سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب مَنْ قَرَأَ خَمْسِينَ آيَةً:
جو شخص پچاس آیات پڑھے اس کی فضیلت
حدیث نمبر: 3478
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِخَمْسِينَ آيَةً، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے کسی رات میں پچاس آیات پڑھیں وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3478]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3489] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن موقوف ہے۔ اور اس کو ابن ابی شیبہ نے [ابن أبى شيبه 508/10، 10135] اور طبرانی نے [المعجم الكبير 158/9، 8727] میں روایت کیا ہے۔ نیز آگے بھی یہ روایت آ رہی ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 3658]
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن موقوف ہے۔ اور اس کو ابن ابی شیبہ نے [ابن أبى شيبه 508/10، 10135] اور طبرانی نے [المعجم الكبير 158/9، 8727] میں روایت کیا ہے۔ نیز آگے بھی یہ روایت آ رہی ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 3658]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3479
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَا: "مَنْ قَرَأَ بِخَمْسِينَ آيَةً فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْحَافِظِينَ".
سیدنا تمیم داری اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہما نے کہا: جو ایک رات میں پچاس آیات پڑھے گا وہ حفاظ میں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3479]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 3490] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے اس لئے ضعیف ہے۔
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے اس لئے ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه
28. باب مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ:
جو شخص سو آیات پڑھ لے اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمٍ أَخِي أُمِّ الدَّرْدَاءِ فِي اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَكَانَ سَالِمٍ: رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ.
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایک رات میں سو آیات پڑھ لیں وہ غافلین (قرآن سے غفلت برتنے والوں) میں نہیں لکھا جائے گا۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: بعض رواۃ نے ”سالم“ کے بجائے راشد بن سعد کا نام ذکر کیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3480]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جدا ويشبه أن يكون موضوعا محمد بن القاسم كذبوه وموسى ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3491] »
اس روایت کی سند بہت ضعیف، بلکہ موضوع بھی ہو سکتی ہے کیوں کہ محمد بن القاسم امام دارمی رحمہ اللہ کے استاذ کی بعض محدثین نے تکذیب کی ہے، اور موسیٰ بن عبیدہ اس کی سند میں ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 3656]
اس روایت کی سند بہت ضعیف، بلکہ موضوع بھی ہو سکتی ہے کیوں کہ محمد بن القاسم امام دارمی رحمہ اللہ کے استاذ کی بعض محدثین نے تکذیب کی ہے، اور موسیٰ بن عبیدہ اس کی سند میں ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 3656]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف جدا ويشبه أن يكون موضوعا محمد بن القاسم كذبوه وموسى ضعيف
حدیث نمبر: 3481
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِمِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس شخص نے ایک رات میں سو آیات پڑھیں وہ قانتین میں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3481]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3492] »
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔ پیچھے (3476) میں دس آیات کا ذکر ہے، یہاں سو آیات کا ذکر ہے، غافلین میں نہ لکھا جائے گا، یہاں ہے قانتین میں لکھا جائے گا، یعنی متن مضطرب ہے۔ آگے بھی (3489) پر ایسی ہی روایت آ رہی ہے۔
اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔ پیچھے (3476) میں دس آیات کا ذکر ہے، یہاں سو آیات کا ذکر ہے، غافلین میں نہ لکھا جائے گا، یہاں ہے قانتین میں لکھا جائے گا، یعنی متن مضطرب ہے۔ آگے بھی (3489) پر ایسی ہی روایت آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3482
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ".
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک رات میں سو آیات پڑھیں اس کے لئے ایک رات کا قنوت لکھا جائے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3482]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن إن كان سليمان سمعه من كثير، [مكتبه الشامله نمبر: 3493] »
اس روایت کی سند میں کلام ہے، لیکن بعض دیگر اسانید حسن کے درجہ کو پہنچتی ہیں۔ دیکھئے: [أحمد 103/4] ، [طبراني فى الكبير 50/2، 1352] و [ابن السني فى عمل اليوم و الليلة 438]
اس روایت کی سند میں کلام ہے، لیکن بعض دیگر اسانید حسن کے درجہ کو پہنچتی ہیں۔ دیکھئے: [أحمد 103/4] ، [طبراني فى الكبير 50/2، 1352] و [ابن السني فى عمل اليوم و الليلة 438]
وضاحت: (تشریح احادیث 3477 سے 3482)
قنت کے معنی اطاعت کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا، اور عاجزی و گریہ زاری کرنا ہے، اور قانتین کا مطلب اطاعت گذار اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے ہیں۔
قرآن پاک میں ہے: «﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾ [البقرة: 238] » یعنی اللہ کے سامنے (نماز میں) خاموشی سے کھڑے رہو، اور مؤمنین کی ایک صفت «﴿وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ﴾ [الأحزاب: 35] » بھی ہے۔
قنت کے معنی اطاعت کرنا، خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنا، اور عاجزی و گریہ زاری کرنا ہے، اور قانتین کا مطلب اطاعت گذار اور خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے ہیں۔
قرآن پاک میں ہے: «﴿وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ﴾ [البقرة: 238] » یعنی اللہ کے سامنے (نماز میں) خاموشی سے کھڑے رہو، اور مؤمنین کی ایک صفت «﴿وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ﴾ [الأحزاب: 35] » بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن إن كان سليمان سمعه من كثير
حدیث نمبر: 3483
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ كَعْبٌ: "مَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے سو آیات پڑھ لیں وہ قانتین (اطاعت گزاروں) میں لکھ لیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3483]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه أبو صالح ما عرفنا له رواية عن كعب فيما نعلم والله أعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 3494] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لیکن دوسری سند سے اس کو تقویت ملتی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10133]
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، لیکن دوسری سند سے اس کو تقویت ملتی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10133]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه أبو صالح ما عرفنا له رواية عن كعب فيما نعلم والله أعلم
حدیث نمبر: 3484
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَا: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
سیدنا تمیم داری اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا: جس نے رات میں سو آیات پڑھیں وہ قانتین میں لکھ لیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3484]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه. ولكن الحديث حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3495] »
اس اثر کی سند میں بھی انقطاع ہے، لیکن دیگر اسانید سے حسن کے درجہ کو پہنچتی ہے جیسا کہ پیچھے تخریج میں گذر چکا ہے۔
اس اثر کی سند میں بھی انقطاع ہے، لیکن دیگر اسانید سے حسن کے درجہ کو پہنچتی ہے جیسا کہ پیچھے تخریج میں گذر چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه. ولكن الحديث حسن
حدیث نمبر: 3485
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِمِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے رات میں سو آیات پڑھ لیں وہ قانتین میں لکھ دیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3485]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3496] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن موقوف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10135]
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن موقوف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10135]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3486
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: "مَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ".
حبیب بن عبید نے کہا: میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: جس نے سو آیات پڑھیں وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3486]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو موقوف على أبي أمامة، [مكتبه الشامله نمبر: 3497] »
اس اثر موقوف کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الطبراني فى الكبير 211/8، 7748]
اس اثر موقوف کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الطبراني فى الكبير 211/8، 7748]
وضاحت: (تشریح احادیث 3482 سے 3486)
یہ تمام آثار و اقوال ہیں، اس میں شک نہیں کہ رات میں قرآن پاک پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے، اور قرآن پاک جس وقت بھی جتنا بھی پڑھا جائے باعثِ خیر و برکت ہے۔
«جعلنا اللّٰه وإياكم من التالين لكتابه» آمین۔
یہ تمام آثار و اقوال ہیں، اس میں شک نہیں کہ رات میں قرآن پاک پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے، اور قرآن پاک جس وقت بھی جتنا بھی پڑھا جائے باعثِ خیر و برکت ہے۔
«جعلنا اللّٰه وإياكم من التالين لكتابه» آمین۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وهو موقوف على أبي أمامة
29. باب مَنْ قَرَأَ بِمِائَتَيْ آيَةٍ:
جو شخص دو سو آیات پڑھے اس کی فضیلت
حدیث نمبر: 3487
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا حَرِيزٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: "مَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
حبیب بن عبید نے کہا: میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: جو دو سو آیت پڑھے وہ قانتین میں لکھا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3487]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3498] »
یہ اثر موقوف على سیدنا ابی امامہ رضی اللہ عنہ ہے اور سند صحیح ہے۔ اوپر سو آیات کی روایت گذر چکی ہے۔ طبرانی نے اس کو تفصیل کے ساتھ [المعجم الكبير 211/8، 7748] میں ذکر کیا ہے لیکن اس کی سند ضعيف جدا ہے۔
یہ اثر موقوف على سیدنا ابی امامہ رضی اللہ عنہ ہے اور سند صحیح ہے۔ اوپر سو آیات کی روایت گذر چکی ہے۔ طبرانی نے اس کو تفصیل کے ساتھ [المعجم الكبير 211/8، 7748] میں ذکر کیا ہے لیکن اس کی سند ضعيف جدا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح