد و پیمان نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2562
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لِشَرِيكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟. قَالَ: نَعَمْ "لا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَالْحِلْفُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً وَحِدَّةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، شریک سے کہا گیا: کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی؟ کہا: ہاں، اسلام میں عہد و پیمان نہیں ہے (یعنی ایسا معاہدہ کہ ظلم و ستم اور حق بات ہر دو حالت میں مدد کریں گے) اور جاہلیت میں جو عہد و پیمان ہوتے تھے اسلام نے اس میں سختی و سنجیدگی زیادہ کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2562]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2568] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن دیگر اسانید سے یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 2336] ، [ابن حبان 4370] ، [الموارد 2061]
وضاحت: (تشریح حدیث 2561)
اپنا حق لینے یا اپنی جان و مال کا دفاع کرنے پر عہد و پیمان درست ہے، لیکن کوئی ظلم کرے، زبردستی کسی کا مال ہڑپ کرے، قتل و غارتگری کرے تو اس طرح کا عہد و پیمان اور معاہدہ اسلام میں جائز نہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. باب في مَوْلَى الْقَوْمِ وَابْنُ أُخْتِهِمْ مِنْهُمْ:
کسی قوم کا مولیٰ اور بھانجا اسی قوم کا فرد ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2563
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ: أَكَانَ أَنَسٌ يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ: "ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ؟". قَالَ: نَعَمْ.
شعبہ نے کہا: میں نے معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعمان بن مقرن کے لئے فرمایا: قوم کی بہن کا بیٹا قوم کا ہی فرد ہے۔ کہا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2569] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3528] ، [مسلم 1059] ، [أبويعلی 3002] ، [ابن حبان 4501]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
کثیر بن عبداللہ نے اپنے والد، انہوں نے ان کے دادا سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا مولیٰ انہیں میں سے ہے، اور قوم کا حلیف بھی انہیں میں سے ہے، اور بہن کا بیٹا بھی انہیں میں سے ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2564]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف، [مكتبه الشامله نمبر: 2570] »
کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبراني 12/17، 2] ، [مجمع الزوائد 957] ، [نصب الراية 148/4] ، [تلخيص الحبير 214/4]
وضاحت: (تشریح احادیث 2562 سے 2564)
یعنی کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم کا فرد ہے، اور بھانجا بھی قوم کا ہی فرد۔
بخاری و مسلم شریف میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو جمع کیا اور کہا: تم میں غیر قوم کا کوئی آدمی تو نہیں ہے؟ عرض کیا کہ ہماری بہن کا بیٹا ہے، فرمایا: بھانجا تو قوم کا ہی ایک فرد ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. باب في الذي يَنْتَمِي إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ:
جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: "مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، رَغْبَةً عَنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے پاس تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: جو شخص کراہت کی وجہ سے اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا بنے یا اپنے مالک کے سوا دوسرے کا غلام بنے تو اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی، نہ اسکا نفل قبول ہوگا نہ فرض۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2565]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2571] »
اس روایت کی سند شہر بن حوشب کی وجہ سے حسن ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2121] ، [نسائي 3671] ، [ابن ماجه 2712] ، [أبويعلی 1508] ، [طبراني 33/12 -33، 60] ، [سعيد بن منصور 428] ، [ابن أبى شيبه 10766] ، [عبدالرزاق 16306] ، [دارقطني 153/4، وغيرهم] . اس حدیث کا طرفِ اول اس طرح ہے: «إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ لِكُلِّ وَارِثٍ نَصِيْبَهُ مِنَ الْمِيْرَاثِ، وَلَا يَجُوْزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2566
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ وَأَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُمَا حَدَّثَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ".
سیدنا سعد اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کا دعویٰ کرے، جنت اس پر حرام ہے۔ (یعنی جو شخص غیر کو اپنا باپ بتائے وہ جنت میں داخل نہ ہوگا)۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2566]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأبو عثمان هو: عبد الرحمن بن مل، [مكتبه الشامله نمبر: 2572] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4326، 4327] ، [مسلم 2902] ، [أبوداؤد 5113] ، [ابن حبان 415]
وضاحت: (تشریح احادیث 2564 سے 2566)
اپنے حقیقی باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرے فرد کی طرف نسبت کرنا اور اسے اپنا باپ بنانا انتہائی گھناؤنا امر ہے، اور یہ بہت بڑا گناہ ہے، ایسے شخص پر جنّت حرام ہے، اور الله اور فرشتوں کی اس پر لعنت ہے، اور اس کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہ ہوگا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں